1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

جرمنی: اسلام مخالف تحریک پیگیڈا کا بانی عدالت میں

جرمنی میں اسلام مخالف تحریک پیگیڈا کے بانی کو آج عدالت میں پیش کیا جا رہا ہے۔ ان پر نفرت انگیز بیانات کا الزام عائد کیا گیا ہے۔ اسلام مخالف رہنما باخ مان نے سوشل میڈیا پر مہاجرین کو ’’مویشی‘‘ اور ’’فضلہ‘‘ کہا تھا۔

لوٹس باخمان انتہائی دائیں بازو کی جماعت پیگیڈا ’’مغرب کی اسلامائزیشن کے خلاف محب وطن یورپی‘‘ کے بانی ہیں۔ گزشتہ برس اکتوبر میں اس رہنما پر نسلی بنیادوں پر نفرت انگیز تبصرے کرنے کا الزام عائد کیا گیا تھا جبکہ سوشل میڈیا پر یہ بیانات بڑے پیمانے پر شیئر بھی کیے گئے تھے۔ اگر باخمان کے خلاف عائد کردہ الزامات سچ ثابت ہو جاتے ہیں تو اس اسلام مخالف رہنما کو تین ماہ سے پانچ برس قید کی سزا سنائی جا سکتی ہے۔

عائد کردہ الزامات کے مطابق اس تینتالیس سالہ لیڈر کے بیانات سے ’’امن عامہ میں خلل واقع‘‘ ہوا جبکہ یہ تبصرے مہاجرین کے ’’وقار‘‘ کے بھی منافی تھے۔ اس مقدمے کی کارروائی انتہائی سخت سکیورٹی میں جرمنی کے شہر ڈریسڈن میں منعقد کی جا رہی ہے جبکہ اسلام مخالف پیگیڈا جماعت کی جائے پیدائش بھی یہی شہر ہے۔ یہ جماعت نہ صرف مسلمانوں بلکہ جرمن چانسلر انگیلا میرکل کی مہاجرین سے متعلق لبرل پالیسی کے بھی خلاف ہے۔

آج استغاثہ کو یہ ثابت کرنا ہوگا کہ نفرت انگیز تبصرے واقعی باخمان نے پوسٹ کیے تھے۔ نسل پرستانہ ان تبصروں کو شہرت ملنے کے بعد اس رہنما کی چند ایسی تصاویر منظر عام پر آئی تھیں، جن میں اس رہنما نے اپنہ حلیہ نازی رہنما ہٹلر جیسا بنا رکھا تھا۔ ان تصاویر کے منظر عام پر آنے کے بعد اس لیڈر کی شہرت میں کمی آنا شروع ہو گئی تھی۔

Deutschland Pegida Demonstration in Mainz

پیگیڈا ہفتہ وار بنیادوں پر ریلیوں کا انعقاد کرتی آ رہی ہے اور اس کا مرکزی موضوع مسلم ممالک سے جرمنی آنے والے مہاجرین اور اسلام ہے

پیگیڈا ہفتہ وار بنیادوں پر ریلیوں کا انعقاد کرتی آ رہی ہے اور اس کا مرکزی موضوع مسلم ممالک سے جرمنی آنے والے مہاجرین اور اسلام ہے۔ باخمان اپنی تقریروں میں ان مہاجرین کو ’’مجرم حملہ آور‘‘ کہتے آئے ہیں جبکہ ان کا کہنا تھا کہ ملکی سیاستدان ’’غدار‘‘ ہیں اور ملکی میڈیا ’’جھوٹا میڈیا‘‘ ہے۔

تحقیقات کے آغاز کے بعد باخ مان پیگیڈا تحریک کی صدارت سے مستعفی ہو گئے تھے اور آج کی عدالتی کارروائی بھی ان کے خلاف کوئی پہلی کارروائی نہیں ہے۔ انیس سو اٹھانوے میں اس رہنما پر سولہ چوریوں کے مقدمات قائم ہوئے تھے اور چار سال قید کی سزا بھی سنائی گئی۔ اس کے بعد باخ مان ساؤتھ افریقہ فرار ہو گئے۔ وہاں پر ویزہ ختم ہونے کی بنیاد پر اس رہنما کو ملک بدر کر دیا گیا۔ اس کے بعد جرمنی میں ضمانت پر رہائی سے پہلے باخمان کو چودہ ماہ کی قید ڈریسڈن کی جیل میں کاٹنا پڑی تھی۔

اس کے بعد کوکین رکھنے کے الزام اور اپنے بیٹے کا نان نفقہ ادا نہ کرنے کی بنیاد پر بھی باخمان کو عدالتی کارروائی کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ تاہم باخمان کے حامیوں کو نہ تو ان کے مجرمانہ ماضی اور نہ ہی آج کی عدالتی کارروائی کی پرواہ ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق باخمان ابھی بھی پیرول پر ہیں اور اس مرتبہ واقعی انہیں جیل کی ہوا کھانا پڑ سکتی ہے۔