1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

جرمنی: اسلام مخالف تحریک پیگیڈا کا ایک سال مکمل

اسلام مخالف تحریک، پیگیڈا اس سال کے آغاز میں مکمل طور پر غیر فعال ہو چکی تھی۔ تاہم مہاجرین کے حالیہ بحران نے اس تحریک کو ایک مرتبہ پھر زندہ کر دیا ہے۔ پیگیڈا کا خیال ہے کہ غیر ملکی ان کے وطن پر قابض ہو سکتے ہیں۔

کئی ماہ تک غیر فعال رہنے کے بعد یہ تحریک جرمن شہر ڈریسڈن کی گلیوں میں زیادہ غصے اور انتقامی جذبے کے ساتھ واپس آ گئی ہے، یوں لگتا ہے جیسے مہاجرین کے موجودہ بحران نے اس تحریک میں ایک نئی روح پھونک دی ہے۔ گزشتہ ہفتے پیگیڈا کے مظاہرین نے ايک ريلی ميں جرمن چانسلر انگیلا میرکل کو مہاجرین دوست پالیسی اپنانے پر’غدار‘ اور ’جرمن عوام کی مجرم‘ قرار دیا تھا۔ ایک بینر پر درج تھا: ’میرکل جرمن نسل کے خاتمے کی کوشش کی مجرم ہیں‘۔

گزشتہ سال بیس اکتوبر کو جب پیگیڈا نے پہلی مرتبہ تحریک کے ہفتہ وار مظاہرے کا انعقاد کیا تو اس میں چند سو افراد ہی شریک ہوئے تھے۔ تاہم رواں برس جنوری میں فرانسیسی طنزیہ ہفت روزہ چارلی ایبدو پر کیے گئے حملے کے بعد پیگیڈا کے ارکان کی تعداد 25000 تک پہنچ گئی تھی۔

پیگیڈا کی شدت پسند تحریک نے جرمن معاشرے میں تشویش پیدا کر دی تھی اور ملک بھر میں اس تحریک کی مخالفت میں بھی ہزاروں جرمن شہری سڑکوں پر نکل آئے تھے۔ رواں برس کے آغاز ہی میں پیگیڈا کی بڑھتی مقبولیت اس وقت دم توڑ گئی تھی جب تحریک کے روح رواں اور شریک بانی، لُٹس باخ مان نے سوشل میڈیا پر اپنی ایسی تصویر پوسٹ کی جس میں وہ ہٹلر کی مونچھوں اور بالوں کا اسٹائل اپنائے ہوئے تھے۔ بیالیس سالہ باخ مان پر کچھ عرصہ قبل مہاجرین کے ليے ’جانور‘، ’کچرا‘ اور ’گندگی‘ جیسے الفاظ استعمال کرنے پر نسل پرستی اور مظاہرین کو اکسانے کا الزام عائد کیا گیا تھا۔

ان واقعات کے بعد پیگیڈا اور اس جیسے دیگر چھوٹے گروپ جرمنی کی سڑکوں اور اخبارات کی شہ سرخیوں سے مکمل طور پر غائب ہو گئے تھے۔ یوں لگ رہا تھا جیسے اس تحریک کا اب کوئی وجود باقی نہ ہو۔ تاہم حالیہ مہینوں میں لاکھوں کی تعداد میں پناہ گزینوں کی جرمنی آنے کے بعد اس تحریک کو بھی نئی زندگی مل گئی ہے۔

فرنچ انسٹیٹیوٹ فار انٹرنیشنل ریلیشنز سے وابستہ تجزیہ کار نیلا وسمان کے مطابق جرمن چانسلر انگیلا میرکل کی جانب سے لاکھوں پناہ گزینوں کو جرمنی آنے کی اجازت دینے کا فیصلہ، پیگیڈا کے لیے ایک ’اہم موڑ‘ ثابت ہوا۔ ٹیلی وژن اسکرینوں پر ایسے مناظر جن میں مہاجرین سے کھچا کھچ بھری ٹرینوں کی آمد اور انہیں خوش آمدید کہتے، کپڑے اور کھانا فراہم کرتے جرمن شہری دکھائی دیے، پیگیڈا کے پیروکاروں کے لیے ناقابل قبول تھے۔ اسی لیے وہ پہلے سے زیادہ منظم اور جوش و خروش سے سڑکوں پر آنے کی کوشش میں ہیں اور مختلف گروپ دوبارہ باخ مان کی قیادت میں متحد ہو رہے ہیں۔

تاہم ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ یہ تحریک اب زیادہ بنیاد پرست اور مزید شدت پسند ہو رہی ہے جس کا عملی مظاہرہ اس کے اراکین کی جانب سے پولیس، صحافیوں اور پناہ گزینوں کے شیلٹر ہاؤسز پر حملوں کی صورت میں دیکھا جا سکتا ہے۔ وسمان کے مطابق ’’یہ بہت سنگین معاملہ ہے۔‘‘

جرمن پولیس یونین کے سربراہ رائنر ونڈٹ کا کہنا ہے کہ پولیس کو پیگیڈا پر گہری نظر رکھنی ہو گی تاکہ ان کی جانب سے ممکنہ ’’منظم دہشت گردی سے بچا جا سکے۔‘‘ 2011ء میں جرمنی کو اس وقت دھچکا لگا جب یہ انکشاف ہوا تھا کہ نیو نازیوں کا نیشنل سوشلسٹ انڈرگراؤنڈ (این ایس یو) نامی ڈیتھ اسکواڈ سات سال سے غیر ملکیوں کو قتل کر رہا تھا۔ این ایس یو نے اس عرصے میں 10 لوگوں کو قتل کیا جن میں سے 9 مہاجرین تھے۔ ونڈٹ کے مطابق ’’ایک نئی این ایس یو نہیں بننے دینا چاہیے۔‘‘

Dresden Pegida Demonstration Anti Merkel Plakat

پیگیڈا کی ریلی میں ایک بینر پر درج ہے: ’میرکل کو جانا ہو گا‘

دوسری جانب بعض ماہرین کا خیال ہے کہ پیگیڈا کا واپس سڑکوں پر آنا کوئی بڑی بات نہیں ہے۔ پيگیڈا کے تازہ ترين مظاہرے میں صرف 9000 افراد شامل ہوئے۔ اس کے برعکس گزشتہ ہفتے برلن میں یورپی یونین اور امریکہ کے مابین مجوزہ تجارتی معاہدے کے خلاف ہونے والے ایک مظاہرے میں 150000 افراد شریک ہوئے تھے۔

جرمن مارشل فنڈ نامی تھنک ٹینک سے وابستہ تجزیہ کار ٹیمو لوکوکی کا کہنا ہے کہ میرکل کی مقبولیت میں کمی کے باوجود یہ بات واضح ہے کہ جرمن عوام کی اکثرت دائیں بازو کے شدت پسندوں کی جانب مائل نہیں ہے۔ لوگوں کو اعتبار ہے کہ میرکل حکومت مہاجرین کے بحران سے نمٹ سکتی ہے۔

انتہائی دائیں بازو کی سیاسی جماعت اے ایف ڈی کو پیگیڈا تحریک اور مہاجرین کے بحران کے باعث کچھ مقبولیت ضرور حاصل ہوئی ہے۔ تاہم لوکوکی کے مطابق، ’’اے ایف ڈی دو پوائنٹس اضافے کے بعد 7 فیصد تک مقبولیت حاصل کر چکی ہے تاہم حکومتی اتحاد 41 سے کم ہو کر 38 فیصد تک رہ گيا ہے۔ لیکن اس کے باوجود اعداد و شمار اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ جرمن ووٹرز اب تک مرکزی دھارے کی سیاسی جماعتوں پر ہی اعتماد کر رہے ہیں۔‘‘

ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ پیگیڈا مستقبل کا انحصار اس بات پر ہے کہ جرمن حکومت مہاجرین کے اس تاریخی بحران سے کس طرح نبرد آزما ہوتی ہے۔ ڈریسڈن ٹیکنیکل یونیورسٹی سے وابستہ ورنر پاٹزلٹ کے مطابق پیگیڈا ’’مرکزی دھارے میں شامل سیاسی جماعتوں کے خلاف ایک مزاحمتی تحریک بن کر سامنے آئی ہے جو مستقبل میں انتہائی دائیں بازو کی سیاسی جماعت کی شکل بھی اختیار کر سکتی ہے۔‘‘