1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

جرمنی، اسرائیل تعلقات اور غزہ کا مسئلہ

جرمن عوام کے اندر بھی اس بارے میں جذبات پائے جاتے ہیں تاہم جرمن پالیسی سازاس دیرینہ تنازعہ کے حل کی سفارتی کوششوں کی صف اول میں شامل ہونے سے بہت محتاط انداز میں گریزکررہے ہیں۔

default

دوسری جنگ عظیم کے بعد 1949میں قائم ہونے والے موجودہ جرمنی کی خارجہ پالیسی کا اہم نکتہ اسرائیل کی سلامتی کا تحفظ ہے۔

غزہ دنیا کے سب سے زیادہ گنجان آباد علاقوں میں سے ایک ہے۔ اس پراسرائیلی فوجی حملوں کی شدت سے دنیاء کے بہت سے خطے کے لوگوں کو دھچکہ لگا ہے۔

اسرائیل کے مطابق غزوہ پراس کے حملے کا مقصد اسرائیلی شہروں اورگرد و پیش کے علاقوں پرفلسطینی راکٹوں کے حملے کا خاتمہ ہے۔ جرمنی میں، غزہ میں بڑی تعداد میں ہونے والی ہلاکتوں اور اسرائیلی فوجی اقدام کی تباہکاریوں سے جرمن عوام کو دھچکہ لگا ہے اور اس بارے میں جو عوامی جذبات پائے جاتے ہیں ان کا اظہار اکثرانسانی حقوق کے گروپس اوراپوزیشن جماعتوں خاص طور سے گرین پارٹی کی طرف سے ہو رہا ہے۔

Deutschland Israel Zipi Livni bei Frank-Walter Steinmeier

جرمن وزیر خارجہ فرانک والٹر اشٹائن مائر اسرائیلی ہم منصب زپی لیونی کے ہمراہ

جرمن گرین پارٹی کی روتھ نے کہا :’’ ہم روزانہ غزہ میں بڑھتی ہوئی تعداد میں اموات کی خبریں سن رہے ہیں غزہ کی ناکہ بندی کی وجہ سے لوگوں کو خوراک اور ادویات نہیں مل پا رہی ہیں ۔ یہ ایک غلط طریقہ کار ہے مجھے اندیشہ ہے کہ یہ زمینی اسرائیلی حملہ تشدد میں اضافہ ہے اور اس سے لبنان کی جنگ کی طرح کی ناقابل حل صورت حال پیدا ہو جائے گی۔

جرمنی کی بائیں بازو کی پارٹی ڈی لنکے مغربی جرمنی کے بائیں بازو کے رجحانات رکھنے والوں اور مشرقی جرمنی کی کمیونسٹ پارٹی کے بقیہ عناصر کا اتحاد ہے اس نے تین جنوری کو غزہ میں اسرائیلی فوجی کارروائی کے آغاز کے بعد جرمن حکومت سے یہ مطالبہ کیا کہ جنگ بندی کرانے کی سفارتی کارروائیوں میں ایک بہت فعال کردار ادا کرے وولف گانگ گیئرکے نے کہا: ’’فرانسیسی وزیر خارجہ اسرائیل جا رہے ہیں آخر جرمن وزیر خارجہ وہاں کیوں نہیں جاتے۔ فلسطینیوں اور اسرائیلیوں کے پیچیدہ تعلقات میں ثالثی کرانے کے سلسلے میں بھی جرمنی کی ایک قدیم روایت ہے۔ جرمن وزیر خارجہ کو تل ابیب میں ہونا چاہئے تھا انہیں رملہ میں میں ہونا چاہئے تھا یعنی دریائے اردن کے مغربی کنارے پر۔‘‘

Nahostreise Außenminister Frank-Walter Steinmeier in Ägypten mit dem Palästinenserpräsident Mahmud Abbas

جرمن وزیر خارجہ نے مشرق وسطی کے دورے میں مصری صدر حسنی مبارک سے بھی ملاقات کی

جرمن وزیر خارجہ فرانک والٹر شٹائن مائر نے غزہ پر اسرائیلی فوج کی زمینی حملے پر ردعمل ظاہر کرنے کے لئے سولہ گھنٹوں کا وقت لیا جوکہ فوری ردعمل اور سفارتی حرکت والی آج کی جدید دنیا میں واقعی ایک بہت طویل وقت ہے۔ جرمن حکومت کا موقف یہ ہے کہ اسرائیل اور انتہا پسند فلسطینی تنظیم حماس کے درمیان تنازعہ اس وقت تک حل نہیں ہو سکتا جب تک کہ اسرائیل کے سلامتی کے بارے میں خدشات دور نہیں کر دئے جاتے۔

جرمن حکومت کا خیال ہے کہ یہ اسی وقت ممکن ہے کہ جب سن 2006 کے انتخابات جیتنے کے بعد سے غزہ پر حکومت کرنے والی تنظیم حماس اسرائیلی شہروں اور بستیوں پر راکٹوں کے حملے بند کر دے۔ چانسلر میرکل نے بھی کہا ہے کہ جرمنی غزہ میں اسلحے کی اسمگلنگ کو روکنے کے بین الاقوامی اقدامات کی حمایت کرے گا۔ ان کی پارٹی کے خارجہ امور کے ترجمان فان کلیڈن واضح طور پر یہ محسوس کرتے ہیں کہ جنگ بندی ہونے سے پہلے حماس کو اسلحہ سے محروم کر دینا ضروری ہے اس کے بغیر جنگ بندی بیکار ہو گی انہوں نے کہا :’’ یہ خدشات پائے جاتے ہیں کہ اگر پھر جنگ بندی ہوئی تو تاریخ خود کو دہرائے گی حماس اس وقفہ کو زیادہ بہتر راکٹوں سے مسلح ہونے کے لئے استعمال کرے گی۔ اس کے بعد اس قسم کا فوجی آپریشن ممکن نہیں ہو سکے گا۔ حماس اسرائیل کو تباہ کرنے کے سیاسی ہدف سے قریب تر ہو جائے گی۔ اسرائیلی حکومت کو اسے روکنا ہو گا۔ یہ اس کا فرض ہے اگرچہ اشائن مائر کی سوشل ڈیموکریٹک پارٹی بھی اسرائیل کی سلامتی کے تقاضوں کو ہر چیز پر فوقیت دیتی ہے لیکن اس کے مشرق وسطیٰ کے امور کے ترجمان میوٹسے نش کو اس میں شک ہے کہ غزہ پر اسرائیلی حملوں کا مطلوبہ نتیجہ نکلے گا۔ انہوں نے کہا :’’ اسرائیل کے زمینی حملے کا مقصد کیا ہے؟ ممکن ہے کہ اسرائیل اس جنگ میں تسبتا جلد ہی کامیابی حاصل کر لے لیکن کیا اسرائیل تحفظ حاصل کر لے گا۔ ہم لبنان کی جنگ میں بھی دیکھ چکے ہیں کہ حزب اللہ کی قوت کم نہیں ہوئی بلکہ وہ پہلے سے زیادہ طاقت ور ہو گئی۔ مجھے اندیشہ ہے کہ حماس کے سلسلے میں بھی ایسا ہی ہو گا۔ اسرائیل کی سلامتی کسی حال میں بہتر نہیں ہو گی۔

اس دوران جرمن وزیر خارجہ اشٹائن مائر نے اندرون ملک تنقید پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے مشرق وشطی کا ایک مختصر دورہ کیا ہے جس کے دوران وہ مصر اور اسرائیل گئے۔ یہ کوئی تعجب کی بات نہیں کہ ان کی سب سے زیادہ توجہ اسرائیل کی سلامتی پر رہی۔ قاہرہ میں انہوں نے مصر کے صدر حسنی مبارک کو بتایا کہ جرمن حکومت غزہ میں اسلحے کی اسمگلنگ کو روکنے کے لئے تکنیکی مدد دینے کو تیار ہے۔ اسرائیل میں انہوں نے اسرائیلی فوجی کارروائی کے بارے میں خود اپنی پارٹی میں کی جانے والی تنقید کے اظہار اور جنگ بندی کی حمایت میں دوسرے یورپی ملکوں کے موقف کے اظہار سے گریز کیا۔ انہوں نے صرف یہ کہا کہ جہاں تک جنگ بندی کا تعلق ہے تو وہ اس بارے میں پر امید ہیں۔ جرمنی میں بعض لوگوں کو یقینا ان سے زیادہ پر زور الفاظ کی توقع ہو گی۔

Ehud Olmert bei Angela Merkel

جرمن چانسلر اینگلا میرکل اور اسرائیلی وزیر اعظم ایہود اولمرٹ

دوسری جنگ عظیم کے بعد 1949میں قائم ہونے والے موجودہ جرمنی کی خارجہ پالیسی کا اہم نکتہ اسرائیل کی سلامتی کا تحفظ ہے۔ جرمن پالیسی کی بنیاد ایک غیر متزلزل عزم ہے اس کا تعلق ماضی کے نازی دور کے تاریخی واقعات سے ہے۔ ایڈولف ہٹلر کے زیر حکمرانی، جرمنی نے یورپ میں تقریبا چھ ملین یہودیوں کو قتل کیا تھا۔ 1933 سے لے کر 1945 تک حکومت کرنے والے نازیوں نے دوسری عالمی جنگ شروع کی تھی جس نے تقریبا ساٹھ ملین انسانوں کو لقمہ اجل بنایا۔ نازیوں نے جرمنی اور مشرقی یورپ میں موت کے کیمپوں کا جال بچھا دیا تھا جن میں لاکھوں یہودیوں، خانہ بدوشوں، معذوروں اور مخالفین کو باقاعدہ طور پر لوٹا اور قتل کیا گیا۔ جنگ کے خاتمے اور نیورمبرگ کی عدلت میں اکثر نازی رہنماؤن پر چلائے جانے والے مقدمات اور ان کو موت کی سزائیں دئے جانے کے باوجود جرمنی میں نازیوں کے مظالم کے بارے میں ایک عمومی احساس جرم پایا جاتا ہے۔ یہ احساس جرم جنگ کے بعد کے جرمنی کے شروع کے برسوں میں بہت نمایاں تھا بعد از جنگ جرمنی کے پہلے چانسلر کونراڈ اڈنوا نے اس کو سمجھا کہ جرمنی کو یورپ کے یہودیوں کو مکمل طور پر مٹا دینے کی کوششوں کا قصور ماننا ہو گا۔ انہوں نے کہا تھا: ’’ ہمیں نازیوں کے ہاتھوں یہودیوں کے ساتھ ہونے والی ناانصافی کا ازالہ کرنا تھا، جہاں تک اور جس مکمل حد تک یہ پیسے کے ذریعے ممکن تھا۔‘‘

اسرائیلی رہنماؤں کے ساتھ طویل مذاکرات کے بعد جرمنی معاوضے کے طور پر اسرائیلی ریاست کو ایک اعشاریہ تہتر ارب یورو ادا کرنے پر تیار ہو گیا اگرچہ تمام متعلقہ فریقوں کو اس کا تکلیف دہ احساس تھا کہ پیسہ ان بھیانک زیادتیوں کی تلافی نہیں کر سکتا جو کی گئیں تھیں لیکن اسرائیلی وزیراعظم ڈیوڈ بن گوریان نے 1965 میں جرمنوں کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کر لئے۔ انہوں نے کہا کہ جنگ کے بعد کا جرمنی اب نازی جرمنی نہیں رہا۔ انہوں نے کہا کہ جرمن عوام اب بدل چکے تھے۔ پچھلے چار عشروں کے دوران جرمن اسرائیلی تعلقات مسلسل بہتر ہوئے ہیں تاہم جرمنی نے کبھی بھی اس اخلاقی ذمہ داری کو فراموش نہیں کیا ہے جو نازی دور میں یہودیوں کے قتل عام کی وجہ سے اس پر عائد ہوتی ہے۔ چانسلر انگیلا میرکل نے کہا :’’جرمن کی حیثیت سے ’شواح‘ ہمارے لئے بہت شرم کا باعث ہے۔ میں نازیوں کے ہاتھوں مرنے والوں کے سامنے سر جھکاتی ہوں۔ میں بچنے والوں کے سامنے سر جھکاتی ہوں اور ان سب کے سامنے جنہوں نے انہیں ہولو کاسٹ سے بچنے میں مدد دی۔‘‘

Demonstration gegen den Krieg in Gaza und gegen Israel in Berlin

جرمن دارالحکومت برلن میں غزہ پر اسرائیلی حملوں کے خلاف ایک مظاہرہ

اسی وجہ سے جرمنی کو یہودی دشمنی، نسل پرستی اور اجنبیوں سے نفرت کے خلاف مسلسل چوکنا رہنے کی ضرورت ہے تا کہ یہ برائیاں پھر سر نہ اٹھا سکیں۔ چوکنا رہنے کی ضرورت اس لئے بھی ہے کہ نئے نازی اور ان کے نظریات بعض جرمنوں کے لئے اب بھی قابل قبول ہیں اور نئے نازیوں کے نفرت پر مبنی نظریات جرمنی کی سیاست کا ایک حصہ ہیں۔ چاہئے یہ سیاسی منظر کے حاشئے پر ہی کیوں نہ ہوں۔ دائیں بازو کی انتہا پشندی پورے یورپ کے لئے بھی خطرہ ہے۔ یورپ میں دائیں بازو کی کئی انتہا پسند تنظیمیں ہیں جن کا لازمی جزیہود دشمنی ہے۔ جرمنی میں آنے والے بہت سے تاریکین وطن مسلمان ہیں اس لئے روداری کو معاشرتی زندگی میں برقرار رہنا چاہئے اور نازی ازم کو دوہرایا نہیں جانا چاہئے۔

Marsch der Lebenden in Auschwitz

ایک یہودی عورت دوسری عالمی جنگ کی تلخ یادوں کا ذکر کرتے ہوئے رو رہی ہے

چانسلر میرکل نے 2008 میں اسرائیل کے قیام کے ساٹھ سال مکمل ہونے کی تقریبات میں اسرائیلی پارلیمنٹ میں تقریر کرتے ہوئے کہا تھا :’’ ہم مستقبل کو ایک انسانیت دوست انداز میں اسی وقت تشکیل دے سکتے ہیں جب جرمنی اپنی تاریخ کی اخلاقی تباہی کی کبھی نہ ختم ہونے والی ذمہ داری کو تسلیم کرے۔‘‘

اس تمام پس منظر میں اسرائیل کی سلامتی اور تحفظ کو جرمنی اپنی اولین ذمہ داری سمجھتا ہے اور فلسطینیوں کے لئے، کم از کم سرکاری سطح پرجرمنی کے پاس صرف انسانی بنیادوں پر امداد ہے۔

اس کا مطلب ہے کہ جرمنی ہمیشہ اسرائیل کی بقا کے حق کا ضامن رہے گا۔ جرمن تاریخ اسے اپنا موقف بدلنے کی اجازت نہیں دیتی۔ اس لئے جرمن لیڈروں کو اس امر کا باخوبی اندازہ ہے کہ اسرائیل جرمن تعلقات ہمیشہ خاص رہیں گے۔

جیسا کہ جرمن صدر ہورسٹ کہُلیر کہتے ہیں: ’’جرمنی اور اسرائیل کے مابین تعلقات کو کبھی نارمل نہیں کہا جا سکتا۔‘‘