1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

جرمنی اتحاد کے لیے رقم دینے پر تیار تھا، ڈیر شپیگل

جرمن جریدے ڈیرشپیگل کے مطابق ساٹھ کی دہائی میں مغربی جرمنی کی اس وقت کی حکومت دونوں جرمن حصوں کے اتحاد کے لیے سابق سوویت یونین کو رقم ادا کرنے پر تیار تھی۔

default

ہفت روزہ ڈیر شپیگل کے تازہ شمارے میں شائع ہونے والی اس رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 60 کے عشرے میں اس وقت کے جرمن چانسلر لُڈوِگ ایرہارڈ کو امید تھی کہ وہ رقم کے بدلے مشرقی اور مغربی جرمنی کو دوبارہ متحد کر سکتے ہیں۔ اس مقصد کے لیے ایرہارڈ سابق سویت یونین کو دس برسوں تک دو ارب ڈالر سالانہ ادا کرنے کو تیار تھے۔

 لُڈوِگ ایرہارڈ کا تعلق کرسچن ڈیموکریٹک یونین سے تھا اور وہ 1963ء سے لے کر 1966ء تک جرمنی کے چانسلر رہے تھے۔ اُس دور میں چانسلر کے دفتر کے ایک ملازم نے ڈیر شپیگل کو بتایا کہ ایرہارڈ چاہتے تھےکہ 100ارب جرمن مارک کی پیشکش کر کے سابق سوویت یونین کو اس اتحاد پر راضی کیا جائے۔

امریکی خفیہ ایجنسی سی آئی اے کی نئی دستاویزات کے مطابق اسے ’ایرہارڈ منصوبے‘ کا نام دیا گیا تھا۔ جرمن حکام کی کوشش تھی کہ امریکہ اس معاملے میں ثالث کا کردار ادا کرے۔ اس وجہ سے اس وقت کے امریکی سفیر کو ان تمام تفصیلات سے آگاہ کیا گیا تھا۔ ڈیر شپیگل کے مطابق امریکی سفارت کاروں کو جب جرمن منصوبے کا علم ہوا تو انہوں نے اسے غیر حقیقی قرار دیتے ہوئے تنقید کا نشانہ بنایا۔ اس موقع پر امریکیوں نے مشورہ دیا کہ ایرہاڈر منصوبے کے بارے میں سابق سویت یونین کی  کمیونسٹ پارٹی سے رجوع کیا جائے۔

Ludwig Erhard Porträt

سابق جرمن چانسلر لُڈوِگ ایرہارڈ

دوسری عالمی جنگ کے خاتمے پر جرمنی دو مختلف ریاستوں میں تقسیم ہو گیا تھا۔ دو مختلف ملکوں میں تقسیم کے کئی عشرے بعد مشرقی  حصے جسے ’عوامی جمہوریہ جرمنی‘ اور مغربی جرمنی جسے ’ وفاقی جمہوریہ جرمنی‘  کہا جاتا تھا ،کا اتحاد تین اکتوبر سن  1990 کو عمل میں آیا۔ دیورا برلن 28 سے زائد برس تک جرمنی کی تقسیم کا نشان بنی رہی۔ اس متنازعہ دیوار کی تعمیر13 اگست 1961ء کو شروع ہوئی تھی۔ اس دیوار کو 9 نومبر 1989ء کو گرادیا گیا تھا، جس کے بعد ایک پر امن انقلاب کے ذریعے سے جرمنی کے دونوں حصوں کا اتحاد ممکن ہو سکا تھا۔

 

رپورٹ: عدنان اسحاق

ادارت : ندیم گِل

DW.COM

ویب لنکس