1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

جرمنی آنے والے مہاجرین کی مدد کے لیے مزید چھ ارب یورو مختص

برلن حکومت نے بہت بڑی تعداد میں جرمنی آنے والے مہاجرین کی مدد کے لیے چھ ارب یورو کی اضافی رقوم مہیا کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ گزشتہ ویک اینڈ پر زیادہ تر شامی مہاجرین پر مشتمل مزید قریب بیس ہزار مہاجرین جرمنی پہنچے تھے۔

جرمن دارالحکومت برلن سے پیر سات ستمبر کی صبح موصولہ نیوز ایجنسی ڈی پی اے کی رپورٹوں میں بتایا گیا ہے کہ چانسلر انگیلا میرکل کی قیادت میں وفاقی مخلوط حکومت میں شامل پارٹیوں کے مابین ملک میں نئے داخل ہونے والے ہزار ہا مہاجرین اور آئندہ آنے والے تارکین وطن کی مدد کے لیے ان اضافی سرکاری رقوم کی فراہمی پر اتفاق ان مذاکرات میں ہوا، جو اتوار کی رات شروع ہو کر پیر کو علی الصبح تک جاری رہے۔

DW.COM

ڈی پی اے کے مطابق ان رقوم میں سے تین ارب یورو جرمنی پہنچنے والے مہاجرین کی مدد کے لیے مالی سال 2016ء کے دوران مہیا کیے جائیں گے جبکہ مزید تین ارب یورو مالی سال 2017ء کے بجٹ میں مختص کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے تاکہ بحران زدہ علاقوں، خاص کر مشرق وسطٰی میں جاری بحرانوں کے باعث جرمنی پہنچنے والے ہزار ہا مہاجرین کو رہائش کے علاوہ دیگر سہولیات بھی مہیا کی جا سکیں۔

اس کے علاوہ موجودہ مالی سال 2015ء میں بھی مہاجرین کی مدد کے لیے ایک ارب یورو مہیا کیے جائیں گے۔ برلن سے آمدہ رپورٹوں میں مزید بتایا گیا ہے کہ وفاقی حکومت کی طرف سے مہیا کردہ یہ رقوم صوبائی اور مقامی حکومتوں کو فراہم کی جائیں گی تاکہ بہت بڑی تعداد میں ملک میں نئے مہاجرین کی آمد کے بعد ان کو مہیا کی جانے والی سہولیات پر اٹھنے والے اخراجات پورے کرنے میں صوبائی اور بلدیاتی حکومتوں کا ہاتھ بٹایا جا سکے۔

ڈی پی اے نے مزید لکھا ہے کہ جرمنی اور آسٹریا نے ہفتہ پانچ ستمبر کے روز آپس میں یہ اتفاق کر لیا تھا کہ وہ اپنے ہاں ان مہاجرین کو قبول کر لیں گے، جنہیں اب تک ہنگری پہنچنے کے بعد بوڈاپسٹ حکومت کی طرف سے مغربی یورپی ملکوں کی طرف سفر کی اجازت نہیں دی جا رہی تھی۔

بوڈاپسٹ حکومت کی طرف سے ان مہاجرین کو یورپی یونین کے رکن کسی دوسرے ملک کی طرف سے مزید سفر سے روکے رکھنے کی وجہ یہ تھی کہ یونین کے مروجہ قوانین کے تحت غیر قانونی طور پر یونین میں داخل ہونے والے تارکین وطن اور مہاجرین کو اس بلاک میں شامل اسی پہلے ملک میں اپنے لیے سیاسی پناہ کی درخواست دینا ہوتی ہے، جہاں سے وہ یونین کے حدود میں داخل ہوئے ہوں۔

Ungarn Budapest Flüchtlinge mit Merkel Plakaten

جرمن حکومت کو توقع ہے کہ رواں برس کے دوران آٹھ لاکھ غیر ملکی مہاجرین پناہ کے لیے جرمنی پہنچیں گے

جرمنی میں گزشتہ برس دو لاکھ مہاجرین نے سیاسی پناہ کی درخواستیں دی تھیں۔ اس سال یہ تعداد چار گنا ہو کر مجموعی طور پر آٹھ لاکھ تک پہنچ جانے کی توقع ہے۔ یہ تعداد یونین کے رکن کسی بھی دوسرے ملک کے مقابلے میں سالانہ بنیادوں پر سیاسی پناہ کی درخواستیں دینے والوں کی سب سے زیادہ تعداد ہے اور اتنی بڑی تعداد میں اپنے ہاں مہاجرین کے طور پر غیر ملکیوں کی مدد کی وجہ سے بہت سے جرمن شہر اور بلدیاتی حکومتیں پہلے ہی کافی زیادہ مالی اور انتظامی دباؤ کا شکار ہیں۔ اس پس منظر میں انہوں نے وفاقی حکومت سے اپنے لیے مزید مالی وسائل کی فراہمی کی درخواست بھی کر دی تھی۔

ہفتہ پانچ ستمبر اور اتوار چھ ستمبر کے صرف دو دنوں میں آسٹریا سے مجموعی طور پر قریب بیس ہزار نئے تارکین وطن جرمنی پہنچے تھے۔ ان میں سے بھی صرف اتوار کے روز جرمنی پہنچنے والوں کی تعداد تیرہ ہزار کے قریب تھی اور ان مہاجرین کی اکثریت کا تعلق بحران زدہ عرب ریاست شام سے تھا۔