1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

جرمنی آنے والے تارکین وطن کی تعداد مزید کم

جرمن وزارت داخلہ کے مطابق ملک میں نئے آنے والے مہاجرین اور تارکین وطن کی تعداد میں مسلسل کمی ہو رہی ہے۔ اپریل کے مہینے میں قریب بارہ ہزار غیر ملکی جرمنی پہنچے جب کہ مارچ میں ایسے افراد کی تعداد اٹھارہ ہزار کے قریب تھی۔

نیوز ایجنسی اے ایف پی کی برلن سے موصولہ رپورٹوں کے مطابق جرمنی کی وفاقی وزارت داخلہ نے پناہ کی تلاش میں جرمنی کا رخ کرنے والے غیر ملکیوں کی تعداد سے متعلق تازہ اعداد و شمار جاری کیے ہیں۔ وزارت داخلہ کے مطابق اپریل کے مہینے میں جرمنی پہنچنے والے نئے تارکین وطن کی تعداد میں مزید کمی واقع ہوئی۔

یونان میں چند پیسوں کی خاطر جسم بیچتے پاکستانی مہاجر بچے

تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق اپریل کے مہینے میں تقریباﹰ بارہ ہزار نئے تارکین وطن پناہ کی تلاش میں جرمنی پہنچے۔ اس سے قبل مارچ کے پورے مہینے میں جرمنی پہنچنے والے تارکین وطن کی تعداد اٹھارہ ہزار سے کچھ زائد رہی تھی جب کہ اس سال جنوری اور فروری میں ایسے غیر ملکیوں کی تعداد بالترتیب سولہ اور پندرہ ہزار رہی تھی۔

یوں سال رواں کے پہلے چار مہینوں میں مجموعی طور پر مزید اکسٹھ ہزار غیر ملکی سیاسی پناہ کی تلاش میں جرمنی پہنچے۔ مہاجرین کی جرمنی آمد میں کمی کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ سن 2016 کے اوائل میں صرف ایک مہینے میں اوسطاﹰ ستر ہزار غیر ملکی پناہ کی تلاش میں جرمنی پہنچ رہے تھے۔

اس برس بھی جرمنی آنے والے مہاجرین میں سے اکثریت کا تعلق خانہ جنگی کے شکار ملک شام سے ہے۔ وفاقی وزارت داخلہ کے مطابق اپریل کے مہینے میں جرمنی پہنچنے والے غیر ملکیوں میں سے قریب ڈھائی ہزار شامی، گیارہ سو عراقی، 929 ایرانی اور ساڑھے آٹھ سو افغان باشندے تھے۔

اس برس کے آغاز سے ہر مہینے اوسطاﹰ ساڑھے تین سو پاکستانی شہری بھی پناہ کی تلاش میں جرمنی پہنچے ہیں جب کہ اسی عرصے کے دوران اٹلی کا رخ کرنے والے پاکستانیوں کی ماہانہ اوسط تعداد قریب آٹھ سو رہی ہے۔

’یورپ میں انسانی ہمدردی کی بنیاد پر ویزے نہیں دیے جائیں گے‘

DW.COM