1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

جرمنوں کی ’صفائی‘ کا پول کھل گیا

جرمنی کے بارے میں عام خیال یہ ہے کہ یہاں کے باسی ترتیب اور صفائی کی طرف زبردست رجحان رکھتے ہیں۔ تاہم صفائی کا کام کرنے والی ایک پولستانی خاتون نے اپنی کتاب میں اس مفروضے کی قلعی کھول دی ہے۔

default

جسٹینا پولانسکی کے قلمی نام سے اس مصنفہ کی تحریر کردہ کتاب کا عنوانUnder German Beds یا ’ جرمنوں کے بستر کے نیچے‘ ہے۔ جرمنی میں تہلکہ مچانے والی یہ کتاب رواں ماہ منظر عام پر آنے کے بعد سے آن لائن ریٹیلر Amazon کی سب سے زیادہ فروخت ہونے والی کتابوں کی فہرست میں چوتھے نمبر پر آ گئی ہے۔

31 سالہ پولانسکی کی اس کتاب میں یورپ کی سب سے بڑی معیشت کہلانے والے ملک جرمنی میں متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والے ایسے افراد کی کم مائیگی، منافقت، عیاشی اور غلیظ عادات کو منظر عام پر لایا گیا ہے، جو صفائی ستھرائی کرنے والوں کی خدمات حاصل کرتے ہیں۔

Vorbereitungen auf Gipfel in Finnland

جرمنی میں صفائی کے شعبے سے غیر اعلانیہ چار ملین افراد وابسطہ ہیں

خبر رساں ایجینسی سے بات کرتے ہوئے پولانسکی کا کہنا ہے کہ اس کتاب کو تحریر کرنے کا مقصد صفائی ستھرائی کے شعبے سے تعلق رکھنے والی خواتین کے لیے انسانیت اور احترام جیسے جذبات دیکھنے کی خواہش ہے۔

اپنی ملازمت کے دوران پیش آنے والے چند غیر شائستہ واقعات کو یاد کرتے ہوئے وہ مزید بتاتی ہیں کہ کس طرح ملازمت کے لیے انٹرویو کے دوران ان سے غیر مہذب سولات پوچھے جاتے ہیں، ان کے سامنے نہایت بیش قیمت ملبوسات پہنے افراد انہیں پوری تنخواہ دینے میں پس و پیش سے کام لیتے ہیں یا پھر ان پر چوری کے جھوٹے الزام لگا دیتے ہیں۔

ایک اندازے کے مطابق پولانسکی ان پانچ لاکھ پولستانی خواتین میں سے ایک ہیں، جو 1989ء میں دیوار برلن گرنے کے بعد جرمنی میں صفائی ستھرائی کے شعبے میں ملازمت کرنے آئی تھیں۔

Deutsch Französische Freundschaft / german french friendship... p178

جرمن عوام نہایت ستھرے مزاج کی قوم مانی جاتی ہے

اگرچہ پولانسکی کا کہنا ہے کہ مجموعی طور پر ان کے ساتھ جرمن عوام کا رویہ بہت اچھا رہا تاہم بند دروازوں کے پیچھے جرمنوں کی عادات کے بارے میں جاننا ان کے لیے رونگٹے کھڑے کرنے والا تجربہ رہا۔

پولانسکی کے مطابق جرمنوں کے بستروں کے نیچے سے ملنے والی بعض ہولناک اشیاء میں تازہ تازہ نکلی ہوئی عقل داڑھ، آدھا روسٹ چکن، پاؤں کے انگوٹھے کا پورا ناخن، ایک مردہ ہیمسٹر یعنی چوہا نما جانور اور ان کی ایمانداری کو پرکھنے کے لیے رکھی گئی نقد رقوم شامل تھیں۔

واضح رہے کہ گذشتہ سال نومبر میں جرمنی کے انسٹیٹیوٹ برائے اکنامک ریسرچ IW کی جانب سے شائع کی جانے والی ایک رپورٹ کے مطابق ملک میں انکم ٹیکس حکام کو اطلاع کیے بغیر آج کل چار ملین کے قریب افراد جرمنی میں مختلف گھروں میں ملازمت کر رہے ہیں اور ایک اندازے کے مطابق یہ تعداد سن 2050ء میں بارہ ملین تک پہنچ جائے گی۔

جرمن گھروں میں ملازمت کرنے والے افراد کپڑے استری کرنے، صفائی کرنے یا کبھی کبھی کھانا پکانے کا کام بھی کرتے ہیں اور ان کی تنخواہ ایک گھنٹے کے حساب سے 10 یورو یعنی 14 ڈالر کے مساوی بنتی ہے۔

رپورٹ: عنبرین فاطمہ

ادارت: امجد علی

DW.COM