1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

جرابلس میں زندگی کی رمق لوٹ رہی ہے

ترکی سے شام سے ملنے والی سرحد پر واقع شہر جرابلس کے حالات میں مثبت تبدیلی دیکھی جا سکتی ہے۔ یہ سب کچھ ایک ہفتے سے جاری ترک فوج کی کارروائیوں کی وجہ سے ممکن ہوا ہے۔

جرابلس کا علاقہ دہشت گرد تنظیم اسلامک اسٹیٹ کے قبضے میں تھا اور یہاں ہر جگہ اس تنظیم کی نشانیاں دیکھی جا سکتی تھیں۔ تاہم گزشتہ ایک ہفتے کے دوران شہر میں سے اسلامک اسٹیٹ کا وہ علامتی نشان بھی تقریباً غائب ہوگیا ہے، جس میں ایک جنگجو کو ایک گھوڑے کی پشت پر پرچم سمیت بیٹھا دکھایا گیا ہے۔ ساتھ ہی شہر کی مختلف دیواروں سے آئی ایس کے تحریروں کو صاف کرتے ہوئے ان پر نیلا رنگ بھی کر دیا گیا ہے۔

حالات کے بہتر ہوتے ہی جرابلس کی سڑکوں پر بچے دوبارہ سے کھیلتے ہوئے بھی دکھائی دیتے ہیں اور خواتین کو اپنے نیم تباہ حال گھروں سے باہر کپڑے سکُھانے میں بھی کوئی مسئلہ درپیش نہیں ہے۔ اس شہر کے ایک باسی حسین کاکماز کے بقول صورتحال کو دیکھ کر یقین نہیں آ رہا،’’ یہاں پر زندگی زندگی نہیں تھی، بہت زیادہ سختیاں اور پابندیاں تھیں۔ مثال کے طور پر سگریٹ نہیں پی سکتے تھے، خواتین کو لازمی طور پر چہرے ڈھانپ کر نکلنا ہوتا تھا‘‘۔ آئی ایس کے قبضے سے قبل حسین گاڑی چلاتا تھا۔

گزشتہ بدھ کے روز ہی شامی باغی اس علاقے میں داخل ہونے میں کامیاب ہوئے تھے۔ ان میں زیادہ تر عرب اور ترکمانستان کے شہری شامل تھے۔ اس دوران انہیں ترک فوج کے فضائی اور زمینی دستوں کا بھی تعاون حاصل رہا۔ اس کارروائی کا ایک مقصد تو اسلامک اسٹیٹ کو اس شہر سے باہر نکالنا تھا جبکہ ترکی چاہتا ہے کہ جرابلس اور اس کے ارد گرد کے علاقوں کو شامی کرد باغیوں سے بھی محفوظ بنا دیا جائے۔ اس شہر میں بظاہر ترک فوج کہیں دکھائی نہیں دے رہی اور شہر میں شامی باغی گشت کرتے دکھائی دے رہے ہیں۔

جرابلس کے ایک ڈاکٹر یاسین درویش نے بتایا کہ فرار ہوتے وقت آئی ایس کے جنگجو بہت کچھ اپنے ساتھ لے گئے۔ ان کے بقول اب زخیموں یا دیگر مریضوں کے لیے ادویات کی شدید قلت ہے، ’’یہ لوگ ہسپتال کے آلات تک اپنے ساتھ لے گئے مثال کے طور پر ہسپتال میں اب کوئی ایکسرے مشین تک نہیں ہے۔‘‘ درویش کے مطابق امدادی سامان ترکی سے لایا جا رہا ہے۔ انقرہ حکومت نے ترک سرحد سے متصل شامی علاقوں کو ہر طرح کے شدت پسندوں سے صاف کرنے کے لیے اس فوجی کارروائی کا آغاز کیا ہے۔