1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

جرائم کے خاتمے کی جنگ میں کامیابی ہو رہی ہے، فلپائنی حکومت

فلپائن کے موجودہ صدر نے اپنا منصب سنبھالنے کے بعد کرپشن اور منشیات فروشوں کو ٹارگٹ کر رکھا ہے۔ اس حکومتی مہم میں اب تک تقریباً تین ہزار مبینہ ملزم ہلاک کر دیے گئے ہیں۔

فلپائنی صدر روڈریگو ڈوتیرتے کے ایک ترجمان نے آج میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جرائم پیشہ افراد کے خلاف حکومتی جنگ میں کامیابی ظاہر ہونا شروع ہو گئی ہے۔ ترجمان مارٹن اندانار کا کہنا ہے کہ تقریبا نصف مشتبہ افراد کی ہلاکت پولیس کے چھاپوں کے دوران دو طرفہ فائرنگ کے نتیجے میں ہوئیں ہیں۔ عالمی سطح پر صدر ڈوتیرتے اپنی اِس مہم کے نتیجے میں متنازعہ حیثیت اختیار کر گئے ہیں۔

امریکا سمیت کئی ملکوں اور اقوام متحدہ نے ڈوتیرتے کی اِس مہم کو انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں میں شمار کرنے کا عندیہ دیا ہے۔ اسی تناظر میں امریکی صدر اوباما نے لاؤس کے دارالحکومت وئین تیان میں آسیان سمٹ کے دوران فلپائنی صدر سے ملاقات میں یہ معاملہ اٹھانے کی بات کی تھی تو جواب میں ڈوتیرتے نے ایک پریس کانفرنس میں انہیں ’بازاری عورت کا بیٹا‘ قرار دے دیا تھا۔

اس تنازعے کے بعد امریکی صدر نے ڈوتیرتے کے ساتھ ملاقات منسوخ کر دی تھی۔ آسیان سمٹ کے دوران امریکی صدر نے راہ چلتے ہوئے فلپائنی صدر سے گفتگو کرتے ہوئے اتنا ضرور کہا کہ وہ یہ کارروائی درست انداز میں کریں تو انہیں پذیرائی حاصل ہو گی۔

Philippinen Präsident Rodrigo Duterte

فلپائنی صدر روڈریگو ڈوتیرتے

آسیان سمٹ کے بعد ایسٹ ایشین لیڈروں کے اجلاس میں ڈوٹیرتے نے اوباما کو مخاطب کرتے ہوئے کہا تھا کہ لیکچر دینے کے بجائے منشیات فروشوں کے خلاف مہم میں عملی مدد دی جائے۔

فلپائنی صدر کی کرپشن اور منشیات فروشوں کو ٹارگٹ کرنے کی مہم میں تقریباً تین ہزار افراد مارے جا چکے ہیں۔ صدر کے ترجمان نے واضح کیا کہ اِس سلسلے میں پولیس کے آپریشن میں واضح کامیابیاں حاصل ہوئی ہیں اور بعض اوقات پولیس مقابلے بھی ہوئے۔ یہ بھی بیان کیا گیا کہ اِس مہم کے دوران اپنے بچاؤ کی کوشش میں منشیات فروشوں کے ذاتی اختلافات بھی کھل کر سامنے آ گئے ہیں اور اُن کے درمیان مسلح تصادم بھی ہو رہے ہیں۔

فلپائنی پولیس کے ایک سینیئر اہلکار اور ترجمان ڈیونارڈو کارلوس نے بتایا کہ 1466 افراد انسداد منشیات کی مہم کے دوران مختلف چھاپوں میں مارے گئے جبکہ مشتبہ انداز میں ہونے والی 1490 ہلاکتوں کے بارے میں تفتیشی عمل جاری ہے۔ اس پولیس اہلکار کے مطابق شواہد سے معلوم ہوتا ہے کہ کئی ہلاک شدگان مخالف گروہون کا نشانہ بنے ہیں۔