1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

جرائم کا حل موت کی سزا: نو منتخب فلپائنی صدر

فلپائن کے نو منتخب صدر روڈریگو ڈوترتے نے ملک میں سزائے موت کو بحال کرنے اورمخصوص حالات میں سکیورٹی فورسز کو مجرموں پر گولی چلانے کی اجازت دینے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔

نو مئی کو فلپائن میں ہونے والے انتخابات میں کامیابی حاصل کرنے کے بعد نو منتخب صدر ڈوترتے نے پریس کانفرنس کے دوران کہا، ’’سکیورٹی فورسز کو مجرموں پر گولی چلانے کی اجازت دی جائے گی اورشہریوں کو قانون پر عمل درآمد کرنا ہوگا۔ ‘‘ فلپائن کے جنوبی شہر ڈواؤ کے میئر ڈوترتے نے یہ بھی کہا ہے کہ جو بھی اس ملک کے بچوں کی زندگیوں کو تباہ کرنے کی کوشش کرے گا، وہ انہیں تباہ کر دیں گے۔

ڈورترے نے اس عزم کا بھی اظہار کیا ہے کہ وہ ڈواؤ شہر میں نافذ قوانین کو ملک گیر سطح پر نافذ کرائیں گے۔ ان قوانین کے تحت صبح 2 بجے کے بعد عوامی مقامات پر شراب پینے پر پابندی عائد کر دی جائے گی، رات کو بچوں پر گھر سے اکیلے نکلنے اور پھرنے پر بھی پابندی ہوگی اور ریستورانوں اور ہوٹلوں میں سگریٹ نوشی بھی ممنوع قرار دے دی جائے گی۔

فرانسیسی خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق فلپائن کے صدر سزائے موت کو دوبارہ بحال کرنا چاہتے ہیں۔ واضح رہے کہ فلپائن نے سن 2006 میں موت کی سزا کو ختم کر دیا تھا۔ صدر ڈوترتے نے کہا ہے کہ وہ کانگریس کو کہیں گے وہ ریپ، قتل، منشیات کی اسمگلنگ، اور اغوا برائے تاوان جیسے جرائم میں ملوث ملزموں کے لیے پھانسی کی سزا کو دوبارہ نافذ کرے۔

انتخابی مہم کے دوران ڈوترتے نے فلپائن کے شہریوں سے ملک میں 3 سے 6 ماہ کے عرصے میں جرائم کے خاتمے کا وعدہ کیا تھا اور کہا تھا کہ وہ ہزاروں مجرموں کو مار دیں گے۔ ان کے اس نعروں پر ان کے حریفوں نے انہیں تنقید کا نشانہ بنایا تھا تاہم بدامنی اور بدعنوانیوں سے ستائے فلپائن کے لاکھوں افراد دوترتے کے سحر میں گرفتار ہو چکے ہیں۔ صدر منتخب ہونے کے بعد اتوار کے روز انہو‍ں نے کہا تھا کہ، ’’ منظم جرائم میں ملوث وہ مجرم جو سکیورٹی فورسز کے سامنے مزاحمت کریں گے ان پر گولی چلانے کے احکامات جاری کر دیے جائیں گے‘‘

دوترتے نے والدین کو بھی خبردار کیا کہ اگر انہوں نے بچوں پر رات کو تنہا باہر جانے پر عائد پابندی کی خلاف ورزی کی تو انہیں بھی جیل بھیج دیا جائے گا۔

واضح رہے کہ دو دہائیوں تک ڈواؤ شہر کے مئیر رہنے والےدوترتے پر ’ڈیٹھ سکواڈ‘ کے ذریعے شہر کے مجرموں کو قتل کرانے کے الزامات عائد کیے جاتے ہیں۔ انسانی حقوق کے گروہوں کا کہنا ہے مسٹر ڈوترتے کی سربراہی میں ڈواؤ شہر میں پولیس، کرائے کے قاتلوں، اور سابق کمیونسٹ باغیوں پر مبنی ’ڈیٹھ سکواڈ‘ نےسینکڑوں افراد کو موت کے گھاٹ اتار دیا تھا۔ تاہم ڈوترتے کے بقول ان کی میئر شپ کے دوران ڈواؤ ملک کا محفوظ ترین شہر بن چکا ہے۔

DW.COM