1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

جرائم پيشہ تارکین وطن واپس نہيں ليں گے، پاکستانی ايف آئی اے

پاکستانی تحقیقاتی ادارے ايف آئی اے کے سربراہ نے ڈی ڈبلیو کے ساتھ انٹرویو میں کہا ہے کہ پاکستان يورپ سے ملک بدر کيے گئے پاکستانيوں کو واپس لينے ميں دلچسپی تو رکھتا ہے تاہم جرائم پيشہ افراد کو قبول نہيں کيا جائے گا۔

پاکستان نے يورپی يونين کے ممالک کے ساتھ سن 2010 ميں طے پانے والے اس معاہدے کو معطل کر ديا ہے جس کے ذريعے غير قانونی طور پر يورپ پہنچنے والے پاکستانيوں کو ملک بدر کيا جاتا رہا ہے۔ اس بارے ميں ایک اعلان پاکستانی وزير داخلہ چوہدری نثار علی خان نے کيا۔ ان کے بقول يہ فيصلہ معاہدے کی خلاف ورزيوں کے سبب کيا گيا ہے۔ چوہدری نثار کے مطابق يورپی ممالک پاکستانيوں کو ’دہشت گرد‘ قرار دے کر ملک بدر کرتے ہيں۔ انہوں نے کہا، ’’يہ ناقابل قبول ہے۔ ہم مستقبل ميں ملک بدر کیے گئے ایسے افراد کو قبول نہيں کريں گے۔‘‘

پچھلے دس ماہ کے دوران قريب بتيس ہزار پاکستانی شہری يورپ ميں سياسی پناہ کی درخواستيں جمع کرا چکے ہيں۔ پاکستانی حکومت کے اس فيصلے کے تناظر ميں اب يہ واضح نہيں کہ ان کے ساتھ کيا ہو گا۔ يورپی حکومتوں اور بالخصوص جرمنی کی جانب سے واضح کر ديا گيا ہے کہ سياسی پناہ کے معاملے ميں شامی اور عراقی باشندوں کو فوقيت دی جائے گی جبکہ افغانوں اور پاکستانی شہريوں کے لیے امکانات کافی کم ہيں۔ يہ فيصلہ بھی کيا گيا ہے کہ جن پناہ گزينوں کی سياسی پناہ کی درخواستيں مسترد ہو جائيں گی، انہيں جلد از جلد ملک بدر کر ديا جائے گا۔

پاکستان ميں انسانوں کے اسمگلروں کے خلاف جاری کارروائيوں اور حاليہ فيصلے کی روشنی ميں آئندہ ملک بدر کر ديے جانے والوں کے حوالے سے ڈی ڈبليو نے پاکستانی دارالحکومت اسلام آباد ميں وفاقی تحقیقاتی ادارے (FIA) کے ڈائريکٹر انعام غنی کے ساتھ خصوصی گفتگو کی۔

پاکستانی دارالحکومت اسلام آباد ميں وفاقی تحقیقاتی ادارے (FIA) کے ڈائريکٹر انعام غنی

پاکستانی دارالحکومت اسلام آباد ميں وفاقی تحقیقاتی ادارے (FIA) کے ڈائريکٹر انعام غنی

ڈی ڈبليو: پاکستان ميں انسانوں کی اسمگلنگ کی روک تھام کے ليے ان دنوں کون سے محکمے فعال ہيں اور ان کی جانب سے کيا کارروائیاں کی جا رہی ہیں؟

انعام غنی: پاکستان ميں ايف آئی اے کے علاوہ کئی ديگر ايجنسياں بھی انسانوں کی اسمگلنگ روکنے کے ليے سرگرم ہيں۔ ہمارا ادارہ ملک ميں داخلے اور اخراج کے قانونی طور پر مخصوص مقامات کی نگرانی کرتا ہے، جن ميں ہوائی اڈے اور سرحدی گزر گاہيں شامل ہيں۔ ان کے علاوہ کسی غير قانونی یا غير مخصوص سمندری یا سرحدی مقامات کی نگرانی ايف آئی اے کی ذمہ داری نہيں۔ ايسے مقامات پر ديگر ايجنسياں کام کر رہی ہيں، مثلاً پاک افغان بارڈر پر فرنٹيئر کور سرگرم ہے، پاک بھارت سرحد پر رينجرز تعينات ہيں جبکہ سمندری حدود کی نگرانی کوسٹ گارڈز کرتے ہيں۔ انسانوں کی اسمگلنگ جيسے مسائل سے نمٹنے کے ليے حکومت نے ايک انٹرايجنسی ٹاسک فورس تشکيل دی ہے، جس کی قيادت وفاقی ايجنسی ہونے کے ناطے ايف آئی اے ہی کر رہی ہے۔ اس ٹاسک فورس کا اجلاس ہر تين ماہ بعد ہوتا ہے، جس ميں انسانوں کی اسمگلنگ کی روک تھام کے حوالے سے بھی بات چيت ہوتی ہے۔

ڈی ڈبليو: ايف آئی اے کی انسانوں کے اسمگلروں کے خلاف حاليہ کارروائيوں کے نتيجے ميں کتنے گروہوں يا ملزمان کو حراست ميں ليا جا چکا ہے؟

انعام غنی: انسانوں کی اسمگلنگ اور پناہ گزينوں يا مہاجرين کی اسمگلنگ دو مختلف مسائل ہيں۔ پاکستان سے اکثريتی طور پر ہجرت کرنے يا ترک وطن کرنے والوں کو غير قانونی انداز ميں بيرون ملک منتقل کيا جاتا ہے۔ ايف آئی اے کی جانب سے انسانوں کو غير قانونی انداز ميں بيرون ملک اسمگل کرنے والے انتہائی مطلوب ملزمان کی ايک فہرست تيار کی جاتی ہے، جسے ہم ’ريڈ بُک‘ کہتے ہيں۔ سن 2013 اور 2014ء ميں 1185 ایسے اسمگلروں کو حراست ميں ليا گيا۔ ان ميں سے صرف 27 کے نام ريڈ بُک ميں درج تھے، يعنی وہ ايسے جرائم ميں تسلسل کے ساتھ ملوث رہے تھے اور منظم انداز ميں اپنی کارروائياں کرتے تھے۔ پھر رواں سال جون تک گرفتار کيے جانے والے اسمگلروں کی تعداد 260 رہی، جس ميں سے ريڈ بُک ميں شامل ملزمان کی تعداد چھ ہے۔ ہم نے پچھلے چند ماہ سے اپنی کارروائياں تيز تر کر دی ہيں اور اب اس سال حراست ميں ليے جانے والے اسمگلروں کی کل تعداد آٹھ سو کے لگ بھگ ہے، جن ميں انتہائی مطلوب ملزمان 76 ہيں۔

ڈی ڈبليو: کيا اس سلسلے ميں کوئی عوامی آگہی مہم بھی چلائی جا رہی ہے؟

انعام غنی: انٹرايجنسی ٹاسک فورس ميں ايف آئی اے، فرنٹيئر کور، کوسٹ گارڈز، پوليس، نيوی اور ميری ٹائم سکيورٹی کے علاوہ ہوم ڈپارٹمنٹ اور متعدد غير سرکاری تنظيميں بھی شامل ہيں۔ اس ٹاسک فورس کی جانب سے وقتاً فوقتاً عوام کے ليے آگہی مہم چلائی جاتی ہے، جس ميں انہيں ترک وطن کے لیے غير قانونی طريقے اختيار کرنے سے متعلق خطرات سے آگاہ کيا جاتا ہے۔

ڈی ڈبليو: پاکستان ميں ایسے اسمگلروں کا طریقہ کار اور روٹ کیا ہوتا ہے؟ کیا یہ منظم گروپ ہوتے ہیں؟

انعام غنی: پاکستان ميں ترک وطن کے مقصد سے اسمگلنگ کا کام دو طريقوں سے ہوتا ہے۔ ايک تو باقاعدہ اسمگلر ہوتے ہيں جو ذاتی طور پر لوگوں کو سرحد پار کرا کے بيرون ملک لے کر جاتے ہيں۔ پھر يہاں ايسے لوگ بھی ہيں جو چھوٹی سطح پر لوگوں سے صرف اس بہانے سے پيسے بٹورنا جانتے ہيں۔ ايسے افراد ظاہر ہے کہ اپنی کارروائياں انفرادی طور پر ہی کرتے ہيں۔ انسانوں کی اسمگلنگ ’ٹرانس نيشنل‘ يا بين الاقوامی جرم ہے اور يہ جرم انفرادی طور پر نہيں کيا جا سکتا۔ اگر اسمگلرز کے دوسرے ممالک ميں روابط نہ ہوں، تو ان کے ليے ايک سے زائد ممالک کی سرحديں اس طرح غير قانونی انداز ميں پار کرنا ممکن نہيں ہوتا۔ مثلاﹰ جب يہ اسمگلرز لوگوں کو لے کر جاتے ہيں، تو انہيں ايران ميں بھی لوگوں کی ضرورت پڑتی ہو گی جو انہيں وہاں سے آگے پہنچائیں۔ ايسے لوگوں کی ضرورت بھی پڑتی ہو گی جو سمندری راستوں سے لوگوں کو کشتيوں ميں لے جا سکيں۔

پچھلے دس ماہ کے دوران قريب بتيس ہزار پاکستانی شہری يورپ ميں سياسی پناہ کی درخواستيں جمع کرا چکے ہيں

پچھلے دس ماہ کے دوران قريب بتيس ہزار پاکستانی شہری يورپ ميں سياسی پناہ کی درخواستيں جمع کرا چکے ہيں

ڈی ڈبليو: کيا وجہ ہے کہ اب تک اس مسئلے کا خاتمہ نہيں ہو سکا؟ پاکستان سے آج بھی ہزارہا شہری بیرون ملک، خاص کر یورپ اسمگل ہونے کی کوششیں کرتے ہیں۔

انعام غنی: پاکستان کوئی چھوٹا ملک نہيں، ايران اور پاکستان کی درميانی سرحد قريب 905 کلوميٹر طويل ہے اور افغانستان کے ساتھ بارڈر تقريباﹰ 2400 کلوميٹر طويل ہے۔ ظاہر سی بات ہے کہ آپ تمام سرحديں بند نہيں کر سکتے۔ ميں يہ کہہ سکتا ہوں کہ قانونی چيک پوائنٹس، مثال کے طور پر ہوائی اڈے وغيرہ، سے اس طرخ غير قانونی انداز ميں بيرون ملک جانے کا تناسب انتہائی کم ہے۔ 2014ء ميں بارہ ملين مسافر پاکستان سے گئے اور آئے۔ ان ميں سے صرف پچيس نے جعلی دستاويزات پر سفر کيا جبکہ غير قانونی انداز ميں باہر جانے کی کوشش کرتے ہوئے گرفتار کيے جانے والوں کی تعداد 489 رہی۔ جہاں تک بارڈر کا سوال ہے، ايک طويل اور غير محفوظ سرحد پر کسی بين الاقوامی جرم کو روکنا آسان کام نہيں۔ ہم ہر جگہ ديواريں اور دروازے کھڑے نہيں کر سکتے، يہ پاکستان جيسے ملک کے ليے ناممکن بات ہے۔ انسانوں کی اسمگلنگ کی روک تھام کے ليے تمام متعلقہ ممالک کی پوليس، بارڈر کنٹرول ايجنسيوں حتٰی کہ انٹيليجنس ايجنسيوں تک کو مل کر کام کرنا ہوگا۔ پھر کہيں جا کر اس مسئلے ميں کمی تو لائی جا سکتی ہے ليکن اس کا مکمل خاتمہ ممکن نہيں۔

جب تک مختلف ممالک ميں ملازمت کے مواقع اور معيشت ميں تفريق رہے گی، اس وقت تک انسانوں کی اس طرح غير قانونی انداز ميں منتقلی کو روکنا ناممکن سی بات ہے۔ آپ ديکھيں کہ يورپ ميں بھی کتنے لوگ مستقل قيام کے ليے ايک ملک سے دوسرے ملک جاتے ہيں۔ لندن يا پيرس جيسے بڑے شہروں ميں آپ کو يورپی باشندے بھی سڑکوں پر بيٹھے نظر آئيں گے، جنہوں نے بہتر معاش کے ليے وہاں کا رخ کيا۔ ميرے خيال ميں اس مسئلے کی سب سے بڑی وجہ اقتصادی خلیج ہے۔ جب تک يورپی حکام پاکستانيوں کے لیے يورپ ميں ملازمتوں کے دروازے نہيں کھولتے اور جب تک ترک وطن کے قانونی ذرائع فراہم نہيں کيے جاتے، يہ مسئلہ ختم نہيں ہو سکتا۔ پاکستان سے سن 1960ء اور 1980ء کی دہائيوں کے دوران متعدد افراد قانونی طور پر چلے گئے تھے، انہيں مہاجرين کے موجودہ بحران سے نہيں جوڑا جا سکتا۔

ڈی ڈبليو: يورپ کو درپيش مہاجرين کے موجودہ بحران میں پاکستان کا حصہ کتنا ہے؟ کيا یہ مسئلہ اور اس کا حل حکومتی ترجيحات ميں شامل ہیں؟

انعام غنی: يورپ کو درپيش مسائل کی مرکزی ذمہ داری يورپ ہی پر عائد ہوتی ہے۔ اس کی وجہ يہ ہے کہ جب يورپی ترقی پذير خطہ تھا اور وہاں سستے مزدور اور اشياء درکار تھيں، تو اس وقت يورپی حکومتوں نے ہنسی خوشی لوگوں کو جگہ دی۔ پھر يورپی قوانين ميں مسئلہ يہ ہے کہ وہ کسی بھی ملک کے رہائشيوں کو مقابلتاً آسانی سے سياسی پناہ دے ديتے ہيں، نہ صرف يہ بلکہ انہيں رہائش اور خرچے کے ليے رقم بھی ادا کی جاتی ہے۔

يورپ کو اپنے قوانين کا تفصيلی جائزہ لينے کی ضرورت ہے۔ ترک وطن کے قانونی ذرائع کو فروغ دينے کی ضرورت ہے اور غير قانونی طور پر يورپ پہنچنے والوں کو وہاں کام کرنے، رہنے يا سياسی پناہ کی درخواست دينے کی اجازت نہيں ہونی چاہيے۔ پاکستان کے ليے يہ کافی سنگين نوعيت کا معاملہ ہے اور حکومت کی ترجيح ہے کہ اپنے شہريوں کو واپس ملک میں لايا جائے۔ وزير داخلہ چوہدری نثار احمد اور ديگر اعلٰی حکام اس پر متفق ہيں کہ اپنے شہريوں کو وطن واپس لايا جائے۔ ليکن ایسا نہ ہو کہ یورپی ممالک اپنے ہاں کے دہشت گرد يا جرائم پيشہ افراد کو نکال کر پاکستان بھيجتے رہيں۔ یہ بات بالکل نامنظور ہو گی کہ دوہری شہريت کے حامل افراد ميں سے صاف شفاف ريکارڈ والوں کو تو یہ ملک اپنے ہاں رکھ لیں اور جس کسی نے چھوٹی موٹی چوری چکاری کی ہو، اسے ملک بدر کر کے پاکستان بھیج دیا جائے۔