1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

ججوں کی بحالی: ممکنہ منسوخی کی خبرپرعدالتی ردعمل

پاکستانی ذرائع ابلاغ میں جمعرات کی شب وفاقی حکومت کی جانب سے ججوں کی بحالی کا نوٹیفیکیشن واپس لینے کی خبریں نشر ہونے کے بعد ملکی سپریم کورٹ کے ججوں نے چیف جسٹس کی سربراہی میں رات گئے تک آپس میں مشاورت کی۔

default

’ججوں کی بحالی کی منسوخی آئین کی خلاف ورزی ہو گی‘

اس معاملے کی فوری سماعت کا اعلان کرتے ہوئے اٹارنی جنرل کو جمعہ کے روز عدالت میں طلب کر لیا۔ آج جمعہ کو جب اس کیس کی سماعت شروع ہوئی تو سترہ رکنی لارجر بینچ نے اٹارنی جنرل انوار الحق کو حکم دیا کہ وہ ان خبروں کے بارے میں حکومت کا مؤقف پیش کریں، جن کے تحت ججوں کی بحالی کا نوٹیفیکیشن واپس لینے پر غور کیا جا رہا ہے۔

اس پر اٹارنی جنرل نے کہا کہ وزیراعظم کی مصروفیات کے سبب انہیں اس بارے میں جواب داخل کرنے کے لئے مہلت دی جائے۔ اس پر عدالت نے انہیں مزید مہلت دیتے ہوئے ایک مختصر حکم نامہ بھی جاری کیا، جس میں کہا گیا ہے کہ ججوں کو ہٹانے کا اقدام آئین سے انحراف ہے اور ایسا کرنے والوں کے خلاف آئین کے آرٹیکل چھ کے تحت کارروائی کی جا سکتی ہے۔

Pakistan Ministerpräsident Yousaf Raza Gillani

وزیراعظم کی مصروفیات کے سبب جواب داخل کرنے کے لئے مہلت دی جائے، اٹارنی جنرل

بعد ازاں سماعت کے دوران عدالت میں موجود سینئر وکیل طارق محمود نے ڈوئچے ویلے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا: ''آج کے کیس میں سب سے اہم بات یہ ہے کہ وزیراعظم کی ڈیوٹی لگائی گئی ہے کہ یہ خبر کہاں سے نکلی، اس کا پتہ چلایا جائے، اس کی گہرائی میں جایا جائے اور دیکھا جائے کہ ہو کیا رہا ہے۔‘‘

دوسری جانب ججوں کی بحالی کی تحریک کی قیادت کرنے والے سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے سابق صدر علی احمد کرد کا کہنا ہے کہ حکومت ججوں کی بحالی کا حکم نامہ واپس نہیں لے سکتی۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ کے ’’ججوں کو بھی ایسی خبروں پر فوری ردعمل ظاہر نہیں کرنا چاہئے۔‘‘

اس بارے میں مختصر عدالتی حکم نامہ جاری ہونے کے بعد وکلاءکے ایک گروپ نے سپریم کورٹ بار کے صدر قاضی انور کی قیادت میں عدالت عظمیٰ کے احاطے میں عدلیہ کے حق میں اور حکومت کے خلاف نعرے بازی بھی کی۔

اس موقع پر قاضی انور نے اس تاثر کو غلط قرار دیا کہ اس بار عدالت نے حکومت پر وار میں پہل کی ہے۔ ''میں سمجھتا ہوں کہ یہ اعصاب کی جنگ تھی۔ میرے خیال میں ججوں کو رات کے وقت اکٹھا نہیں ہونا چاہئے تھا۔ جو کچھ بھی ہوتا، دیکھا جاتا۔ یہ ججوں کے لئے بھی اور باقی سب کے لئے بھی اچھا ہوتا۔‘‘

دوسری جانب پیپلز پارٹی کی سیکریٹری اطلاعات فوزیہ وہاب نے ان خبروں کی تردید کی ہے کہ حکومت ججوں کی بحالی کا حکم نامہ واپس لینا چاہتی ہے۔ فوزیہ وہاب نے پاکستان کے ایک بڑے نجی ٹیلی وژن چینل کو ایسی خبروں کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے کہا: ’’اس کہانی کا محور اسی پروگرام سے آتا نظر آ رہا ہے۔ حکومت کی جانب سے ایسی کوئی بات کسی بھی موقع پر نہیں کی گئی۔‘‘

سپریم کورٹ نے آج جمعہ کو اس بارے میں ایک مختصر حکم نامہ جاری کرنے کے بعد اس معاملے کی سماعت اٹھارہ اکتوبر تک کے لئے ملتوی کرتے ہوئے حکومت کو تفصیلی رپورٹ سپریم کورٹ میں داخل کرانے کی ہدایت کی ہے۔

رپورٹ: شکور رحیم، اسلام آباد

ادارت: عصمت جبیں

DW.COM

ویب لنکس