1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

وجود زن

جب کہا جاتا تھا کہ میرکل کامیاب شخصیت نہیں بن سکتیں

جرمن چانسلر انگیلا میرکل کو سیاستدان کی حیثیت سے ایک عملی نمونہ سمجھا جاتا ہے۔ ماضی میں ان کے بارے میں یقین کے ساتھ کہا جاتا تھا کہ یہ کوئی کامیاب یا بڑی شخصیت نہیں بن پائیں گی۔

زرد مائل چہرہ، آنکھوں کے گرد حلقے، ہئیر اسٹائل ایسا کہ جس پر ایک لمبے عرصے تک کیبرے آرٹسٹوں نے تفریحی پروگرام پیش کیے اور جن کے لباسوں کی وارڈ روب پر ترس آتا ہو۔ یوں لگتا تھا جیسے کہ انگیلا میرکل کے پاس ترقی کے مواقع ہیں ہی نہیں تاہم انہوں نے اپنی شخصیت کو نکھارنے کے لیے نہ صرف موقع نکال لیا بلکہ اس کا بہترین فائدہ بھی اُٹھایا۔

1945 کے بعد سے جرمنی کی تاریخ میں کسی دوسری شخصیت کے بارے میں اتنے غلط اندازے نہیں لگائے گئے تھے جتنے کہ مشرقی جرمنی سے تعلق رکھنے والے ایک پادری کی بیٹی انگیلا میرکل کے لیے لگائے گئے۔ میرکل کے بارے میں جیکولین بوائزن سے بہتر اندازہ کوئی نہیں لگا سکتا تھا جنہوں نے میرکل کے چانسلر بننے سے پہلے ہی اُن کی سوانح حیات لکھی تھی۔ ظاہر ہے کہ انگیلا میرکل کوئی نظریہ ساز یا خیال پرست نہیں تھیں۔ وہ حقائق اور اعداد وشمار کی بنیاد پر فیصلے کیا کرتی ہیں اور اکثر اپنی پارٹی سے ان کی توقعات بہت زیادہ ہوتی ہیں۔ انگیلا میرکل نے تمام ممکنہ پالیسی میدانوں میں اپنا سیاسی رجحان بدلا ہے۔ مثالیت پسندی یا تصوراتی فیصلوں سے بالا تر ہوکر میرکل نے ہمیشہ دلیل اور دانائی کی بنیادوں پر فیصلے کیے‘۔

1982 میں انگیلا میرکل طالبہ کی حیثیت سے پراگ میں اپنے پروفیسر کے ساتھ

میرکل کے اس طرز عمل نے انہیں کوئی نقصان نہیں پہنچایا بلکہ اُن کے لیے فائدہ مند ہی ثابت ہوا ہے۔ اسی لیے ’کولز میڈشن‘ یعنی سابق جرمن چانسلر ہلموٹ کوہل کی لڑکی کہلائی جانے والی انگیلا میرکل اب ’موُٹی‘ یعنی ماں کہلانے لگی ہیں۔ پروٹسٹنٹ پادری کے ہاں جنم لینے والی میرکل اپنے والدین کی سب سے بڑی اولاد ہیں۔

BdT Angela Merkel vor dem Weihnachtsbaum im Kanzleramt (AP)

 اسکول کے زمانے ہی سے انہوں نے زہین طالبعلم ہونے کا مظاہرہ کیا اور لائبزش یونیورسٹی کے فزکس یا طبعیات کے شعبے سے اعلیٰ تعلیمی ڈگری بھی بہترین کار کردگی کے ساتھ حاصل کی۔ دوران تعلیم ہی انگیلا نے اپنے ایک ساتھی ’اُلرش میرکل‘ کے ساتھ شادی کرلی۔ تاہم یہ شادی ناکام رہی اور اس جوڑے میں جلد ہی علیحدگی ہو گئی۔ تاہم انگیلا نے اپنا نام علیحدگی کے بعد بھی انگیلا میرکل ہی رکھا۔ انگیلا میرکل کے موجودہ شوہر یوآخم زاور ہیں جو ایک معروف کیمیا دان ہیں۔

سابقہ ڈی ڈی آر میں میرکل کو کسی اپوزیشن لیڈر کے طور پر نہیں دیکھا جاتا تھا۔  میرکل کی سوانح حیات کی مصنفہ جیکولین بوائزن کے بقول جرمنی کی سوشلسٹ ریاست نے انہیں کوئی ضرب نہیں لگائی۔ 35 سال کی عمر میں میرکل مشرقی جرمنی کے آخری وزیر اعظم تھوماس ڈے میزئیر کی ڈپٹی ترجمان بن گئی تھیں۔ اس سے کچھ عرصہ پہلے ہی انہوں نے کرسچن ڈیموکریٹک پارٹی سی ڈی یو میں شمولیت اختیار کی تھی۔ سال 2000 ء میں میرکل نے سی ڈی یو کی قیادت سمبھال لی۔ 2005 ء میں میرکل چانسلر کے عہدے کے لیے نامزد ہوئیں اور سوشل ڈیمو کریٹک پارٹی ایس پی ڈی کے ساتھ ایک وسیع مخلوط حکومت کی تشکیل میرکل کو جرمنی کی نئی چانسلر منتخب کرنے کے لیے کافی تھی۔ میرکل آج بھی جرمن چانسلر ہیں اور ان کی کامیابی کا راز ان کی نہایت نپی تلی پالیسیاں ہیں۔ وہ کہتی ہیں،’چیزوں کو واضح کرنا، فیصلوں کی تیاری کرنا، لوگوں کی آراء سننا اور آخر میں ایک سمت اختیار کرنا۔ اپوزیشن میں بیٹھ کر ہم بہت سے مفروضات تیار کر سکتے ہیں تاہم آپ کے پاس اکثریت نہیں ہوتی انہیں منانے کے لیے۔ جبکہ جرمن چانسلر کی حیثیت سے آپ بہت سی خواہشات کو عملی جامہ پہنا سکتے ہیں‘۔

جرمن چانسلر انگیلا میرکل کی دانائی اور خود اعتمادی اُن کی کامیابیوں کی اصل وجہ سمجھی جاتی ہے۔ 2005 ء سے جرمنی کی چانسلر چلی آ رہی انگیلا میرکل اب 2017 ء میں چوتھی بار بھی انتخابات میں حصہ لے رہی ہیں۔ اس دوران میرکل کی سیاسی اور سفارتی مہارت میں مزید اضافہ ہو چُکا ہے۔ میرکل دنیا کی طاقتور ترین خواتین میں سے ایک مانی جانے لگی ہیں۔    

 

DW.COM

Audios and videos on the topic

ملتے جلتے مندرجات