1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

جب مسلمانوں نے عیسائوں کو الشباب سے بچایا

شمالی کینیا میں جب الشباب شدت پسند تنظیم نے عیسائیوں کو قتل کرنے کے لیے ایک بس پر حملہ کیا تو مسلمان مسافروں نے غیر مسلموں کو اسلامی لباس پہنا کر ان کی جان بچائی۔

عینی شاہدین کے مطابق یہ واقعہ پیر کے روز کینیا کی منڈیرا کاؤنٹی میں اس وقت پیش آیا جب صومالی عسکری تنظیم الشباب سے تعلق رکھنے والے مسلح افراد نے ایک بس اور ٹرک پر حملہ کیا اور گولیاں چلائیں۔

یہ بس دارالحکومت نیروبی سے منڈیرا شہر کی طرف گامزن تھی اور اس پر ساٹھ افراد سوار تھے۔ بس کو پاپا شہر میں اسلامی شدت پسندوں نے فائرنگ کر کے روکا۔

اس خیال سے کہ گزشتہ برس الشباب نے ایک بس کو روک کر اس میں سوار اٹھائیس غیر مسلموں کو قتل کر دیا تھا، بس میں موجود مسلمانوں نے غیر مسلم مسافروں کو اسکارف اور دیگر اسلامی لباس فراہم کیے، جس سے ان کی مذہبی شناخت مخفی رکھی جا سکتی تھی۔

اس دوران ایک انتہا پسند بس میں داخل ہوا اور اس نے مسافروں کو حکم دیا کہ وہ بس سے باہر آ جائیں۔ اس نے مسافروں کو مسلمانوں اور غیر مسلمانوں میں تقسیم ہونے کا حکم دیا۔ ایک غیر مسلم خوف سے بھاگنے لگا تو اس کو مسلح افراد نے گولی مار کر ہلاک کر دیا۔ عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ بیشتر غیر مسلم باآسانی مسلمانوں کی قطار میں کھڑے ہونے میں کامیاب ہو گئے۔

اس سے قبل کے مسلح افراد مسلمانوں اور عیسائیوں کو علیحدہ کرنے کی کوشش کرتے، ایک شخص نے ان کو چکما دیتے ہوئے کہا کہ ایک پولیس کا ٹرک جو بس کی حفاظت پر مامور ہے، راستے ہی میں ہے۔ یہ جھوٹ کام آ گیا اور الشباب کے کارکنوں نے مسافروں کو حکم دیا کہ وہ بس میں دوبارہ سوار ہو کر وہاں سے نکل جائیں۔

بعد ازاں انتہا پسندوں نے گھات لگا کر ایک ٹرک پر حملہ کیا اور ڈرائیور کو روک کر پوچھا کہ کیا اس نے پولیس سے بھرے کسی ٹرک کو دیکھا ہے؟ کچھ نہ جان پانے پر عسکریت پسندوں نے ٹرک پر ایک غیر مسلم پولیس افسر کو گولی مار کر ہلاک کر دیا۔

واضح رہے کہ القاعدہ سے منسلک الشباب تنظیم کینیا میں خاصی فعال ہے۔ سن دو ہزار گیارہ سے کینیا کی فوج صومالیہ میں الشباب کے خلاف برسر پیکار ہے۔

منڈیرا حالیہ کچھ عرصے میں دہشت گردی کا نشانہ بنتا رہا ہے۔ گزشتہ ہفتے الشباب نے منڈیرا میں تعینات سکیورٹی فورسز پر تین زبردست حملے کیے تھے۔

DW.COM