1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

جب مائیں بچوں کے جنسی استحصال کو نظر انداز کرنے لگیں

جرمنی میں پہلی مرتبہ بچوں کے ساتھ انہی کے خاندان کے کسی رکن کی جانب سے جنسی استحصال کے واقعات پر ایک رپورٹ مرتب کی گئی ہے۔ ایک غیر جانبدار کمیشن  نے اس سلسلے میں برلن  میں دل ہلا دینے والی  تفصیلات جاری کیں۔

جرمنی میں بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کے واقعات کے بارے میں زیادہ آگاہی کی سوچ کے تحت قائم کردہ ایک آزاد کمیشن نے اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ اپنے ہی خاندان کے کسی رکن کے ہاتھوں جنسی استحصال کا نشانہ بننے والے بچوں کو اکثر کوئی مدد فراہم نہیں کی جاتی یا پھر ان کی شکایت پر بہت دیر سے کان دھرے جاتے ہیں۔ اس رپورٹ کے مطابق جرمنی میں مائیں جنسی استحصال کے واقعات میں بچوں کے تحفظ کے لیے شاذ و نادر ہی کوئی مداخلت کر پاتی ہیں۔

Kindermissbrauch (BilderBox)

اس رپورٹ کی تیاری کے سلسلے میں جن کئی سو بالغ افراد سے بات چیت کی گئی، انہوں  نے بتایا کہ کس طرح بچپن میں جنسی استحصال کے بعد انہیں مدد کے حصول میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ خاص طور پر بہت سی مائیں علم ہونے کے باوجود ایسے واقعات کو نظر انداز کر دیتی ہیں اور یوں استحصال کرنے والے کا حوصلہ بڑھتا ہے۔

اس کمیشن کے رکن یوہانس ولہیلم رؤرج کہتے ہیں کہ اس جائزے کے ذریعے ماؤں کی کمزوریوں کو پرکھا جا سکتا ہے۔ اس جائزے کے مطابق جنسی استحصال کے واقعات کے بہت سی ماؤں کی طرف سے نظر انداز کیے جانے کی بڑی وجوہات میں مالی انحصار، جذباتی تعلق یا پھر ساتھی کی جانب سے تشدد شامل ہوتے ہیں۔ اکثر خواتین کو ایسی صورتحال میں تنہا رہ جانے یا خاندان سے الگ کر دیے جانے کا خوف بھی ہوتا ہے۔

یہ کمیشن مئی 2016ء سے کام کر رہا ہے۔ اس رپورٹ کی تیاری کے سلسلے میں تین سو بالغ افراد سے بات چیت کی گئی، جنہوں نے اپنے بچپن یا لڑکپن میں رونما ہونے والے ایسے واقعات کی تفصیلات بتائیں۔ اس سلسلے میں ابھی مزید سات سو افراد سے بات چیت کی جانا ہے۔ ان میں سے زیادہ تر تیس اور پچاس برس کے درمیان کی عمر کی خواتین ہیں۔