1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

جبل نور میں قرآن کا ری سائیکلنگ پلانٹ

پاکستان کے جنوب مغربی شہر کوئٹہ کے جبل نور میں چُھپے قرآن کے قدیم نسخوں کی ری سائیکلنگ کا پہلا انوکھا پلانٹ ایک انقلابی پروجیکٹ کے ساتھ ساتھ انتہا پسندانہ حملوں کے خطرے سے دوچار ہے۔

کوئٹہ کے بسکٹ رنگ کے خُشک پہاڑوں میں ایک تعجب خیز اور انمول خزانہ چھپا ہے۔ ان پہاڑوں کی شہد کی مکھی کے چھتے کی طرح کی سرنگوں میں لاتعداد بکسوں میں بند قرآن کے نسخوں کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ ان میں سے اکثر 600 سال تک قدیم ہو سکتے ہیں۔ جبل نور کے منتظم حاجی مظفر علی کا کہنا ہے،’’ہم نے کم از کم پانچ ملین بوریاں دفنائی ہیں جن میں قرآن کے پُرانے نسخے بھرے تھے۔‘‘

قرآن کا روضہ

کوئٹہ کے اس اہم مقام ’جبل نور‘ کی طرف ہزاروں زائرین کی آمد کا سلسلہ اُس وقت سے زیادہ تیز ہوا جب اس علاقے کے دو مقامی بھائیوں نے اس جگہ کو مسلمانوں کی مقدس کتاب ’قرآن کے ایک مزار یا روضہ‘ کی شکل دینے کا فیصلہ کیا۔ یہ کوہستانی علاقہ سرنگوں کی بھول بھلیوں اور دشوار گزار راستوں سے بھرپور ہے اور آہستہ آہستہ ان میں قرآن کے نسخوں سے بھرے بکسوں کے رکھنے کی جگہ ختم ہوتی جا رہی ہے۔ اب یہ انمول خزانہ عیاں ہونے لگا ہے کیونکہ اس کوہستانی علاقے کے منتظمین اس کے لیے مزید جگہ بنانے کی کوشش کر رہے ہیں اور ان جگہوں پر یہ اس سلسلے میں ہونے والی سرگرمیاں کسی سے چھپی نہیں رہ سکتیں۔

Pakistan Jabal-e-Noor Screenshot Twitter/DT Hajj and Umrah Menschen pilgern Berg hoch

ہزاروں افراد جبل نور کی زیارت کے لیے جاتے ہیں

انقلابی پروجیکٹ

پاکستانی معاشرے میں قرآن سے متعلق کسی قسم کے اقدامات سے پہلے بہت محتاط رہنے کی ضرورت ہے۔ یہ انتہائی حساس موضوع ہے اور مسلمانوں کی اس مقدس کتاب کی مبینہ بےحُرمتی توہین مذہب کے تناظر میں دیکھی جاتی ہے اور توہین مذہب کی سزا موت بھی ہو سکتی ہے۔ اس جرم کے مبینہ ارتکاب کے خلاف یا تو ریاست یا مشتعل بلوائی سخت رد عمل کا اظہار کرتے ہیں۔

پاکستان میں علماءِ دین مخدوش الحال اور قدیم قُرانی صفحات کی حفاظت کے دو اہم طریقوں پر زور دیتے ہیں ایک یہ کہ اس مقدس کتاب کو پاک صاف کپڑے کے غلاف میں لپیٹ کر دفنا دیا جائے جیسے کے جبل النور کے مقام میں یا پھر ان صفحات کو بہتے پانی میں ڈال دیا جائے تاکہ ان کی روشنائی پانی میں گُھل جائے اور صفحات مٹ جائیں۔

Bangladesch Hefajat-e Islam Blasphemie Gesetz Ausschreitungen Dhaka

قرآنی نسخوں کی تکریم و تعظیم ایک نہایت حساس معاملہ ہے

قرآن کا ری سائیکلنگ پلانٹ

کوئٹہ کے ان پہاڑوں کے پیچھے زندگی بسر کرنے والے ایک ثروت مند مقامی 77 سالہ بزنس مین عبدل سرمد لہری کے ذہن میں ایک انوکھا خیال آیا ہے تاہم اس کو عملی جامہ پہنانا نہایت انقلابی تصور بھی ہے اور ساتھ ہی خطرات سے بھرپور بھی۔ سرمد لہری پاکستان کا پہلا ’قرآن ری سائیکلنگ پلانٹس‘ بنانا چاہتے ہیں۔ یہ اقدام لہری کے ’مقدس مزار یا روضے‘ پر انتہا پسندوں کے پُرتشدد حملوں کا سبب بھی بن سکتا ہے تاہم تعجب کی بات یہ ہے کہ پاکستان کے بہت سے اسکالرز کا کہنا ہے کہ لہری کی یہ کوشش کامیاب ہو سکتی ہے۔ پاکستان کی علماء کونسل کے چیئرمین طاہر محمود اشرفی اس بارے میں کہتے ہیں،’’مذہبی اسکالرز قرآن کی ری سائیکلنگ پلانٹ کے منصوبے کی منظوری دے چُکے ہیں۔ اگر اس ری سائیکلنگ کے ذریعے قرآن کے صفحات کو دوبارہ بروئے کار لایا جا سکتا ہے تو اس میں کوئی حرج نہیں۔‘‘

ایک اور معروف مذہبی اسکالر مفتی منیب الرحمان نے بھی اسی قسم کے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا،’’صفحات پر سے الفاظ کے مٹ جانے اور اس عمل پر اسلامی تعلیمات کے تحت کام ہونے کی صورت میں ان صفحات کو دوبارہ قابل استعمال بنایا جا سکتا ہے اور اس سے کارڈ بورڈز یا دیگر مصنوعات سازی بھی کی جا سکتی ہے۔‘‘

DW.COM