1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

جاپان کے یُوکیا امانو IAEA کے نئے سربراہ

IAEA یعنی انٹرنیشنل اٹامک اینرجی ایجنسی کے 150 رکن ممالک نے متفقہ طور پر جاپان کے 62 سالہ یُوکیا امانو کی اگلے چار سال کے لئے ایٹمی توانائی کے اِس بین الاقوامی ادارے کے نئے سربراہ کے طور پر توثیق کر دی ہے۔

default

یُوکیا امانو

IAEA یعنی انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی کے 150 رکن ممالک نے متفقہ طور پر جاپان کے 62 سالہ یُوکیا امانو کی اگلے چار سال کے لئے ایٹمی توانائی کے اِس بین الاقوامی ادارے کے نئے سربراہ کے طور پر توثیق کر دی ہے۔

IAEA Treffen in Wien Mohamed ElBaradei

محمد البارادئی

آئی اے ای اے کے نئے ڈائریکٹر جنرل امانو ستمبر سن 2005ء سے اِس بین الاقوامی ادارے میں اپنے ملک کی نمائندگی کرتے چلے آ رہے ہیں۔ اُنہیں 35 رُکنی بورڈ آف گورنرز نے اِس سال جولائی کے اوائل میں ہی چوتھے انتخابی مرحلے میں مطلوبہ دو تہائی اکثریت سے محمد البارادئی کا جانشین منتخب کر لیا تھا۔ اب اُن کی توثیق آئی اے ای اے کے اُس سالانہ عام اجلاس کے آغاز پر کی گئی، جو ایک ہفتے تک جاری رہے گا۔ وہ یکم دسمبر سے اپنے عہدے کی ذمہ داریاں سنبھال لیں گے۔

یُوکیا امانو کے کیریئر کا آغاز 70ء کے عشرے میں جاپانی وزارتِ خارجہ میں شروع ہوا تھا، جہاں اُنہوں نے تخفیفِ اسلحہ اور ایٹمی امور کے ماہر کے طور پر اپنی پوزیشن مستحکم بنائی۔ اپنی وزارت کے سائنس اور ایٹمی توانائی سے متعلق شعبوں کی قیادت کرتے ہوئے اُنہوں نے ایٹمی ہتھیاروں میں کمی کے موضوع پر متعدد بین الاقوامی کانفرنسوں میں شرکت کی۔ امانو کو امیر صنعتی ممالک اور بالخصوص امریکہ کا پسندیدہ اُمیدوار قرار دیا جا رہا تھا۔

امانو کے پیشرو محمد البارادئی کا تعلق مصر سے ہے اور وہ بارہ سال تک اِس عہدے پر کام کرنے کے بعد اِس سال نومبر میں اپنے عہدے سے رخصت ہو رہے ہیں۔ اِس ادارے اور اِس کے سربراہ البارادئی کو سن 2005ء میں مشترکہ طور پر امن کے نوبل انعام سے نوازا گیا تھا۔ 67 سالہ البارادئی کو ایران کی جانب نرم طرزِ عمل اختیار کرنے پر خاص طور پر امریکہ کی جانب سے ہدفِ تنقید بنایا جا رہا ہے۔

Nordkorea / Raketen

ایران سمیت شمالی کوریا کا جوہری منصوبہ بھی اٹامک انرجی ایجنسی کے لئے باعث تشویش ہے

IAEA سن 1970ء سے ایٹمی ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ کے اُس معاہدے کی پاسداری کی نگرانی کرتا چلا آ رہا ہے، جس کا مقصد اِس بات کو روکنا ہے کہ ایٹمی صنعت میں پیدا ہونے والا ایسا مواد دوسرے ممالک کی دسترس میں آ سکے، جس سے بم بنائے جا سکتے ہوں۔

البارادئی کے جانشین کو بڑے چیلنجوں کا سامنا ہے۔ آج کل بین الاقوامی برادری کے لئے خاص طور پر شمالی کوریا تشویش کا باعث بنا ہوا ہے، جس نے مئی کے اواخر میں دوسری مرتبہ ایٹمی تجربہ کیا تھا اور جس کا اپنا کہنا یہ ہے کہ وہ ایسیا یورنیم تیار کرنے کی کوشش میں ہے، جس سے ہتھیار تیار کئے جا سکیں۔ ایران کے ایٹمی پروگرام کے سلسلے میں بھی اِس ادارے کو کڑے مذاکرات کا سامنا ہے۔

جولائی میں اپنے انتخاب پر یُوکیا امانو نے کہا تھا کہ ایک جاپانی باشندے کے طور پر وہ تمام تر کوششیں کریں گے کہ ایٹمی ہتھیاروں کے مزید پھیلاؤ کو روکا جا سکے۔ اُن کا اشارہ دوسری عالمی جنگ کے اختتام پر جاپانی شہروں ہیروشیما اور ناگاساکی پر گرائے جانے والے ایٹم بموں کی جانب تھا۔

رپورٹ: امجد علی

ادارت: ندیم گِل

DW.COM