1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

جاپان کے پڑوس میں تابکاری اثرات کا خوف

جاپان کے پڑوسی ممالک نے اس زلزلہ زدہ ملک سے آنے والی اشیاء میں ممکنہ تابکاری کو جانچنے کا سلسلہ تیز کردیا ہے۔ عالمی ادارہ صحت نے البتہ یہ یقین دہائی کرائی ہے کہ فی الحال جاپان کے جوہری بجلی گھر کے اثرات بیرون ملک پہنچے۔

default

جاپان کے سب سے بڑے تجارتی ساتھی چین میں احکامات جاری کیے گیے کہ جاپان سے آنے والی تمام شپمنٹس میں تابکاری کے اثرات کا جائزہ لیا جائے۔

خیال رہے کہ جاپان اور چین کے مابین دو طرفہ تجارت کا سالانہ حجم 300 ارب ڈالر کے لگ بھگ ہے۔ دوسری طرف عالمی ادارہء صحت نے حالات کی نزاکت کو سمجھتے ہوئے ایک بیان جاری کیا ہے: ’’ WHO عوام اور حکومتوں کو یہ یقین دہانی کراتی ہے کہ فی الحال جاپان کے جوہری مقامات سے بین الاقوامی سطح پرکسی قسم کے اثرات پھیلنے کے شواہد نہیں ہیں۔‘‘ اس بیان میں ان افواہوں کی بھی نفی کی گئی کہ تابکاری کے اثرات ایشیاء بھر میں پھیل گئے ہیں۔

Hafen von Kaliningrad

روس کی Kaliningrad بندرگاہ

جاپانی حکومت نے بدھ کو متاثرہ فوکو شیما جوہری بجلی گھر کو ٹھیک کرنے کی کوششوں میں مصروف ہنگامی عملے کو واپس بلا لیا۔ ان افراد کو بظاہر وہاں تابکاری کے درجے میں اضافے کے خدشات کے پیش نظر واپس بلایا گیا۔ حکام کے مطابق اس جوہری بجلی گھر میں تابکاری کی سطح معمول سے تین سو گنا زیادہ ہے۔ بتایا جارہا ہے کہ طویل عرصے تک اسی درجے کی تابکاری نقصان کا سبب بن سکتی ہے تاہم یہ ہلاکت خیزی کی حد سے بہت دور ہے۔

واضح رہے کہ فوکوشیما کا یہ بجلی گھر دارالحکومت ٹوکیو سے محض 220 کلومیٹر شمال میں واقع ہے۔ ماہرین موسمیات کے مطابق فوکوشیما کے علاقے میں بارش و برفباری کی توقع ہے جس سے کسی حد تک صورتحال میں بہتری کا امکان ہے۔

روس اور کوریائی جزیرہ نما کی ریاستیں بھی جاپان کی بڑی تجارتی حلیف ہیں۔ روس میں ہنگامی حالات سے نمٹنے کی وزارت کے مطابق ان کے یہاں جاپان سے آنے والے تجارتی سامان میں کسی قسم کی تابکاری کے اثرات نہیں پائے گئے۔

China Dossierbild zu China 5 Jahre in der WTO Bild 1

چین کی ایک بندرگاہ کا منظر

جنوبی کوریا کے حکام کا کہنا ہے کہ انہوں نے تجارتی سامان کی جانچ کے نظام کو مزید سخت کردیا ہے۔ وہاں کی وزارت خوراک، زراعت، ماہی گیری وجنگلات کے مطابق جاپان سے برآمد کیے گئے لائیو سٹاک اور مچھلی کو مانیٹر کیا جارہا ہے۔ جنوبی کوریا اور جاپان کے مابین گزشتہ سال لگ بھگ 93 ارب ڈالر کی دو طرفہ تجارت ہوئی تھی۔

جاپان کے جنوب مغرب میں واقع تائیوان میں فوکوشیما کے علاقے سے درآمد کیے گئے سامان کے ساتھ ساتھ اُن مسافروں میں بھی تابکاری کے اثرات مانیٹر کیے جارہے ہیں جنہوں نے حال ہی میں جاپان کا سفر کیا ہے۔ سنگاپور، ہانگ ہانگ اور دیگر مشرقی ایشیائی ریاستوں کے علاوہ بھارت سے بھی اسی قسم کی اطلاعات موصول ہورہی ہیں۔

رپورٹ : شادی خان سیف

ادارت: افسر اعوان

DW.COM