1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

جاپان کے صد سالہ بوڑھے کہاں گئے

جاپان میں حکومتی حلقوں کو یہ پریشانی لاحق ہے کہ ایسے کئی بوڑھے افراد جن کی عمریں سو سال سے زائد تھیں، وہ کہاں غائب ہو گئے ہیں۔ ان کے بارے میں جاننے کے لئے سرکاری سطح پر کوششیں شروع کر دی گئی ہیں۔

default

ایک خوف کی کیفیت کئی خاندانوں میں پائی جاتی ہے کہ ان بوڑھوں کے ساتھ کوئی مجرمانہ زیادتی کا ارتکاب نہ کیا گیا ہو۔ حکام کا خیال ہے کہ لاپتہ ہو جانے والے سو سال سے زائد عمرکے بوڑھے اپنی طبی عمر پا چکے ہیں۔ ایسے لاپتہ بوڑھوں کی ابتدائی تعداد دو سو کے قریب بتائی جا رہی ہے۔

اس مناسبت سے جاپانی معاشرے کے بعض لوگوں نے سماجی اور حکومتی حلقوں کی سردمہری کی شکایت بھی کی ہے کہ یہ لوگ ایسے طویل العمر افراد کے لاپتہ ہو جانے سے یکسر نا واقف ہیں۔ ان افراد کا یہ بھی کہنا ہے کہ طویل العمری بہتر ہے لیکن یہ لوگ اپنے ہی معاشرے میں کٹ کر رہ گئے تھے۔ ان کے غائب ہو جانے کی ایک بڑی وجہ ان افراد کی تنہائی اور مرکزی سماجی دھارے سے کٹ جانا بھی بتایا گیا ہے۔

ان بوڑھے افراد کے لاپتہ ہو جانے کا حکومت کو احساس اس وقت ہوا جب پولیس نے دریافت کیا کہ جولائی میں ایک سو گیارہ برس کی ہو جانے والی سوگن کاٹو اپنے اپارٹمنٹ پر موجود نہیں۔ ٹوکیو کی شہری انتظامیہ کے مطابق وہ شہر کی سب سے طویل العمر خاتون تھیں لیکن وہ بتیس سال پہلے ہی فوت ہو چکی تھیں اور ان کی جزوی طور پر حنوط شدہ لاش اب ملی ہے۔ پولیس اب اس کے لواحقین سے پینشن فراڈ کی پوچھ گچھ شروع کرچکی ہے۔

Bombenanschlag am Flughafen Düsseldorf

جاپانی معاشرے میں بوڑھوں سے متعلق تشویش بڑھ رہی ہے

سوگن کاٹو کی موت کی خبر کے بعد سارے جاپان میں صد سالہ بوڑھوں کی تلاش کا عمل شروع کیا گیا تو حکومت حیران رہ گئی کہ بے شمار ایسے افراد لاپتہ ہو چکے ہیں اور قیاس کیا جا رہا ہے کہ وہ وفات پا چکے ہوں گے۔ ان خبروں سے جاپان کی سماجی نظام پر انگلیاں اٹھنے لگی ہیں کہ اقتصادی ترقی کے باوجود اندرون خانہ طویل عمر کے بوڑھے کیسے نظر انداز کردیے گئے تھے۔ اس کیفیت کا ادراک اور احاطہ حکومتی حلقوں کے ساتھ سماجی حلقے نہیں کر پا رہے ہیں۔

جاپان میں محکمہ آبادی کے مطابق گزشتہ سال تک 40 ہزار تین سو 99 ایک سو سال سے زائد عمر کے افراد ریکارڈ میں زندہ دکھائے گئے تھے۔ عوامی حلقے حکومت سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ ایسے افراد کا ریکارڈ از سر نو مرتب کیا جائے اور صد سالہ بوڑھوں کی صحت اور معمولات زندگی کے بارے میں خصوصی پالیسی مرتب کی جائے۔ متعدد افراد کا خیال ہے کہ اصل میں اب یہ تعداد چند سو افراد پر مشتمل ہے۔ رواں برس اکیس ستمبر کو جاپان میں سو سال یا اس سے زائد عمر کے بوڑھوں کے احترام میں خصوصی دن بھی منایا جائے گا۔

رپورٹ: عابد حسین

ادارت: ندیم گِل

DW.COM

ویب لنکس