1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

جاپان کے جوہری پاور پلانٹ پر ایک اور دھماکہ

جاپان میں زلزلے سے متاثرہ جوہری پاور پلانٹ پر تیسرا دھماکہ ہوا ہے، جس کے بعد بعض ورکرز کو وہاں سے چلے جانے کا حکم دیا گیا ہے۔ اس تناظر میں صورت حال مزید پیچیدہ ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

default

یہ دھماکہ منگل کو فوکوشیما ڈائچی پلانٹ کے ری ایکٹر نمبر دو پر ہوا ہے۔ وہاں پہلے ہی دو ری ایکٹرز پر دھماکے ہو چکے ہیں۔ حکام نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ ری ایکٹر میں موجود فیول راڈز پگھل سکتے ہیں۔ پلانٹ کے قریب ریڈی ایشن لیول بھی بڑھ گیا ہے۔

یہ پلانٹ دارالحکومت ٹوکیو سے 250 کلومیٹر شمال مشرق میں واقع ہے، جہاں ہونے والے اس دھماکے کی وجہ نہیں بتائی گئی۔ تاہم جاپان کی نیوکلیئر سیفٹی ایجنسی کے ایک اہلکار نے خبررساں ادارے روئٹرز کو بتایا، ’یہ ہائیڈروجن دھماکہ تھا۔ ہم اس کی وجہ کا پتہ لگانے کی کوشش کر رہے ہیں۔‘

فوکوشیما ڈائچی کے منتظمین نے کہا ہے کہ منگل کو ہونے والے دھماکے کے بعد ریڈی ایشن کی سطح بڑھ رہی ہے۔ تاہم ان کا کہنا ہے کہ یہ لیول مقامی انتظامیہ کی جانب سے بتائی گئی اس سطح سے بہت نیچے ہے، جو انسانی صحت پر اثر انداز ہو سکتی ہے۔

پیر کو اسی پلانٹ کے ری ایکٹر نمبر تین پر دھماکہ ہوا تھا، جس کے نتیجے میں گیارہ افراد زخمی ہوئے، جبکہ اس کی نزدیکی عمارت تباہ ہو گئی تھی۔ یہ دھماکہ چالیس کلومیٹر دُور تک محسوس کیا گیا تھا۔ ری ایکٹر نمبر ایک پر دھماکہ ہفتہ کو ہوا تھا۔

Japan Erdbeben Tsunami Atomkraftwerk Fukushima Dai-ichi Flash-Galerie

دوسرا دھماکہ اس قدر شدید تھا کہ اسے چالیس کلومیٹر تک محسوس کیا گیا

جاپان میں یہ صورت حال جمعہ کو آنے والے زلزلے اور سونامی کے باعث پیدا ہوئی ہے۔ جاپان نے ری ایکٹروں کو ٹھنڈا کرنے کے لیے امریکہ سے مزید آلات فراہم کرنے کی درخواست کی ہے۔

جاپان میں جمعہ کو آنے والے زلزلے اور سونامی کے نتیجے میں جو تباہی ہوئی، وہ ابھی تک واضح ہو رہی ہے۔ امدادی کارکن ٹوکیو کے شمالی خطے میں سرگرم ہیں، جہاں حکام نے ہلاکتوں کی تعداد دس ہزار بتائی ہے۔ متاثرہ علاقے میں موجود انٹرنیشنل ریڈ کراس فیڈریشن کے پیٹرک فولیر کا کہنا ہے، ’یہ جہنم کا منظر ہے، یہ بہت ہولناک ہے۔‘

جاپان کے وزیر اعظم ناؤتو کان ان حالات کو دوسری عالمی جنگ کے بعد ملک کے لیے بدترین قرار دے چکے ہیں۔ اس کے نتیجے میں اٹھنے والے اخراجات کا تخمینہ 180 ارب ڈالر لگایا گیا ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ دنیا کی یہ تیسری بڑی اقتصادی طاقت مالیاتی بحران کا شکار ہو سکتی ہے۔

رپورٹ: ندیم گِل/خبررساں ادارے

ادارت: افسر اعوان

DW.COM

ویب لنکس