1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

جاپان کا جوہری پاور پلانٹ اب آگ کی زد میں

جاپان کے حکام ایک بڑی تباہی کا رُخ موڑنے کی کوششوں میں تاحال مصروف ہیں۔ وہاں زلزلے سے متاثرہ جوہری پاور پلانٹ پر بدھ کو ایک مرتبہ پھر آگ بھڑکنے سے صورت حال مزید تشویشناک ہو گئی، تاہم اب یہ آگ بجھ چکی ہے۔

default

جاپان کی اٹامک سیفٹی ایجنسی ’نیوکلیئر اینڈ انڈسٹریل سیفٹی ایجنسی‘ کے ترجمان منورو اوگودا نے خبررساں ادارے اے ایف پی کو بتایا، ’ہمیں پلانٹ کے منتظمین سے معلومات موصول ہوئی ہیں کہ وہاں آگ یا دھواں اب دکھائی نہیں دے رہا۔ ایسا لگتا ہے کہ آگ خود ہی بجھ گئی ہے۔‘

بدھ کو لگنے والی آگ کے نتیجے میں کم تر سطح کی ریڈی ایشن دارالحکومت ٹوکیو کی جانب بڑھی۔ اس کے نتیجے میں کچھ لوگوں نے شہر چھوڑنا شروع کر دیا جبکہ بین الاقوامی سطح پر بھی تشویش پیدا ہو گئی ہے۔ تاہم حکام کا کہنا ہے کہ ٹوکیو میں ریڈی ایشن کی سطح مہلک نہیں ہے۔

جوہری توانائی کے بین الاقوامی ادارے آئی اے ای اے کے ڈائریکٹر جنرل یوکیا امانو نے اس حوالے سے بروقت اور تفصیلی معلومات دیے جانے کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے ویانا میں ایک نیوز کانفرنس سے خطاب میں کہا، ’ہمیں تفصیلی معلومات حاصل نہیں، جس کی وجہ سے ہماری کوششیں محدود ہیں۔‘

توانائی کے امریکی محکمے کا کہنا ہے کہ جوہری بحران کے تناظر میں جاپان کی مدد کے لیے 34 رکنی ایک ٹیم جاپان روانہ کر دی گئی ہے۔

جاپانی وزیر اعظم ناؤتو کان نے منگل کو فوکوشیما ڈائچی پلانٹ سے30 کلومیٹر کے علاقے میں آباد شہریوں پر زور دیا تھا کہ گھروں کے اندر ہی رہیں۔ اس علاقے میں ایک لاکھ 40 ہزار افراد آباد ہیں۔

وزیر اعظم ناؤتو کان ان حالات کو دوسری عالمی جنگ کے بعد ملک کے لیے بدترین قرار دے چکے ہیں۔ اس کے نتیجے میں اٹھنے والے اخراجات کا تخمینہ 180 ارب ڈالر لگایا گیا ہے۔

Flash-Galerie Japan Erdbeben Tsunami

چھ ہزار سے زائد مکان مکمل طور پر تباہ ہو چکے ہیں

جاپان کو جوہری بحران کے علاوہ زلزلے اور سونامی کے نتیجے ہونے والی تباہی کا بھی سامنا ہے، جس کے نتیجے میں دس ہزار سے زائد افراد کی ہلاکت کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ جاپان کے سرکاری ٹیلی وژن این ایچ کے کے مطابق ساڑھے تین ہزار سے زائد اموات کی تصدیق ہو چکی ہے جبکہ ساڑھے سات ہزار سے زائد افراد تاحال لاپتہ ہیں۔

اس ٹیلی وژن کا کہنا ہے کہ زلزلے اور سونامی سے متاثرہ علاقوں سے چار لاکھ 40 ہزار افراد کو نکال کر محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا چکا ہے۔

بتایا جاتا ہے کہ متاثرہ علاقوں میں 76 ہزار مکان متاثرہ ہوئے ہیں، جن میں سے چھ ہزار سے زائد مکمل طور پر تباہ ہوئے۔

رپورٹ: ندیم گِل/خبررساں ادارے

ادارت: افسر اعوان

DW.COM

ویب لنکس