1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

صحت

جاپان کا جوہری حادثہ انسانی صحت کے لیے خطرہ نہیں، عالمی ادارہ صحت

عالمی ادارہ برائے صحت نے کہا ہے کہ جاپان میں زلزلے سے متاثرہ جوہری پاور پلانٹ کے حادثے سے صحت عامہ کو کوئی بڑا خطرہ لاحق نہیں ہے۔

default

عالمی ادارہ برائے صحت نے منگل کو ایک بیان میں کہا کہ جاپان میں ہونے والا ایٹمی حادثہ تیس کلومیٹر کے حفاظتی زون کے باہر رہنے والوں کی صحت کے لیے کوئی بڑا خطرہ نہیں ہے۔ قبل ازیں جاپان میں جوہری بجلی گھر سے متعلق خطرے کا لیول پانچ سے بڑھا کر سات کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا، جو بین الاقوامی درجہ بندی کے لحاظ سے بلند ترین سطح ہے۔

دوسری جانب چین کی نیوکلیئر سیفٹی ایجنسی نے کہا ہے کہ جاپان کے فوکو شیما ڈائچی پلانٹ سے نکلنے والی تابکار شعاعیں چینی شہریوں کے لیے

Superteaser NO FLASH Japan Fukushima Brand in der Anlage

چینی جوہری حکام کے مطابق جاپانی ایٹمی حادثے کا چرنوبل کے ساتھ موازنہ نہیں کیا جا سکتا

کوئی بڑا خطرہ نہیں ہیں۔ قبل ازیں کہا جا رہا تھا کہ تابکاری سے جاپان سمیت اس کے ہمسایہ ممالک بھی متاثر ہو سکتے ہیں۔ چینی جوہری حکام کے مطابق جاپانی ایٹمی حادثے کا چرنوبل کے ساتھ موازنہ نہیں کیا جا سکتا۔ اُدھر نیوکلیئر انڈسٹری کے امریکی ماہر مرے جینیکس نے بھی کہا ہے، ’یہ کسی طرح بھی اُس سطح کے قریب نہیں۔ چرنوبل کا حادثہ بہت خوفناک تھا۔ وہاں دھماکہ ہوا تھا اور اس پر قابو نہیں پایا جا سکا تھا۔‘

دوسری جانب شمال مشرقی جاپان متاثرہ میں جوہری پاور پلانٹ سے انتہائی تابکار پانی کو قریب ہی سٹوریج ویسل میں منتقل کرنا شروع کر دیا گیا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ سات سو ٹن تابکار پانی کو منتقل کیا جائے گا، جس کے لیے 40 گھنٹے درکار ہوں گے۔ حکام کا کہنا ہے کہ پانی کو پمپ کر کے نکالنے میں کئی دن درکار ہوں گے۔ حکام کے مطابق ری ایکٹر نمبر ایک، دو اور تین کے بیسمنٹ میں مجموعی طور پر ساٹھ ہزار ٹن تابکار پانی جمع ہو چکا ہے۔

یاد رہے کہ جاپان کے حالیہ خوفناک زلزلے کے بعد سے فوکوشیما جوہری پاور پلانٹ سے تابکاری کے اخراج کا سلسلہ جاپان سمیت دینا بھر کے لیے گہری تشویش کا باعث بنا ہوا ہے۔

رپورٹ: امتیاز احمد

ادارت: ندیم گِل