1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

’جاپان کا بھی یونان جیسا حال ہوسکتا ہے‘

نئے جاپانی وزیر اعظم نااوتوکان نے خبردار کیا ہے کہ مالیاتی خسارے کی صورتحال پر فوری طور سے قابو نہ پایا گیا تو جاپان کو بھی مالی مسائل میں گھری یورپی ریاست یونان جیسے حالات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

default

نئے جاپانی وزیر اعظم

گزشتہ منگل کے روز اپنی نئی حکومتی ذمہ داریاں سنبھالنے والے نو منتخب وزیر اعظم نے یہ بات ملکی پارلیمان سے اپنے پہلے خطاب میں کہی۔ ان کے بقول دنیا کی یہ دوسری سب سے بڑی معیشت مسلسل بڑھتے ہوئے مالی خسارے کو مزید برداشت نہیں کر سکتی۔ جاپانی معیشت پہلے ہی کم اور بوڑھی ہوتی جا رہی آبادی کے باعث دباؤ میں ہے۔ جاپان کی معاشی صورتحال اگرچہ یونان سے تو بہت زیادہ بہتر ہے تاہم نئے جاپانی وزیر اعظم کے حالیہ بیان کو ان کی نئی پالیسیوں کے ضمن میں دیکھا جارہا ہے۔

کئی دہائیوں تک بے پناہ اخراجات اور کم ٹیکسوں کے باعث جاپان کے ذمے ریاستی قرضے اس کی مجموعی قومی پیداوار سے تقریباً دوگنا ہو چکے ہیں۔ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے مطابق جاپانی بجٹ میں سالانہ خسارہ ترقی یافتہ ممالک میں سب سے زیادہ ہے۔

اپنے خطاب میں نااوتو کان نے قانون سازوں کو خبردار کیا کہ اگر ٹوکیو حکومت نے سرکاری بانڈز کے اجراء کا سلسلہ موجودہ رفتار سے جاری رکھا تو ملک دیوالیہ پن کے دہانے پر آ کھڑا ہو گا۔ مبصرین کے مطابق نااوتو کان مارچ 2012ء تک 44 ٹریلین ین مالیت کے حکومتی بانڈز کے اجراء کی حد مقرر کر دیں گے۔

Japan Wirtschaft Tokio Börse Kurse Fußgänger

مالیاتی امور کے بعض مبصرین البتہ نااوتوکان پر الزام عائد کرتے ہیں کہ وہ موجودہ صورتحال کو بڑھا چڑھا کر پیش کر رہے ہیں

نااوتوکان کا کہنا تھا کہ بڑھتے ہوئے خسارے پر فوری طور پر قابو نہں پایا جاسکتا بلکہ اس کے لئے ایک جامع منصوبے کی ضرورت ہے۔ ماضی میں وزیر خزانہ رہ چکنے والے نااوتوکان نے وزیر اعظم کی حیثیت سے اپنی ذمہ داریاں باقاعدہ طور پر منگل کو سنبھالی تھیں۔

انہوں نے مالیاتی صورتحال کو بہتر بنانے کے لئے مالی معاملات کا از سر نو جائزہ لینے کا عزم کر رکھا ہے۔ جاپان میں پارلیمان کے ایوان بالا کے لئے گیارہ جولائی کو انتخابات ہو رہے ہیں اور شاید اسی وجہ سے نئے وزیر اعظم نے اپنے منصوبوں کی زیادہ وضاحت بھی نہیں کی۔ مبصرین کے مطابق قوی امکان ہے کہ نااوتوکان محصولات میں اضافہ کردیں گے۔ اسی لئے ان انتخابات سے قبل وہ رائے دہندگان کو ناراض کرنے کا خطرہ مول نہیں لینا چاہتے۔

مالیاتی امور کے بعض مبصرین البتہ نااوتوکان پر الزام عائد کرتے ہیں کہ وہ موجودہ صورتحال کو بڑھا چڑھا کر پیش کر رہے ہیں۔ کریڈٹ سوئس جاپان نامی مالیاتی ادارے کے چیف اکانومسٹ ہیرومیشی شراکاوا کے بقول جاپان تجارتی منافع کا حامل اور دوسری ریاستوں کو قرضے دینے والا ایک بڑا ملک ہے جبکہ یونان کو خطیر مالیت کے ملکی اور بیرونی قرضوں کا سامنا ہے۔ اسی لئے ان دونوں ملکوں کا موازنہ کرنا مناسب نہیں۔

رپورٹ: شادی خان سیف

ادارت: مقبول ملک

DW.COM