جاپان کا افریقہ میں تیس ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کا اعلان | حالات حاضرہ | DW | 27.08.2016
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

جاپان کا افریقہ میں تیس ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کا اعلان

جاپانی وزیر اعظم آبے نے افریقی ترقی کے موضوع پر نیروبی میں ہونے والی پہلی ٹوکیو انٹرنیشنل کانفرنس میں افریقہ میں تیس ارب ڈالر کی جاپانی سرمایہ کاری کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ ٹوکیو افریقہ کے بہتر مستقبل پر یقین رکھتا ہے۔

Kenia Internationale Tokio-Konferenz für Afrikanische Entwicklung

چھٹی ٹوکیو انٹرنیشنل کانفرنس کے پہلے روز جاپانی وزیر اعظم آبے، دائیں، کینیا کے صدر کینیاٹا سے مصافحہ کرتے ہوئے

نیروبی سے ہفتہ ستائیس اگست کو ملنے والی نیوز ایجنسی اے ایف پی کی رپورٹوں میں بتایا گیا ہے کہ جاپانی وزیر اعظم نے اس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا، ’’جاپان 2018ء تک افریقہ میں 30 بلین ڈالر (27 بلین یورو) کی سرمایہ کاری کرے گا اور ان رقوم میں سے 10 بلین ڈالر کی سرمایہ کاری مختلف ملکوں میں بنیادی ڈھانچے کی ترقی کے لیے کی جائے گی۔‘‘

جاپانی سربراہ حکومت نے کانفرنس کے شرکاء سے اپنے خطاب میں کہا کہ یہ سرمایہ کاری جاپانی حکومت اور نجی شعبے دونوں کی طرف سے کی جائے گی اور اس اقتصادی پروگرام کی مجموعی مالیت دیکھی جائے، تو وہ 30 ارب ڈالر کے برابر بنتی ہے۔

شینزو آبے نے مزید کہا، ’’یہ سرمایہ کاری اس امر کا ثبوت ہے کہ جاپان افریقہ کے بہتر مستقبل پر کس حد تک یقین رکھتا ہے۔‘‘ وزیر اعظم آبے افریقی ترقی سے متعلق جس ٹوکیو انٹرنیشنل کانفرنس یا ٹیکاڈ (TICAD) سے خطاب کر رہے تھے، اس کا اس بار پہلی مرتبہ انعقاد افریقہ ہی میں کیا گیا ہے۔ آج سے پہلے ہونے والی ایسی تمام پانچوں بین الاقوامی کانفرنسیں ٹوکیو میں منعقد کی گئی تھیں۔

آج شروع ہونے والی اس کانفرنس کے دوران جاپانی وزیر اعظم براعظم افریقہ کی مجموعی طور پر درجنوں ریاستوں کے رہنماؤں سے ملیں گے، جن میں کینیا کے صدر اُوہُورُو کینیاٹا اور جنوبی افریقہ کے صدر جیکب زوما بھی شامل ہیں۔

اس کانفرنس کے انعقاد کا مقصد جاپان کی افریقہ کے ساتھ تجارت کے ساتھ ساتھ ٹوکیو کی طرف سے اس براعظم کے لیے امداد میں بھی اضافہ کرنا ہے۔ اے ایف پی کے مطابق اس بین الاقوامی اجتماع کا انعقاد جاپان کے لیے اس وجہ سے بھی اہم ہے کہ ٹوکیو کو امید ہے کہ افریقہ میں زیادہ اثر و رسوخ کے لیے اپنے زیادہ مال دار لیکن حریف ملک چین کے ساتھ مقابلہ بازی میں جاپان ’مقدار کے مقابلے میں بہتر معیار‘ کے ساتھ بیجنگ کو پیچھے چھوڑ سکتا ہے۔

Kenia Internationale Tokio-Konferenz für Afrikanische Entwicklung

اس کانفرنس کے دوران جاپانی وزیر اعظم براعظم افریقہ کی مجموعی طور پر درجنوں ریاستوں کے رہنماؤں سے ملیں گے

روایتی طور پر جاپان کی افریقہ میں اقتصادی موجودگی پرانی بھی ہے اور مسلمہ بھی، لیکن ٹوکیو کی اس براعظم کے لیے مالیاتی اہمیت افریقہ میں اپنے لیے زیادہ اثر و رسوخ کے لیے سرگرم حریف ایشیائی ملک چین کی وجہ سے کافی ماند بھی پڑ چکی ہے۔

چین اس وقت امریکا کے بعد دنیا کی دوسری سب سے بڑی معیشت ہے، جس کی قدرتی وسائل کی طلب بھی بہت زیادہ ہے۔ 2015ء میں چین کی افریقہ کے ساتھ سالانہ تجارت کا مجموعی حجم قریب 179 بلین ڈالر رہا تھا۔ اس کے برعکس جاپان کی افریقہ کے ساتھ مجموعی سالانہ تجارت پچھلے برس صرف تقریباﹰ 24 بلین ڈالر کے برابر رہی تھی۔

DW.COM