1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

جاپان، پیونگ یانگ راکٹ تجربے کے دفاع کے لئے تیار

جاپان نے واضح کیا ہے کہ شمالی کوریا کا سیٹیلائٹ لے جانے والا راکٹ اگر جاپانی حدود میں گرتا ہے تو اسے تباہ کیا جا سکتا ہے۔ جاپانی نیوز ایجنسی کیوڈو کے مطابق جاپان نے بیلیسٹک میزائیل کو تباہ کرنے والا نظام متحرک کر رہا ہے۔

default

شمالی اور جنوبئی کوریا کے درمیان پہلے ہی زبردست کشیدگی پائی جاتی ہے

شمالی کوریا کی جانب سے اعلان کئے گئے شیڈول میں بتایا گیا تھا کہ اپریل کی چار تاریخ سے لے کر آٹھ تاریخ کے درمیان پیونگ یانگ اپنا سیٹیلائٹ روانہ کرے گا۔ جاپان، جنوبی کوریا اور امریکہ اسے طویل فاصلے تک مار کرنے والے بیلیسٹک میزائیل کا تجربہ قرار دے رہے ہیں۔ اس سلسلے میں ان ممالک کی جانب سے کئی مرتبہ تحفظات اور تشویش کا اظہار بھی کیا گیا ہے۔

شمالی کوریا کا موقف ہے کہ اگر تجربے کے دوران راکٹ کو تباہ کیا گیا تو اسے اعلان جنگ سمجھا جائے گا۔ پیونگ یانگ راکٹ تجربے کی تیاریوں میں مصروف ہے اور ائیرلائنز کو ہدایات دے چکا ہے کہ وہ شمالی کوریا کے مشرقی ساحلی علاقے کو بطور فضائی راستہ استعمال کرنے سے گریز کریں۔

شمالی کوریا نے2006 میں بھی طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائیل Taepodong-2 کا تجربہ کیا تھا تاہم اس وقت یہ لانچ کئے جانے کے چند سیکنڈ بعد ہی فضا میں تباہ ہو گیا تھا۔ ماہرین کا خیال ہے کہ شمالی کوریا اس ٹیکنالوجی میں ترقی کی جانچ کرنا چاہتا ہے۔ طویل فاصلے تک مار کرنے والے اس میزائیل کی مدد سے امریکی علاقے الاسکا تک کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔

اس سے قبل بھی شمالی کوریا نے 1998 میں جو تجربہ کیا تھا اس میں راکٹ جاپان کے اوپر سے ہوتا ہوا بحر الکاہل میں گرا تھا۔

جاپانی قانون کے مطابق ملکی حدود میں گرنے والے کسی بھی خطرناک شے کو مار گرایا جا سکتا ہے۔ جاپانی کابینہ اس حوالے سے ضروری اقدامات کی تیاریوں میں مصروف ہیں۔ جاپانی نیوز ایجنسی کے مطابق ہدایات میں طے کیا جا رہا ہے کہ اگر راکٹ جاپانی حدود میں گر رہا ہو تو اسے تباہ کر دیا جائے۔

شمالی کوریا کا دعویٰ ہے کہ یہ راکٹ سیٹیلائٹ کو خلا میں بھیجنے کے لئے داغا جا رہا ہے۔ اس تجربے کے مطابق فضا تک رسائی کے دوران پہلے مرحلے میں راکٹ کا ایک ٹکڑا جاپانی سمندر میں گرے گا جب کہ دوسرا بحرالکاہل میں۔

جاپانی کابینہ کی جانب سے حتمی ہدایات رواں ماہ کے آخر تک سامنے آ جائیں گی۔ ممکنہ طور پر اس حوالے سے میزائیل شکن نظام پیٹریاٹ کیپیبلیٹی 3 کو متحرک کیا جاسکتا ہے۔

جاپان میں امن پسند آئین کے باعث کسی بھی فوجی کارروائی کے لئے کابینہ کی منظوری ضروری ہوتی ہے۔

ماہرین کا خیال ہے کہ راکٹ کو تباہ کرنے کے حوالے سے کسی امریکی کارروائی کا کوئی امکان نہیں کیونکہ راکٹ تجربہ امریکہ کے لئے اس قدر تشویش کا باعث نہیں تاہم راکٹ کی تباہی کشیدگی میں زبردست اضافے کا باعث بن سکتی ہے۔