1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

جاپان میں نیا جوہری نگران ادارہ قائم کرنے کا منصوبہ

جاپان میں رواں ہفتے ایک نیا جوہری نگران ادارہ قائم کرنے کا منصوبہ پیش کیا جائے گا، جس سے جوہری بجلی گھروں کے لیے تحفظ کے معیار سخت ہوں گے اور ان کے اخراجات میں بھی اضافہ ہوگا۔

default

موجودہ نگران ادارے کے صنعت کے ساتھ خوشگوار تعلقات کو جاپان کے 25 سالوں میں بدترین جوہری بحران کو روکنے میں ناکامی کی بنیادی وجہ قرار دیا جا رہا ہے۔

اس مسئلے پر قابو پانے کے لیے حکومت جوہری اور صنعتی تحفظ کے ادارے (NISA) کے علاوہ ایک اور سرکاری مشاورتی ادارے کو ادارہ ماحولیات کے ماتحت کرنا چاہتی ہے ۔

اس فیصلے سے قواعد مزید سخت ہو سکتے ہیں مگر ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ صرف یہ فیصلہ تیزی سے غیر مقبول ہوتی ہوئی جوہری صنعت کی مؤثر نگرانی کو یقینی بنانے کے لیے ناکافی ہے، اور نہ ہی اس سے جاپانی عوام کا ملک کی بجلی تیار کرنے والی کمپنیوں پر اعتماد بحال ہوگا۔ مارچ میں آنے والے طاقتور زلزلے اور سونامی کے باعث فوکوشیما جوہری پلانٹ کے حادثے سے عوامی اعتماد کو نقصان پہنچا تھا اور ناقص منصوبہ بندی کی اطلاعات کے بعد اس میں مزید کمی واقع ہوئی۔

Japan Fukushima Kraftwerk Reaktor 2 Flash-Galerie

مارچ میں آنے والے طاقتور زلزلے اور سونامی کے باعث فوکوشیما جوہری پلانٹ کے حادثے سے عوامی اعتماد کو نقصان پہنچا تھا

گزشتہ ہفتے اس وقت عوامی شکوک میں مزید اضافہ ہوا، جب جاپان کی مرکزی چوبو الیکٹرک پاور کمپنی نے انکشاف کیا کہ نیسا نے ایک عوامی فورم میں شرکت کے لیے اس سے مقامی افراد کو بھرتی کرنے کی درخواست کی تھی تاکہ 2007 میں جوہری توانائی سے متعلق بحث کے نتائج کو مرضی کے مطابق بنایا جا سکے۔

وزیر اعظم ناؤتو کان نے کہا ہے کہ جاپان کو جوہری توانائی پر انحصار ختم کرنا چاہیے تاہم اسے بجلی کی بندش سے بچنے کے لیے ابھی جوہری بجلی گھروں کی ضرورت ہے۔ جاپان کے نکئی اخبار کے مطابق نیا ادارہ جوہری حادثات کی تحقیقات کا ذمہ دار ہوگا اور وزیر ماحولیات اس کے سربراہ ہوں گے۔

Naoto Kan Japan Ministrepräsident FLASH Galerie

جاپان کے وزیر اعظم ناؤتو کان نے کہا ہے کہ جاپان کو جوہری توانائی پر انحصار ختم کرنا چاہیے

انسٹیٹیوٹ برائے ’پائیدار توانائی اور پالیسیاں‘ کی ایگزیکیٹو ڈائریکٹر ٹٹسوناری لیڈا نے کہا کہ اس عہدے پر وزیر ماحولیات کی تقرری درست فیصلہ نہیں۔ جاپان میں کابینہ کے وزراء اکثر اپنی تقرری کے ایک سال کے اندر ہی عہدے سے فارغ ہو جاتے ہیں اور انہیں جوہری تحفظ کے معاملات نہیں دیکھنے چاہئیں۔ لیڈا نے کہا کہ نئے ڈائریکٹر کو جوہری صنعت کے مفادات کی نمائندگی نہیں کرنی چاہیے۔

جاپان میں فوکوشیما پلانٹ کے حادثے کے بعد دیکھ بھال کی غرض سے بند کیے گئے بجلی گھروں کو دوبارہ فعال بنانے کا عمل روک دیا گیا ہے اور اب 54 میں سے محض 16 بجلی گھر کام کر رہے ہیں۔ اس بات کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ مئی 2012 تک کوئی بجلی گھر کام نہیں کر رہا ہوگا۔

رپورٹ: حماد کیانی

ادارت: امتیاز احمد

DW.COM