1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

جاپان میں نئی کابینہ کا اعلان کر دیا گیا

جاپان کے نئے وزیر اعظم یوشی ہیکو نوڈا نے نئی کابینہ کا اعلان کر دیا ہے، جسے ’نوجوان کابینہ‘ قرار دیا جا رہا ہے۔ پارٹی میں اتحاد پیدا کرنا اس قدم کے مقاصد میں سے ایک ہے۔

default

وزیر اعظم یوشی ہیکو نوڈا نے وزارت خزانہ اور خارجہ کے قلمدان پچاس برس سے کم عمر کے وزراء کو دیے ہیں، جو جاپانی سیاست میں ان عہدوں کے لیے قدرے جوان قیادت ہے۔

وزیر خزانہ کا عہدہ اُنچاس سالہ جون ازومی کو ملا ہے جبکہ وزیر خارجہ کا منصب سینتالیس سالہ کوئی شیرو گیمبا کو حاصل ہوا ہے۔ توقع یہ تھی کہ وہ اپنی حکمران ڈیموکریٹک پارٹی کے سینئرز کو ان عہدوں پر تعینات کریں گے۔

تریسٹھ سالہ یوشیو ہاشیرو کو اقتصادیات، تجارت اور صنعت کا نیا وزیر مقرر کیا گیا ہے۔ انہتر سالہ یاشُواو ایچیکاوا کو وزیر دفاع بنایا گیا ہے۔ نئی کابینہ میں دو خواتین بھی شامل ہیں۔ ان میں تینتالیس سالہ رینہو اور باسٹھ سالہ یوکو کومی یاما شامل ہیں۔ کومی یاما این ایچ کے کی سابق اینکر ہیں۔

نئی کابینہ کا اعلان کابینہ کے سیکرٹری اعلیٰ اوسامو فُوجی مورا نے کیا ہے۔ توقع ہے کہ نئے وزراء جاپان کے شہنشاہ آکی ہیٹوکے سامنے جمعہ کو کسی وقت حلف اٹھائیں گے۔

فُوجی مورا نے ایک نیوز کانفرنس سے خطاب میں بتایا: ’’ان تقرریوں کا مقصد پارٹی کو متحد کرنا ہے۔‘‘

Japan Wahl Premierminister Yoshihiko Noda

جاپان کے وزیر اعظم یوشی ہیکو نوڈا

انہوں نے بتایا کہ گیارہ مارچ کے سونامی اور زلزلے سے آنے والی تباہی کے تناظر میں بحالی اور فوکوشیما نیوکلیئر بحران سے نکلنا نئی حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے۔

وزارت خزانہ کا قلمدان سنبھالنے والے جون ازومی سیاست میں قدم رکھنے سے قبل این ایچ کے میں رپورٹر تھے۔ انہیں کابینہ کی رکنیت پہلی مرتبہ ملی ہے۔ ناؤتو کان کے دورِ حکومت میں وہ حکمران جماعت کی جانب سے پارلیمانی امور کے سربراہ تھے۔ اس دوران انہوں نے اپوزیشن کے ساتھ اپنے اچھے تعلقات کا بھرپور فائدہ اٹھایا، جس کے نتیجے میں تقسیم شدہ پارلیمنٹ میں متعدد بل منظور کرا لیے گئے۔

نئے وزیر خارجہ گیمبا گزشتہ کابینہ میں وزیر مملکت برائے نیشنل پالیسی تھے۔ وزیر خارجہ کے طور پر ان کے سامنے اہم اتحادی امریکہ کے ساتھ تعلقات برقرار رکھنے کا ہدف بھی ہے۔

 

رپورٹ: ندیم گِل / خبر رساں ادارے

ادارت: امجد علی

DW.COM