1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

جاپان میں قبل ازوقت عام الیکشن 30 اگست کو

جاپان میں منگل کے روز بہت طاقتور سمجھا جانے والا پارلیمانی ایوان زیریں تحلیل کئے جانے کے ساتھ ہی نئے عام الیکشن کی تیاریاں شروع ہو گئی ہیں جن میں عشروں سے برسر اقتدار حکمران پارٹی کو شکست بھی ہو سکتی ہے۔

default

جاپان میں ایوان زیریں تحلیل کر دیا گیا ہے

ایوان زیریں کی تحلیل کے بعد وزیر اعظم تارو آسو اور اپوزیشن رہنما یُوکِیَو ہاتویاما کے مابین براہ راست سیاسی مقابلہ بازی بھی شروع ہو گئی ہے، جن کے خاندان اپنے اپنے طور پر طویل سیاسی روایات کے حامل ہیں۔

اپوزیشن کی سب سے بڑی جماعت مِن شُو تَو کے سربراہ کے طور پر یُوکِیَو ہاتویاما کو اپنی پارٹی کے ارکان کی مکمل حمایت حاصل ہے۔ لیکن وزیر اعظم تارو آسو کو LDP کے سربراہ کے طور پر زبردست داخلی تنقید کا سامنا ہے اور اس عہدے پر موجود رہنے کے لئے انہیں بہت زیادہ جدوجہد کرنا ہوگی۔

تارو آسو کہتے ہیں: ’’اب تک کی تاریخ میں ہمیشہ یہی دیکھنے میں آیا ہے کہ LDP نے اپنے رہنما کی قیادت میں متحد ہوکر الیکشن میں حصہ لیا۔ میں بھی پارٹی سربراہ کے عہدے پر موجود رہتے ہوئے ہر ممکن کرشش کروں گا کہ ہم متحد ہو کر الیکشن میں حصہ لیں۔ میں جانتا ہوں کہ مجھ سے انتخابی کامیابی کے لئے بہت زیادہ محنت کی توقع کی جا رہی ہے۔‘‘

Japan neue Regierung Ministerpräsident Taro Aso

عام انتخابات میں عشروں سے برسراقتدار حکمران پارٹی کو شکست ہو سکتی ہے

حال ہی میں ٹوکیو کے بلدیاتی الیکشن میں تارو آسو کی پارٹی کی زبردست ناکامی کے بعد یہ مطالبے کئے جانے لگے تھے کہ اگلے عام الیکشن میں LDP کو تارو آسو کی سربراہی میں نہیں بلکہ ایک نئے رہنما کی قیادت میں حصہ لینا چاہیے۔

ایسا لگتا ہے کہ جاپانی وزیر اعظم کے لئے اپنی پارٹی کی قیادت سے محروم کر دئے جانے کا خطرہ کچھ ٹل گیا ہے۔ تاہم ایسا ابھی بھی ممکن ہے، کیونکہ 30 اگست کے پارلیمانی الیکشن کے لئے باقاعدہ انتخابی مہم 18 اگست کو شروع ہوکر 12 دن بعد ختم ہوجائے گی، اور تب تک LDP کی قیادت میں تبدیلی یقینی نہیں تو ممکن ضرور ہے۔

تارو آسو کو امید ہے کہ الیکشن سے قبل اس سال کی دوسری سہ ماہی کے دوران ملکی معیشت کی کارکردگی سے متعلق جو اعدادوشمار سامنے آئیں گے، وہ بہت حوصلہ افزا ہوں گے۔ یوں جاپانی رائے دہندگان ایک بار پھر اسی لبرل ڈیموکریٹک پارٹی کو ووٹ دیں گے، جو گذشتہ پانچ عشروں سے بھی زائد عرصے سے ان کا حکومتی انتخاب رہی ہے۔ ’’ایسے اولین آثار ظاہر ہونا شروع ہو گئے ہیں کہ اقتصادی بحران کے خلاف حکومت کے ہنگامی اقدامات نتیجہ خیز رہے ہیں۔ اسی لئے میری سب سے اہم سیاسی ترجیح معیشت ہی رہے گی۔‘‘

دوسری طرف اپوزیشن جماعت DPJ کے رہنما یُوکِیَو ہاتویاما کا کہنا ہے کہ آئندہ الیکشن کے نتیجے میں اقتدار میں تبدیلی ایک ایسا موقع ہے، جو سو سال میں ایک ہی بار حاصل ہوتا ہے۔

اگست کے جاپانی الیکشن میں کامیابی کس پارٹی کو ملے گی، یہ بات کوئی بھی یقین سے نہیں کہہ سکتا۔ یہ بات البتہ بڑی دلچسپ ہے کہ موجودہ اپوزیشن رہنما 1993ء تک حکمران جماعت LDP ہی کے رکن تھے۔ LDP کی بنیاد بھی ان کے دادا اِچِیرو ہاتویاما نے رکھی تھی۔ لیکن 1955ء میں لبرل ڈیموکریٹک پارٹی کی بنیاد رکھے جانے سے بھی پہلے، موجودہ سربراہ حکومت تارو آسو کے دادا شِگیرُو یوشِیدا دو مرتبہ جاپانی وزیر اعظم کے طور پر خدمات انجام دے چکے تھے۔

رپورٹ : مقبول ملک

ادارت : امجد علی