1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

جاپان میں شدید زلزلہ، سونامی کا خطرہ نہیں

جاپان میں ہفتے کی صبح چھ اعشاریہ چھ کی شدت سے آنے والے زلزلے نے ہونشو جزیرے کے ساحلی علاقوں کو ہلا کر رکھ دیا۔ تاہم سمندر میں آنے والے اس زلزلے کے بعد سونامی وارننگ جاری نہیں کی گئی ہے۔

default

یہ زلزلہ جس مقام پر آیا ہے، یہ علاقہ مارچ میں تاریخی زلزلے اور سونامی سے متاثر ہونے والے علاقوں سے زیادہ دور نہیں۔ اس زلزلے کے نتیجے میں فوری طور پر کسی جانی یا مالی نقصان کی اطلاع سامنے نہیں آئی ہے۔

امریکی جیولوجیکل سروے کے مطابق چھ اعشارہ چھ شدت کے اس ابتدائی زلزلے کے بعد شدید ضمنی جھٹکوں کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ ان میں سے ایک جھٹکے کی شدت چھ اعشاریہ دو بھی ریکارڈ کی گئی۔

امریکی جیولوجیکل سروے کے مطابق ہفتہ کی صبح آنے والے اس زلزلے کا مرکز داراحکومت ٹوکیو سے 574 کلومیٹر دور جبکہ 36 اعشاریہ دو کلومیٹر گہرائی میں تھا۔

Flash-Galerie Japan Tsunami Ein Monat Danach Trümmer Trauer Gedenken

یہی علاقہ رواں برس مارچ میں آنے والے زلزلے سے بھی متاثر ہوا تھا

اس زلزلے کے بعد بحرالکاہل کے لیے سونامی وارننگ سینٹر کی جانب سے ایک بیان میں کسی ممکنہ سونامی کے خطرے کو نظر انداز کیا گیا ہے۔ تاہم بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس طرح کے زلزلے کے باعث چھوٹی شدت کی سونامی لہریں پیدا ہو سکتی ہیں، جن سے حکام کو خبردار رہنا چاہیے۔

جاپانی محکمہ موسمیات نے کہا ہے کہ زلزلے کے پہلے جھٹکے کے بعد ممکنہ طور پر سمندری سطح میں تبدیلی واقع ہوئی تاہم اس کے نتیجے میں کسی قسم کے جانی یا مالی نقصان کا اندیشہ نہیں ہے۔

واضح رہے کہ جاپان میں رواں برس مارچ میں شدید زلزلے کے بعد بدترین سونامی نے ایک بڑے علاقے کو متاثر کیا تھا، جب کہ اس کے نتیجے میں کم از کم 20 ہزار افراد ہلاک اور لاپتہ ہوئے تھے۔ سونامی کی وجہ سے جاپان کا فوکوشیما جوہری پلانٹ بھی بری طرح متاثر ہوا تھا، جس سے پھیلنے والے تابکاری نے بھی ہزاروں افراد کو متاثر کیا تھا۔ واضح رہے کہ فوکوشیما جوہری پلانٹ کو پیش آنے والا واقعہ جوہری تاریخ کے بدترین حادثات میں سے ایک تصور کیا جاتا ہے۔

رپورٹ: عاطف توقیر

ادارت: حماد کیانی

DW.COM