جاپان میں ایک دن کے وقفے سے دوسرا زلزلہ، تیس سے زائد ہلاک | حالات حاضرہ | DW | 16.04.2016
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

جاپان میں ایک دن کے وقفے سے دوسرا زلزلہ، تیس سے زائد ہلاک

آج ہفتے کی صبح جنوبی جاپان میں ایک مرتبہ پھر زلزلے کے شدید جھٹکے محسوس کیے گئے۔ کم از کم تیس افراد کی ہلاکت کا بتایا گیا ہے۔ زخمیوں کی تعداد دو ہزار سے زائد ہے۔ ریکٹر اسکیل پر زلزلے کی شدت 7.3 بتائی گئی ہے۔

جنوب مغربی جاپان میں جمعرات کے بعد آج ہفتے کی صبح پھر شدید زلزلے کے جھٹکوں نے سارے علاقے میں شدید خوف و ہراس پھیلا دیا۔ انیس ہلاکتوں کے علاوہ ڈیڑھ ہزار سے زائد زخمی ہیں۔ ان میں 80 انتہائی شدید زخمی ہیں اور اِس باعث ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

جمعرات کے روز جاپانی جزیرے کیاُشو پر آنے والے زلزلے کی شدت 6.5 تھی۔ اِس زلزلے کی لپیٹ میں دس افراد کی موت واقع ہوئی تھی۔ اس طرح جنوب مغربی جاپان کے دو زلزلوں میں ہلاک شدگان کی تعداد تیس کے قریب پہنچ گئی ہے۔ کی اُشو جزیرے اور کوماموٹو شہر میں بڑے زلزلے کے بعد آفٹر شاکس کا سلسلہ جاری ہے اور لوگوں میں انتہا سے زیادہ ڈر پیدا ہو چکا ہے۔

آج کے زلزلے سے کوماموٹو شہر اور دوسرے قریبی علاقوں کی کئی عمارتوں میں دراڑیں پڑ گئی ہیں۔ کئی مکانات پوری طرح منہدم بھی ہوئے ہیں۔ متاثرین نے اسکولوں، جمنازیمز اور ہوٹلوں کے اندرونی حصوں میں پناہ لے رکھی ہے۔ ہزاروں افراد کو عارضی رہائشوں کی ضرورت ہے۔

جاپانی حکومت کے اعلی اہلکار یُوشیہیڈا سُوگا نے بے گھر ہونے والے افراد کی تعداد ستر ہزار بتائی ہےجبکہ زخمی ہونے والے کم از کم ڈیڑھ ہزار باشندوں میں سے 80 شدید زخمی ہیں۔ ٹوکیو حکومت نے اپنے جنوب مغربی علاقے میں امدادی کارروائیوں میں مصروف فوجیوں کی تعداد بیس ہزار کر دی ہے تا کہ وہ ہر قسم کی سرگرمیوں میں شریک ہو سکیں۔

کوماموٹو کے پہاڑی علاقے منامیاسو میں ایک بہت بڑی لینڈ سلائیڈنگ کی بھی تصدیق کر دی گئی ہے۔ اِس کے علاوہ دو اور مقامات پر بھی مٹی کے انتہائی بڑے تودے گرے ہیں۔ پہاڑی حصوں سے مٹی اور پتھروں کے گرنے سے سڑکیں بند ہو گئی ہیں۔ ملبے تلے دبے کم از کم اسی افراد کی تلاش شروع کر دی گئی ہے۔

مسلسل بارش اور خراب موسم کی وجہ سے امدادی کارروائیوں میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ جاپانی میڈیا کے مطابق دو لاکھ مکانوں کی بجلی کی سپلائی منقطع ہو گئی ہے اور اِس کے ساتھ پینے کے صاف پانی کا نظام بھی بےکار ہو کر رہ گیا ہے۔

جاپانی وزیراعظم شینزو آبے نے ہلاکتوں پر افسوس کے علاوہ آج کے زلزلے میں بھاری نقصان کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔ آج کے زلزلے سے کوماموٹو شہر میں چار سو سالہ قدیمی تاریخی قلعے کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ ان دونوں زلزلوں کی وجہ سے جاپان کا سب سے بڑا اور فعال آتش فشاں پہاڑ ماؤنٹ آسو بھی پھٹ پڑا ہے اور اِس کے دہانے سے گہرا سیاہ رنگت والا دھواں نکلنا شروع ہو گیا ہے۔ ماؤنٹ آسو کیاُشو جزیرے پر واقع ہے۔

دوسری جانب جاپان کی جوہری توانائی کے نگران ادارے نے بتایا ہے کہ کیاُشو جزیرے پر واقع سیندڈائی جوہری مرکز زلزلے کے دوران پوری طرح محفوظ رہا ہے۔

DW.COM