1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

صحت

جاپان: مستقبل میں پیدا ہونے والے بچوں میں معذوری کے امکانات

اب تک امداد نہیں پہنچ سکی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ حکام اب تک ان کی شناخت نہیں کر پائے ہیں۔

default

جاپان میں آنے والے خوفناک زلزلے اور سونامی کی تباہیوں کا شکار بہت سے شہریوں کو

گیارہ مارچ کو آنے والی ناگہانی آفات اور اس کے نتیجے میں فوکوشیما ڈائیچی جوہری پلانٹ سے تابکار شعاؤں کے اخراج نے صورتحال کو مزید پیچیدہ کر دیا۔ ہلاک اور لاپتہ ہو جانے والے افراد کی مجموعی تعداد کم از کم 25 ہزار بتائی جاتی ہے۔ جبکہ شمالی جاپان میں ایک لاکھ سترہ ہزار افراد گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہو گئے ہیں۔

جاپان جیسے ترقی یافتہ ملک کا بنیادی ڈھانچہ بُری طرح تباہ ہو گیا ہے۔ اس کے باوجود وہاں صحت عامہ کی صورتحال بہتر بنانے کے لیے ہر سطح پر کام ہو رہا ہے۔ فوکوشیما کے ایٹمی المیے کے بعد اس کے آس پاس کے علاقوں کو خالی کروا لیا گیا تھا۔ تازہ ترین اطلاعات کے مطابق حکام نے تابکاری کے مزید خطرات کے پیش نظر اور بھی کئی جگہوں سے لوگوں کو محفوظ مقامات کی طرف منتقل کر دیا ہے۔

بے گھر ہو جانے والے ان جاپانی باشندوں کو کن کن مشکلات کا سامنا ہے، خاص طور سے صحت کے حوالے سے، یہ جاننے کے لیے ہم نے رابطہ کیا ایک پاکستانی نژاد جاپانی باشندے، عبدالرحمٰن صدیقی سے، جو گزشتہ چالیس برسوں سے جاپان میں آباد ہیں۔ مسلمانوں کی ایک سوشل ویلفیئر سوسائٹی کی طرف سے انہوں نے متاثرین کے کیمپیوں کا دورہ بھی کیا اور ان کی امداد کے کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہے ہیں۔ ڈوئچے ویلے کو خصوصی انٹرویو دیتے ہوئے انہوں نے کہا: ’تابکار شعائیں بچوں اور بڑوں کی جلد اور جسم کے اندر داخل ہو چُکی ہیں۔ حاملہ خواتین کو سب سے پہلے فوکو شیما اور آس پاس کے علاقوں سے نکل جانے حکم دیا گیا۔ متاثرہ خواتین کی بچہّ دانیوں میں موجود بچوں کو بہت سے خطرات لاحق ہیں۔ ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ آئندہ سال پیدا ہونے والے بچے ممکنہ طور پر اپاہج ہو سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ تھائی روائیڈ گلینڈ، جلد کی بیماریاں اور سانس کے ذریعے آلودہ زرات کی پھیپڑوں میں منتقلی کے سبب پھیپھڑوں کی بیماریاں بھی پھیل رہی ہیں‘۔

عبدالرحمٰن صدیقی نے تاہم کہا ہے کہ جاپانی حکومت اور ملکی اور غیر ملکی تنظیمیں امداد کا کام تیزی سے آگے بڑھا رہی ہیں۔ ایک ہزار کلینکس قائم کیے گئے ہیں اور جن علاقوں کے مکینوں کو اپنے گھر بار چھوڑنا پڑے ہیں انہیں بسوں کے ذریعے ان کے تباہ شدہ گھروں کی طرف لے جایا جاتا ہے جہاں وہ ملبوں اور مٹی کے ڈھیر میں اب بھی لاپتہ رشتہ داروں اور دوستوں کو ڈھونڈنے کی کوشش کرتے ہیں۔ پاکستانی امدادی کارکن کا کہنا ہے کہ زلزلہ متاثرین شدید صدمے کا شکار نظر آتے ہیں اور انہیں ذہنی اور اعصابی علاج کی بھی ضرورت ہے۔

حفظان صحت کی صورتحال کے بارے میں عبدالرحمٰن صدیقی نے بتایا کہ زلزلے کے بعد ہنگامی طور پر قائم کیے گئے کیمپس میں ٹوائلیٹ کی سہولیات موجود نہیں تھیں۔ اُن دنوں انسانی فضلے کو پلاسٹک کی تھیلیوں میں جمع کر کے زمین میں دفنا دیا جاتا تھا۔ تاہم اب صورتحال کاقی حد تک قابو میں ہے اور جگہ جگہ عارضی ٹوائلیٹس بنائے گئے ہیں، جہاں صفائی کا بہترین نظام ہے۔ فوج اور پولیس اہلکاروں کو عفونت سے بچنے والے ٹیکے دے کر اُن علاقوں میں بھیجا جاتا ہے جہاں کیمپس لگے ہیں اور وہاں متاثرین کو ضروری طبی امداد فراہم کی جا رہی ہیں۔

Fukushima Japan Erdbeben

جاپان کا بنیادی ڈھانچہ بُری طرح تباہ ہو گیا ہے

حاملہ خواتین اور تابکار شعاوں کی زد میں آنے والے شہریوں کی طبی امداد کس طرح کی جا رہی ہے؟ اس بارے میں عبدالرحمٰن صدیقی کا کہنا تھا: ’ بچے اور ماں کی زندگی اور صحت کو لاحق خطرات کے پیش نظر خاص قسم کے قطرے، ٹیکے اور دیگر ادویات فراہم کی جا رہی ہیں۔ اس کے علاوہ جوہری تابکاری کے اثرات ضائع کرنے کے لیے ’ایپل پپٹن ڈراپس اور انجکشن کا استعمال کیا جا رہا ہے۔‘

بچوں کے دودھ اور پینے کے صاف پانی کی قلت کے بارے میں پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں عبدالرحمٰن صدیقی نے بتایا کہ زلزلے اور سونامی سے براہ راست متاثر ہونے والے علاقوں میں کچھ عرصے تک دودھ اور صاف پانی کی قلت ہو گئی تھی تاہم یورپی ممالک اور امریکہ وغیرہ سے فوری امداد پہنچنے پر حالات قابو میں آ گئے ہیں۔ اب صورتحال بہت بہتر ہے۔ یہاں تک کہ کیمپس میں بھی پینے اور نہانے کےصاف پانی سے لے کر منرل واٹر تک دستیاب ہے۔‘

پاکستانی امدادی کار کن اور ٹوکیو کے اسلامک سینٹر سے منسلک عبدالرحمٰن صدیقی کا کہنا ہے کہ اس وقت فوکو شیما اور آس پاس کے متاثرہ علاقوں سمیت جاپان کی مجموعی صورتحال بُہت بہتر نظرآ رہی ہے۔ تاہم مستقبل میں پیدا ہونے والے بچوں اور حاملہ خواتین کی صحت سمیت ریڈیو ایکٹیو ریز کے شکار افراد کی آئندہ زندگی اور صحت کے بارے میں تشویش ضرور پائی جاتی ہے۔

رپورٹ: کشور مصطفیٰ

ادارت: شامل شمس

DW.COM