1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

جاپان: فوکوشيما ميں جوہری پگھلاؤ روکنے کی کٹھن مہم

جاپان ميں 11 مارچ کے زلزلے سے تباہ ہو جانے والے فوکوشيما ايٹمی بجلی گھر کے بہت گرم ہو جانے والے ری ايکٹروں کو ٹھنڈا کرنے کی ان تھک کوششيں جاری ہيں تاکہ اُن سے ممکنہ طور پر ہلاکت خيز تابکار شعاعوں کے اخراج کو روکا جا سکے۔

default

فوکو شيما پلانٹ کا ايک تباہ شدہ ری ايکٹر

فوکوشيما ايٹمی بجلی گھر کو چلانے والی ٹوکيو اليکٹرک پاور کمپنی کا کہنا ہے کہ سب سے زيادہ توجہ ری ايکٹر نمبر تين کو ٹھنڈا کرنے پر دی جا رہی ہے، جس کے جوہری ايندھن ميں پلوٹونيم بھی شامل ہے۔ پلوٹونيم يورينیم سے بھی زيادہ خطرناک ايٹمی مادہ ہے اور اس کی انتہائی کم مقدار بھی سرطان کا سبب بن سکتی ہے۔

کل بدھ کو تابکاری مادوں کے اخراج کی بہت اونچی سطح کی وجہ سے ايک فوجی ہيلی کاپٹر اس ری ايکٹر پر پانی پھينکنے ميں ناکام رہا تھا، جس کی چھت کو وہاں ہونے والے دھماکے سے نقصان پہنچا ہے۔ ليکن آج جمعرات کی صبح فوجی ہيلی کاپٹروں نے ری ايکٹر نمبر تين کی، استعمال شدہ ايٹمی ايندھن کی سلاخوں کو ذخيرہ کرنے والے تالاب پر ٹنوں سمندری پانی پھينکا۔ ری ايکٹر سے نکال لی جانے والی انتہائی تابکار ان ايٹمی سلاخوں کی گرمی سے ان کو ذخيرہ کرنے والے اس تالاب کا پانی بخارات ميں تبديل ہوتا جا رہا ہے اور اگر پانی کی سطح گرنے کی وجہ سے سلاخيں کھل گئيں، تو انتہائی خطرناک تابکاری شعاعیں فضا ميں خارج ہو سکتی ہیں۔

استعمال شدہ ايندھن کو ذخيرہ کرنے والے ان تالابوں کے ارد گرد اس طرح کی کوئی حفاظتی تنصيبات يا خول نہيں ہيں، جیسے ری ايکٹروں کے اندر رکھی گئی سلاخوں کے گرد موجود ہيں۔ پانی پھينکنے والے ہيلی کاپٹروں کو تابکاری کی زد ميں آنے سے بچنے کے لیے بالکل صحيح لمحے ميں ری ايکٹر پر پرواز کرنا اور بالکل صحيح وقت پر پانی گرانا پڑ رہا ہے۔

ری ايکٹر نمبر پانچ اور چھ ميں بھی پانی ڈالا جارہا ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ فوکوشيما پلانٹ کے تمام چھ ری ايکٹروں کے مسلسل زيادہ اور خطرناک حد تک گرم ہونے کا خطرہ ہے۔ پوليس بھی پانی پھينکنے کی 11 گاڑيوں کے ساتھ اس کام ميں شريک ہے۔ 

Flash-Galerie Japan Erdbeben Atomkrise Koriyama Geigerzähler 15.02.2011

فوکو شيما کے متاثرين کے کيمپ ميں ايک پاکٹ ريڈيشن ڈيٹيکٹر

جاپانی انجينئرز زلزلے کی وجہ سے رک جانے والی بجلی کی فراہمی کو بحال کرنے کے لیے تاریں بچھا رہے ہيں تاکہ ٹھنڈے پانی کے پمپوں کو چلايا جا سکے۔

کم از کم چار دھماکوں سے تباہ ہو جانے والے ايٹمی بجلی گھر کے اندر کارکن تابکاری کی خطرناک حد تک زيادہ مقدار کے باوجود حفاظتی لباس اور ماسک پہنے ہوئے يہ معلوم کرنے کی کوشش کر رہے ہيں کہ ری ايکٹرز کے اندر کيا ہو رہا ہے۔ وہ خود بھی کم سے کم عرصے کے لیے radiation کی زد ميں رہنے کی خاطر مختصر شفٹوں ميں کام کر رہے ہيں۔ امريکہ، ری ايکٹروں کے اندر کی حالت کو ديکھنے کے لیے بغير عملے کے خصوصی ڈرون طيارے جاپان بھيج رہا ہے جو خاص قسم کے حساس آلات کی مدد سے تصاوير لے سکتے ہيں۔

Japan Erdbeben Tsunami Atomreaktor Flash-Galerie

فوکوشيما کے متاثرين کے ايک کيمپ ميں تابکاری کی جانچ

ماہرين اگلے دو دنوں کو اس لحاظ سے بہت اہميت دے رہے ہيں کيونکہ اس دوران يہ معلوم ہو جائے گا کہ کيا جوہری پگھلاؤ اور اس طرح worst-case  يا بدترين صورتحال  پيدا ہوگی يا نہيں۔ تابکاری سے حفاظت کی نجی جرمن سوسائٹی کے صدر سباستيان فلوگ بائل نے کہا ہے کہ شايد يہ دعائيں کرنے کا وقت ہے کيونکہ کسی بھی ممکنہ تابکار مادوں کے اخراج کو بحرالکاہل کی جانب لے جانے والا ہوائی رخ جاپان کی 127 ملين کی آبادی کو پہنچنے والے نقصانات کو محدود کر سکتا ہے۔

تمام تر ممکنہ خطرات کے باوجود ٹوکيو کے علاقے سے آبادی کے انخلاء کے کوئی منصوبے نہيں ہيں، جہاں 30 ملين سے زائد افراد رہتے ہيں۔ ايک حکومتی ترجمان نے کہا: ’’ہيروشيما اور ناگاساکی کے ايٹم بموں کی وجہ سے ہم جاپانی تابکاری کے سلسلے ميں بہت حساس ہيں۔ اس کے باوجود اگر آپ اس وقت ٹوکيو ميں گھومیں پھريں، تو آپ کو کوئی بد حواسی يا خوف و ہراس دکھائی نہيں دے گا۔ يہ حقيقت اور يہی وہ تجربہ ہے جس سے فی الوقت اکثر جاپانی گذررہے ہيں۔‘‘

جاپان کے شمال مشرق ميں زلزلے اور سونامی سے متاثر ہونے والے افراد کے کيمپوں ميں حالات مسلسل خراب ہوتے جا رہے ہيں۔ انتہائی سردی اور برفباری ميں وہاں ابھی تک ضروری اشياء نہيں ہيں يا ان کی قلت ہے۔ چونکہ زلزلے سے سڑکيں، سامان اور مشينيں ٹوٹ پھوٹ گئی ہيں، اس لیے مدد بہت سست رفتاری سے پہنچ رہی ہے۔

فرانس نے آج اعلان کيا ہے کہ وہ 95 ٹن بورون نامی مادہ جاپان بھيج رہا ہے۔ بورون نيوٹرونز کو جذب کرليتا ہے اور اس طرح وہ تابکاری ميں کمی لا سکتا ہے۔

رپورٹ: نِيلز کِنکَل، سنگاپور / شہاب احمد صدیقی

ادارت: مقبول ملک

DW.COM