1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

جاپان: سماجی ویب سائٹس اور خود کشی کا رجحان

جاپان میں اندوہناک انداز میں نو نوجوانوں کے سر قلم کرنے کے واقعے کے بعد سماجی ویب سائٹس کے استعمال پر ایک مرتبہ پھر بحث شروع ہو گئی ہے۔ مشتبہ قاتل نے خود کشی  سے متعلق خیالات ٹویٹ کیے تھے۔

رپورٹس کے مطابق مشتبہ قاتل تاکاہیرو شیرائشی نے 15 سے 26 سال کی درمیانی عمر کے ان مقتولین کو سماجی ویب سائٹس کے ذریعے اپنے جال میں پھنسایا تھا۔ شیرائشی کو ٹوئیٹر کِلر کا نام سے بھی جانا جاتا ہے۔ اس واقعے کے بعد ٹوکیو حکومت ملک میں انٹرنیٹ پر خود کشی سے متعلق کسی بھی قسم کا مواد جاری کرنے کے حوالے سے ضوابط سخت کرنے کے بارے میں سوچ رہی ہے۔

چند ماہرین کا خیال ہے کہ جاپانی معاشرے میں خود کشی اور ذہنی تناؤ کو انتہائی برا سمجھا جاتا ہے اور عوام سماجی ویب سائٹس کو اپنے جذبات کے اظہار کے ایک بہترین ذریعے کے طور پر استعمال کر رہی ہے۔

گزشتہ ماہ ٹوکیو کے ایک مضافاتی علاقے سے ان افراد کی لاشیں ملنے کے بعد ٹوئیٹر نے خود کشی کی ترغیب کے موضوع پر کی جانے والی ٹوئیٹس کے حوالے سے نئے ضوابط متعارف کرائے ہیں، جن میں صارفین سے کہا گیا ہے کہ وہ خود کشی یا خود کو کسی قسم کے نقصان پہنچانے سے متعلق ٹوئیٹس کو نہ تو فروغ دیں اور نہ ہی ان کی حوصلہ افزائی کریں۔ تاہم ٹوئیٹر نے خود اپنی جان لینے کی خواہش کے اظہار کو نہ تو روکا اور نہ ہی پابندی عائد کی۔

جاپان میں خود کشی کی شرح میں ریکارڈ اضافہ

نو افراد کا بھیانک قتل اور جاپانی معاشرہ

ترقی یافتہ جی سیون ممالک میں خود کشی کے اعتبار سے جاپان سر فہرست ہے۔ اس ملک میں ہر سال بیس ہزار افراد اپنی جان لیتے ہیں۔ ماہرین کہتے ہیں کہ حکام نے اگر سوشل میڈیا پر اس موضوع پر بات کرنے کے حوالے سے زیادہ سخت قوانین وضع کیے تو اس طرح خود کشی کے نظریات کے حامی افراد معاشرے میں اور بھی تنہائی کا شکار ہو جائیں گے۔

DW.COM