1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

جاپان: زمین میں ضرر رساں پلوٹونیم کی موجودگی کا انکشاف

فوکوشیما میں زلزلے اور سونامی سے متاثرہ جوہری ری ایکٹر کے اطراف زمین میں پلوٹونیم کی موجودگی نے جوہری تابکاری اور اس سے پیدا ہونے والے خطرات میں اضافہ کر دیا ہے۔

default

زلزلے اور سونامی نے فوکوشیما کے علاقے میں جوہری ری ایکٹرز کو بری طرح متاثر کیا، جس کے بعد وہاں سے جوہری تابکاری کا اخراج شروع ہوگیا تھا

پچیس برسوں کے دوران جوہری تابکاری کے اس خطرناک ترین واقعے کے بعد جاپانی حکومت پر فوکوشیما ری ایکٹر کے اطراف جاپانی شہریوں کے انخلاء کا دائرہ وسیع تر کرنے کے لیے دباؤ میں اضافہ ہو رہا ہے۔ اس ضمن میں جاپانی پارلیمان میں وزیرِ اعظم ناؤتو کان پر حزبِ اختلاف کے اراکین نے کڑی تنقید کی ہے۔

Japan Pressekonferenz Atomkrise Fukushima Reaktor 16.03.2011

ٹوکیو الیکٹرک پاور کمپنی نے کہا ہے کہ پلانٹ کے اطراف کم خطرے والی پلوٹونیم پائی گئی ہے

وزیرِ اعظم کا کہنا ہے کہ وہ علاقے سے مزید ایک لاکھ تیس ہزار افراد کے انخلاء کے لیے مشاورت کر رہے ہیں۔ واضح رہے کہ فوکوشیما جوہری پلانٹ سے تابکاری کے اخراج کے بعد علاقے سے ستر ہزار افراد کو پہلے ہی دوسری جگہوں پہ منتقل کر دیا گیا ہے۔

خیال رہے کہ گیارہ مارچ کو آئے زلزلے اور سونامی سے جاپان کے شمالی علاقوں میں وسیع پیمانے پر تباہی پھیلی ہے اور ہزاروں کی تعداد میں ہلاکتیں ہوئی ہیں۔ اس زلزلے اور سونامی نے فوکوشیما کے علاقے میں جوہری ری ایکٹرز کو بری طرح متاثر کیا، جس کے بعد وہاں سے جوہری تابکاری کا اخراج شروع ہوگیا تھا۔ جاپانی حکّام اس پر قابو پانے کی کوششیں کر رہے ہیں۔

دوسری جانب فوکوشیما کے پلانٹ کو چلانے والی ٹوکیو الیکٹرک پاور کمپنی نے کہا ہے کہ پلانٹ کے اطراف کم خطرے والی پلوٹونیم پائی گئی ہے۔ واضح رہے کہ پلوٹونیم جوہری بم بنانے میں بھی استعمال کی جاتی ہے اور ماہرین کے مطابق یہ زمین پر پایا جانے والے مضر ترین مادہ ہے۔

Japan Erdbeben Tsunami Atomreaktor Flash-Galerie

سب سے زیادہ متاثر فوکوشیما کا ری ایکٹر نمبر تین ہوا ہے

جوہری ماہرین کا خیال ہے کہ یہ پلوٹونیم زلزلے اور سونامی سے متاثرہ ری ایکٹر تین کی فیول راڈز سے خارج ہوئی ہے۔

جاپان کے جوہری اور صنعتی تحفظ سے متعلق ادارے کا کہنا ہے کہ گو کہ پلوٹونیم کا لیول انسانی صحت کے لیے مضر نہیں ہے تاہم اس کی موجودگی سے ثابت ہوتا ہے کہ جوہری تابکاری کو روکنے کے لیے کیے جانے والے اقدامات مؤثر ثابت نہیں ہو رہے۔

ماہرین کا خیال ہے کہ پلانٹ کی مرمّت اور تابکار ی کے اخراج کو مکمل طور پر روکنے میں کئی ہفتے یا مہینے لگ سکتے ہیں۔ تاہم اس دوران ان افراد کی صحت کو سخت نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے، جو پلانٹ کے کولنگ سسٹم کی مرمّت میں مصروف ہیں اور جو اس علاقے کے اطراف رہ رہے ہیں۔

رپورٹ: شامل شمس⁄  خبر رساں ادارے

ادارت: امجد علی

DW.COM