1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

جاپان: ذہنی معذوروں کے رہائشی مرکز میں انیس افراد کا قتل

جاپان میں ذہنی طور پر معذور افراد کے ایک رہائشی مرکز میں ایک سابق ملازم نے چاقو سے حملہ کر کے انیس افراد کو قتل اور پچیس کو زخمی کر دیا۔ یہ جاپان میں گزشتہ کئی عشروں میں پیش آنے والا اجتماعی قتل کا سب سے بڑا واقعہ ہے۔

Japan15 Tote bei Messer-Attacke

ملزم نے خود کو پولیس کے حوالے کرتے ہوئے کہا، ’تمام معذور انسانوں کو ختم کر دینا چاہیے۔‘‘

جاپانی شہر ساگا میہارا سے منگل چھبیس جولائی کو ملنے والی نیوز ایجنسی اے ایف پی کی رپورٹوں کے مطابق آج پیش آنے والے اس ہولناک واقعے پر پورا جاپان سکتے کی حالت میں ہے۔

بتایا گیا ہے کہ مشتبہ قاتل کی عمر 26 برس ہے اور اس نے مبینہ طور پر اسی سال چند ماہ قبل یہ دھمکی بھی دی تھی کہ وہ ’سینکڑوں معذار افراد کو قتل‘ کر دے گا۔

اے ایف پی نے لکھا ہے کہ ڈیڑھ درجن سے زائد معذور افراد کو چاقو سے کیے جانے والے حملوں میں قتل اور دو درجن سے زائد کو زخمی کرنے کے بعد اس ملزم نے ایک قریبی تھانے میں خود کو پولیس کے حوالے کر دیا۔

جاپانی میڈیا کی رپورٹوں میں کہا گیا ہے کہ ملزم نے خود کو پولیس کے حوالے کرتے ہوئے کہا، ’’یہ کام میں نے کیا ہے۔ تمام معذور انسانوں کو ختم کر دینا چاہیے۔‘‘

ساگا میہارا کا جاپانی شہر ملکی دارالحکومت ٹوکیو سے مغرب کی طرف واقع ہے اور اس کی آبادی سات لاکھ سے زائد ہے۔ ملزم کا نام ساتوشی اوئے ماتسُو بتایا گیا ہے، جو اس سال فروری تک ذہنی طور پر معذور افراد کے اسی رہائشی مرکز میں کام کرتا تھا، جہاں وہ منگل کے روز اس اجتماعی قتل کا نہ صرف مرتکب ہوا بلکہ بعد میں اس نے پولیس کے سامنے پیش ہو کر اعتراف جرم بھی کر لیا۔

ٹوکیو سے ملنے والی دیگر رپورٹوں میں کہا گیا ہے کہ معذوروں سے نفرت کرنے والے اس جنونی قاتل کے ہاتھوں زخمی ہونے والے 25 افراد میں سے متعدد کی حالت نازک ہے۔ شروع میں زخمیوں کی مجموعی تعداد 45 کے قریب بتائی گئی تھی، جو بعد میں کم کر کے 25 کر دی گئی۔

جاپانی پبلک براڈکاسٹر این ایچ کے کے مطابق یہ جنونی قاتل آج منگل کو علی الصبح ذہنی طور پر معذور افراد کے اس رہائشی مرکز کی پہلی منزل کی ایک کھڑکی توڑ کر اس عمارت میں داخل ہوا، جہاں اس نے پہلے ڈیوٹی پر موجود عملے کے ایک رکن کو باندھ دیا اور پھر ذہنی معذور مکینوں پر چاقو سے حملے شروع کر دیے۔

زخمیوں کو علاج کے لیے جن مقامی ہسپتالوں میں پہنچایا گیا، ان میں سے ایک ہسپتال کے ایک ڈاکٹر کے مطابق اکثر مقتولین کی گردنوں پر وار کیے گئے تھے، ’’ان کی موت زیادہ خون بہنے سے ہوئی اور دیکھنے میں ایسا لگتا ہے کہ جلدی میں جیسے انہیں ذبح کیا گیا ہو۔‘‘