1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

جاپان: خواتین کو بڑے عہدے دیں، انعام لیں، ردعمل ’صفر‘

اس جاپانی سرکاری پروگرام کو ایک بڑا دھچکا پہنچا ہے، جس کا مقصد زیادہ تعداد میں خواتین کو سینیئر عہدوں پر متعین کرنا تھا۔ خواتین کو زیادہ بڑے عہدے دینے پر نقد انعامات کی پیشکش کے جواب میں ایک بھی کمپنی نے درخواست نہیں دی۔

نیوز ایجنسی اے ایف پی نے ٹوکیو سے اپنی ایک رپورٹ میں بتایا ہے کہ اس حکومتی پروگرام کا مقصدخواتین ورکرز کو سینیئر عہدوں کے لیے تربیت دینا اور اعلیٰ ملازمتوں پر خواتین کو براجمان کرنے کے حوالے سے طے کیے گئے اہداف کو حاصل کرنا تھا۔ توقع تو یہ کی جا رہی تھی کہ حکومت نے ان اہداف کے حصول میں مدد دینے والی جاپانی کمپنیوں کو نقد رقوم کی صورت میں انعامات دینے کی جو ترغیب دی ہے، اُسے دیکھتے ہوئے ہوئے سینکڑوں کمپنیاں درخواستیں دیں گی۔ ہوا لیکن یہ کہ اس پیشکش کے جواب میں ایک بھی کمپنی نے درخواست نہیں دی۔

ٹوکیو حکومت نے یہ پروگرام گزشتہ سال متعارف کروایا تھا۔ اس پروگرام کے تحت کامیاب کمپنیوں میں سے ہر ایک کو تین لاکھ ین (ڈہائی ہزار ڈالر) کی پیشکش کی گئی تھی۔ اس پروگرام کی نگرانی کرنے والی وزارتِ صحت کی ایک خاتون ترجمان نے بتایا کہ اس پروگرام کے لیے مجموعی طور پر 120 ملین مختص کیے گئے تھے اور توقع یہ کی جا رہی تھی کہ یہ رقم پانچ سو کمپنیوں میں تقسیم کی جائے گی۔

اس خاتون ترجمان نے ’سخت ضوابط‘ کو اس اسکیم کی ناکامی کا ذمے دار ٹھہرایا اور اعتراف کیا کہ یہ کوئی ’اچھا پروگرام‘ نہیں تھا۔ ترجمان نے کہا کہ قدرے نرم ضوابط کی حامل ایک اسکیم اکتوبر سے شروع کی جا رہی ہے، جس میں کچھ کیسز میں نقد رقم دگنی بھی کر دی گئی ہے۔

اس اسکیم کی ناکامی کی خبریں ایک ایسے وقت پر سامنے آئی ہیں، جب ابھی اتوار ستائیس ستمبر کو ہی نیویارک میں جاپانی وزیر اعظم شینزو آبے نے اقوام متحدہ کے ایک اجلاس میں خواتین کو زیادہ با اختیار بنانے کے لیے پروگراموں کو فروغ دینے کا عزم ظاہر کیا۔

گزشتہ مہینے جاپان نے ایک نیا قانون متعارف کروایا، جس میں قدرے بڑی کمپنیوں کو ایسے اہداف منظرِ عام پر لانے پر مجبور کیا جا سکتا ہے، جن کا مقصد خواتین کو ملازمتیں دینا اور اُنہیں سینیئر عہدوں پر ترقی دینا ہو۔

آبے بار بار کہہ چکے ہیں کہ دنیا کی تیسری بڑی معیشت جاپان کو پھر سے متحرک کرنے کے سلسلے میں خواتین کلیدی اہمیت کی حامل ہیں اور اسی لیے وہ اس بات پر زور دیتے رہتے ہیں کہ سیاست اور معیشت ہر دو شعبوں میں خواتین کو زیادہ بڑے عہدے دے جائیں۔

Japan Premierminister Shinzo Abe

اتوار 27 ستمبر کو نیویارک میں جاپانی وزیر اعظم شینزو آبے نے اقوام متحدہ کے ایک اجلاس میں خواتین کو زیادہ با اختیار بنانے کے لیے پروگراموں کو فروغ دینے کا عزم ظاہر کیا

ترقی یافتہ دنیا میں جاپان کا شمار اُن ممالک میں ہوتا ہے، جہاں خواتین ورکرز کی تعداد سب سے کم ہے اور زیادہ تر ماہرینِ معاشیات کے خیال میں جاپانی معاشرے میں عمر رسیدہ افراد کی بڑھتی ہوئی تعداد کے پیشِ نظر یہ ضروری ہے کہ ملازمتیں کرنے والی خواتین کی تعداد بڑھائی جائے۔

جاپان میں بہت سی خواتین گھر پر ہی رہتی ہیں۔ اس صورتِ حال کے لیے بچوں کی دیکھ بھال کی مناسب سہولتوں کے فُقدان، کیریئر میں آگے بڑھنے کے سلسلے میں مدد اور تعاون کی کمی اور جاپانی سماج میں خصوصاً خواتین کے ساتھ روا رکھے جانے والے جنسی تعصب کو قصور وار قرار دیا جاتا ہے۔