1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

جاپان جوہری ری ایکٹر دھماکہ، میرکل حکومت پر بھی دباؤ

جرمنی میں جوہری بجلی گھروں کی مدت میں توسیع کرنے والی میرکل حکومت، جاپانی جوہری ری ایکٹر میں دھماکے کے بعد دباؤ کا شکار ہے۔ اس سلسلے میں کابینہ کے سینیئر وزراء کی میٹنگ بھی بلائی گئی۔

default

جرمن چانسلر میرکل کے ترجمان کے مطابق جاپان میں تباہ ہونے والے جوہری ری ایکٹر سے تابکاری کے اخراج اور اس ری ایکٹر کے میلٹ ڈاؤن ہونے کے خدشات کے ساتھ ساتھ اس اجلاس میں جرمنی میں قائم ایٹمی بجلی گھروں کی سلامتی کی صورتحال پر بھی غور کیا گیا۔

Atomkraftwerk Fukushima 1 mit zerstörtem Reaktorgebäude

فوکوشیما کے ری ایکٹر ون کی تصویر

سیاسی ماہرین کا خیال ہے کہ جاپان کے شمال مشرق میں زلزلے اور سونامی سے بری طرح متاثر ہونے والے جوہری ریکٹر میں دھماکہ میرکل حکومت کی مشکلات میں اضافے کا باعث بن سکتا ہے اور اس معاملے کے سیاسی اثرات جرمنی کی تین ریاستوں میں رواں ماہ ہونے والے انتخابات پر پڑ سکتے ہیں۔

اس سے قبل جرمنی میں سوشل ڈیموکریٹس اور گرین پارٹی نے جاپان میں جوہری حادثے پر متفقہ لائحہ ء عمل کا فیصلہ کرتے ہوئے جرمنی میں نئی جوہری پالیسی کا مطالبہ کیا۔گرین پارٹی کے پارلیمانی رہنما Renate Kuenast نے اپنے بیان میں کہا، ’اس سے واضح ہے کہ ہم فطرت پر قادر نہیں، فطرت ہم پر حاکم ہے‘۔

Fukushima 2011 Atomkatastrophe

دوسرے جوہری پلانٹ میں بھی ہنگامی حالت نافذ کر دی گئی ہے

جرمن حکومت نے گزشتہ برس ملک میں قائم 17 جوہری بجلی گھروں کی مدت میں تقریبا بارہ برس کے اضافے کا فیصلہ کیا تھا۔ اس فیصلے پر ملک بھر میں احتجاج کیا گیا تھا اور اس سے چانسلر میرکل کی مقبولیت میں بھی کمی دیکھی گئی تھی۔

جرمن حکومت کا موقف ہے کہ توانائی کے متبادل ذرائع کے حصول میں ملک میں توانائی کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے جوہری بجلی گھر نہایت ضروری ہیں۔

کابینہ کے سینیئر وزراء سے ملاقات کے بعد جرمن چانسلر انگیلا میرکل نے صحافیوں سے بات چیت میں کہا کہ جرمنی کے جوہری ری ایکٹر محفوظ ہیں۔ انہوں نے تاہم کہا کہ حکومت جاپان کی صورتحال کا باریک بینی سے جائزہ لے رہی ہے تاکہ جاپان میں جوہری معاملے سے قابل عمل سبق سیکھا جا سکے،’ہمیں معلوم ہے کہ ہمارے پلانٹس کتنے محفوظ ہیں۔ ہمیں کسی بڑے زلزلے یا تباہ کن سمندری لہر کا خطرہ نہیں‘۔

دوسری طرف ہفتے کے روز ہی جرمنی میں ہزاروں افراد نے جوہری توانائی کے خلاف مظاہرہ کرتے ہوئے 45 کلومیٹر طویل انسانی زنجیر بنائی۔ شٹٹ گارٹ میں منعقد کیے گئے اس مظاہرے کے منتظمین کے مطابق اس احتجاج میں شرکت کے لیے چالیس ہزار افراد سڑکوں پر آئے۔ ان کا مطالبہ تھا کہ جرمنی میں ایٹمی بجلی گھروں کو فوری طور پر بند کر دیا جائے۔

رپورٹ : عاطف توقیر

ادارت : عاطف بلوچ

DW.COM

ویب لنکس