1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

جاپان: جانی و مالی نقصانات کے تازہ ترین اعداد و شمار

جاپان میں حالیہ شدید زلزلے اور پھر تباہ کن سونامی لہروں کے اثرات سے متعلق تازہ ترین اعداد و شمار سے یہ اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ یہ آفات کتنی تباہ کن ثابت ہوئیں۔ اب تک نو ہزار سے زائد ہلاکتوں کی تصدیق ہو چکی ہے۔

default

جاپان میں اب تک نو ہزار سے زائد ہلاکتوں کی تصدیق ہو چکی ہے

ہلاکتیں

سرکاری ذرائع کے مطابق مقامی وقت کے مطابق منگل کی دوپہر تک جاپان کی نیشنل پولیس ایجنسی نے یہ تصدیق کر دی تھی کہ زلزلے اور سونامی کی وجہ سے9079 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ اس کے علاوہ 12 ہزار 645 افراد ابھی تک لاپتہ ہیں۔


رہائشی علاقوں سے انخلاء

ٹوکیو میں نیشنل پولیس ایجنسی نے بتایا ہے کہ منگل کی دوپہر تک پورے ملک میں جو شہری اپنے گھروں سے رخصتی پر مجبور ہو چکے تھے، ان کی تعداد تین لاکھ 18 ہزار 614بنتی ہے۔ ان میں سے زیادہ تر شہری بحرانی حالات کا شکار ہو جانے والے فوکوشیما کے ایٹمی پلانٹ کے ارد گرد کے علاقوں میں رہتے تھے۔ ان کی تعداد ایک لاکھ 77 ہزار سے بھی زیادہ ہے۔

Japan Erdbeben Tsunami Flash-Galerie

جاپان میں 12 ہزار 645 افراد ابھی تک لاپتہ ہیں

بجلی و پانی کے بغیر گھرانے

Tohuku الیکٹرک پاور کمپنی کے مطابق پیر کے روز تک پورے ملک میں ایسے گھرانوں کی تعداد تقریبا دو لاکھ21 ہزار تھی، جو بجلی کی فراہمی سے محروم تھے۔ منگل کو زیادہ تر شمالی جاپان میں ایسے گھرانوں کی تعداد کم ہو کر دو لاکھ 17 ہزار ہو چکی تھی۔ جاپان کے گیارہ صوبوں میں پیر کے روز تک ایسے گھرانوں کی تعداد کم از کم آٹھ لاکھ 80 ہزار تھی، جنہیں ان کے گھروں میں پانی کی فراہمی بحال نہیں ہو سکی تھی۔ جاپانی وزارت صحت کے پاس اس بارے میں منگل کے دن کے تازہ اعداد و شمار دستیاب نہیں تھے۔ اتوار کے روز ایسے گھرانوں کی تعداد 1.02 ملین تھی۔ گیارہ مارچ کے زلزلے اور پھر سونامی سے جو عمارتیں مکمل طور پر تباہ ہو گئیں، ان کی تعداد کم از کم بھی 14 ہزار 713 بتائی گئی ہے۔ نیشنل پولیس ایجنسی کے مطابق ایسی عمارتوں کی تعداد لاکھوں میں ہے، جنہیں ان قدرتی آفات سے جزوی طور پر نقصان پہنچا۔

Japan nach dem Erdbeben und Tsunami

جاپان میں اقتصادی نقصانات کی مالیت 122 بلین اور 235 بلین ڈالر کے درمیان ہے

معیشت پر اثرات

عالمی بینک نے نجی اندازوں کا حوالہ دیتے ہوئے جاپان میں زلزے اور سونامی کی وجہ سے ہونے والے اقتصادی نقصانات کی مالیت 122 بلین اور 235 بلین ڈالر کے درمیان بتائی ہے۔ یہ مالیت جاپان کی مجموعی قومی پیداوار کے 2.5 فیصد سے لے کر چار فیصد تک بنتی ہے۔ امریکی مالیاتی ادارے سٹی گروپ کے تخمینے کے مطابق ان آفات کے باعث جاپان میں صرف تعمیرات اور بنیادی ڈھانچے کو پہنچنے والے نقصانات کی مالیت پانچ سے لے کر 10 ٹریلین ین تک بنتی ہے۔

امداد کرنے والے ملک

جاپان میں ملکی تاریخ کے سب سے شدید اور تباہ کن زلزلے اور پھر سونامی کی تباہ کاریوں کے بعد جن ملکوں نے جاپان کو فوری طور پر ہنگامی امداد کی پیشکش کی، ان کی تعداد 128 بنتی ہے۔ ان بین الاقوامی تنظیموں کی تعداد 33 بنتی ہے، جو گزشتہ ہفتہ کے روز تک جاپانی متاثرین کو ہنگامی امداد کی پیشکش کر چکی تھیں۔

رپورٹ: عصمت جبیں

ادارت: شادی خان سیف

DW.COM