1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

جاپان: ایک برس میں پناہ کی صرف ستائیس درخواستوں کی منظوری

جاپان نے گزشتہ برس کے دوران غیر ملکیوں کی جانب سے پناہ کے لیے دی جانے والی تقریباً تمام درخواستیں رَد کر دیں اور صرف ستائیس مہاجرین کو پناہ دی۔ اقوام متحدہ کے مطابق جاپان میں مہاجرین کی کل تعداد چوبیس سو کے قریب ہے۔

ٹوکیو میں وزارتِ انصاف نے بتایا ہے کہ گزشتہ سال دی جانے والی درخواستوں کی تعداد 7586 رہی، جو کہ ایک ریکارڈ ہے لیکن یہ کہ ان میں سے ننانوے فیصد سے زیادہ درخواستوں کو رَد کر دیا گیا۔

جاپان کا شمار دنیا بھر میں مہاجرین کو امداد فراہم کرنے والے بڑے ممالک میں ہوتا ہے۔ حال ہی میں جاپان نے شام اور عراق کے مہاجرین کے لیے مزید ساڑھے تین سو ملین ڈالر کے امدادی پیکج کا اعلان کیا تھا۔ تاہم جاپانی حکام اپنے ملک میں غیر ملکیوں کو پناہ دینے کے بارے میں سخت پالیسی پر کاربند ہیں۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی بتائی جاتی ہے کہ جاپان اپنے معاشرے کو خالص جاپانیوں پر ہی مشتمل رکھنا چاہتا ہے۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کی رپورٹوں میں بتایا گیا ہے کہ خانہ جنگی کے شکار ملک شام سے محض پانچ افراد نے جاپان میں پناہ کی درخواست کی تھی، جن میں سے تین کی درخواست منظور کی گئی۔ جاپان کے برعکس یورپ میں جاری مہاجرین کے موجودہ بحران کے دوران شامی شہریوں کی بہت بڑی تعداد یورپ کا رخ کر رہی ہے۔

جن ستائیس افراد کو 2015ء میں جاپان میں پناہ دی گئی، اُن میں سے چھ کا تعلق افغانستان سے، تین کا ایتھوپیا سے اور تین کا سری لنکا سے تھا۔

جاپان کی وزاتِ انصاف کے مطابق ملک میں پناہ حاصل کرنے والے تارکین وطن کی تعداد میں 2015ء کے دوران گزشتہ برس کے مقابلے میں دو گنا سے بھی زیادہ اضافہ ہوا ہے۔ 2014ء میں صرف گیارہ تارکین وطن ہی جاپان میں پناہ حاصل کر پائے تھے۔ جب کہ 2013ء میں صرف چھ افراد کو پناہ دی گئی تھی۔

جاپان ایسوسی ایشن برائے مہاجرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ حالیہ برسوں کے دوران جاپان میں صورت حال بہتر ہوئی ہے لیکن جاپان کو مزید تارکین وطن کو پناہ دینا چاہیے۔ ایسوسی ایشن کا کہنا ہے، ’’ہم امید کرتے ہیں کہ جاپان اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین اور این جی اوز کے ساتھ مل کر پناہ گزینوں کی تصدیق کے عمل کو بین الاقوامی معیار سے ہم آہنگ کرے گا۔‘‘

جاپان میں مقیم پناہ گزینوں، انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والے اداروں اور وکلاء کی جانب سے گزشتہ کئی برسوں سے ایسی شکایات کی جاتی رہی ہیں کہ جاپانی حکام پناہ کے متلاشی افراد سے ناروا سلوک کرتے ہیں اور حراستی مراکز کی صورت حال بھی کافی خراب ہے۔

اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین کی جانب سے فراہم کردہ اعداد و شمار کے مطابق جاپان میں مقیم مہاجرین کی کل تعداد صرف 2419 ہے۔