1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

جاپان امیدوں اور خطرات کے سائے میں

جاپان میں جوہری بحران پر قابو پانے کی امیدوں میں اضافہ ہو گیا ہے۔ انجینیئرز چھ میں سے چار ری ایکٹرز تک بجلی کا رابطہ بحال کرنے میں کامیاب ہو گئے ہیں جبکہ دو ری ایکٹرز کا درجہ حرارت معمول پر آ گیا ہے۔

default

جاپان میں فوکوشیما کے جوہری پلانٹ کے تمام ری ایکٹرز کا درجہ حرارت کنٹرول میں رکھنے کی کوششیں جاری ہیں۔ تازہ ترین اطلاعات کے مطابق ری ایکٹرز کو ٹھنڈا رکھنے کے نظام نے آہستہ آہستہ کام کرنا شروع کر دیا ہے اور دو ری ایکٹرز کا درجہ حرارت مکمل طور پر قابو میں ہے۔ مزید یہ کہ زلزلے اور سونامی سے متاثر ہونے والے چھ ری ایکٹرز تک جلد برقی رابطہ بحال ہو جائے گا اور امید ہے کہ وہاں بھی سسٹم کام کرنا شروع کر دے گا۔

Japan Erdbeben Tsunami Atomreaktor

ہلاک ہونے والوں کی تعداد 8,450 ہو گئی ہے، پولیس

فوکوشیما اور اس کے اطراف کے علاقوں میں پانی میں تابکاری کے شدید اثرات پائے گئے ہیں۔ جاپان کی وزارت صحت نے بتایا کہ پینے کے پانی میں تابکاری کافی زیادہ پائی گئی ہے۔ ’’صحت پر اس تابکاری کے منفی اثرات سے بچنے کے لیے ضروری ہے کہ محدود مقدار میں پانی پیا جائے۔ تاہم اس کے باوجود علاقے کے باسیوں کو احتیاط برتنے کی ہدایات دی گئیں ہیں‘‘۔ جاپان میں جوہری توانائی کے نگران ادارے نے بتایا ہےکہ فوکوشیما کے جوہری پلانٹ پر کام کرنے والے افراد میں تابکاری کے اثرات پائے گئے ہیں۔

پہلی مرتبہ جاپان سے باہر کھانے پینے کی اشیاء میں تابکاری کے شامل ہونے کی رپورٹیں ملی ہیں۔ تائیوان میں جاپان سے برآمد ہونے والی ایک خاص قسم کی لوبیا میں تابکاری کے واضح اثرات ملے ہیں۔ دوسری جانب جاپانی پولیس نے بتایا ہے کہ زلزلے اور سونامی کے نتیجے میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد 8,450 ہو گئی ہے جبکہ ابھی بھی ہزاروں افراد لاپتہ ہیں۔

جاپانی وزیراعظم ناؤتو کان آج متاثرہ علاقہ کا دورہ کرنے والے تھے تاہم انہوں نے یہ دورہ شدید بارشوں کی وجہ سے ملتوی کر دیا ہے۔

CHINA Hamsterkäufe nach Atomkatastrophe in Japan Fukushima

پہلی مرتبہ جاپان سے باہر کھانے پینے کی اشیاء میں تابکاری کے شامل ہونے کی رپورٹیں ملی ہیں

جاپان میں اس قدرتی آفت کی وجہ سے نا صرف جانی نقصان ہوا ہے بلکہ مالی نقصان کا ابھی تک صحیح اندازہ نہیں لگایا جا سکا ہے۔ عالمی بینک کے اندازوں کے مطابق جاپان کو زلزلے اور سونامی سے ہونے والے نقصان کو پورا کرنے میں کم ازکم مزید پانچ سال لگیں گے۔ مزید یہ کہ متاثرہ علاقوں کی تعمیر نو اور دیگر امدادی کاموں پر235 ارب ڈالر تک کے اخراجات آئیں گے۔ عالمی بینک کی رپورٹ کے مطابق جاپان کی اقتصادی ترقی میں بھی11 مارچ کو آنے والی اس قدرتی آفت کی وجہ سے 0.5 فیصد کی کمی آئے گی۔

رپورٹ: عدنان اسحاق

ادارت: شامل شمس

DW.COM