1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

سائنس اور ماحول

جاپانی گردن توڑ بخار

بھارت میں جاپانی گردن توڑ بخار کی قسم پھیلنے سے دو سو سے زائد افراد کی ہلاکت کو رپورٹ کیا گیا ہے۔گورکھ پور نامی شہر زیادہ متاثر ہے۔ یہ بخار ایک خاص قسم کے مچھر کے کاٹنے سےپھیلتا ہے۔

default

گردن توڑ بخار کے دوران دماغ سوج جاتا ہے

عام گردن توڑ بخار اور بھارت میں پھیلنے والے بخار میں بنیادی فرق یہ ہے کہ عام گردن توڑ بخار بیکٹریا سے افزائش پاتا ہے جب کہ جاپانی گردن توڑ بخار ایک وائرس سے پھیلتا ہے جو ایک مچھر کے کاٹنے سے پیدا ہو تا ہے۔ گردن توڑ بخار کی یہ قسم جنوبی ایشیا سمیت مشرق بعید میں پائی جاتی ہے۔ مچھر کی یہ قسم گھروں میں پالے جانے والے سوروں کے گلے یا دوسرے جنگلی جانوروں اور پرندوں کے رکھے جانے والے مقامات میں ان کے بدنوں میں افزائش پا کر انسانوں میں منتقل ہوتا ہے۔ جاپانی گردن توڑ بخار میں بھی دماغ میں سوجن پیدا ہو جاتی ہے۔ اس کی وجہ سے مریض اگر ٹھیک بھی ہو جائے تو اس کے اندر ذہنی معذوری کا امکان بہت زیادہ ہوتا ہے۔ ایسی صورت میں انتہائی زور آور مچھر مار سپرے بہت ضروری خیال کیا جاتا ہے۔

بھارت کے شمالی علاقوں میں اس وبا کے کم از کم ساڑھے تیرہ سو مریضوں کا اندراج ہسپتالوں میں کیا جا چکا ہے۔ ان کے علاوہ دو سو پندرہ کے ہلاک ہونے کی بھی باقاعدہ تصدیق کی جا چکی ہے۔ شمالی بھارت کے شہر گورکھ پور میں اس بخار کی وجہ سے خوف و ہراس کی کیفیت پائی جاتی ہے۔ یہ اتر پردیش کے مشرق میں واقع ہے۔ گورکھ پور میں اس بخار کے پھیلنے کی

Südafrika Gesundheitswesen Krankenhaus in Johannesburg Isolierstation

گردن توڑ بخار میں مبتلا ایک افریقی ملک کا بچہ، کوارنٹائن میں

ابتدائی اطلاعات جولائی میں سامنے آئی تھیں۔ بعض ماہرین کے مطابق متاثرہ علاقہ سارے بھارت میں نظرانداز کئے جانے والے مقامات میں شمار ہوتا ہے۔ مقامی محکمہ صحت کے اہلکار یُو کے سری واستو کے مطابق ایسے مریض مسلسل ہسپتالوں میں پہنچائے جا رہے ہیں اور یہ تعداد ہزاروں تک پہنچ سکتی ہے۔

جاپانی گردن توڑ بخارکے دوران گردن کا اکڑ جانا انتہائی خاص علامت ہے اور یہ صورت حال خطرناک اور جان لیوا سمجھی جاتی ہے۔ جاپانی گردن توڑ بخار پھیلانے والا مچھر جب کاٹ لیتا ہے تو پانچ سے پندرہ دنوں میں بخار کی علامات ظاہر ہونا شروع ہو جاتی ہیں۔ شدید بخار کے ساتھ ساتھ سردرد، بار بار قے کا آنا اور گردن کا اکڑ جانا آخری سٹیج کے طور پر لیا جاتا ہے۔ اس بخار کے خلاف مدافعتی ویکسین سب سے پہلے چاپان نے ہی برسوں پہلے تیار کیا تھا لیکن وہ کوئی مؤثر ثابت نہیں ہوا۔ اس کے باوجود وہ دوا اب بھی استعمال کی جاتی ہے۔ بظاہر کوئی شافی اعلاج جاپانی گردن توڑ بخار کا ابھی تک موجود نہیں ہے۔ بخار کے دوران مدافعتی ادویات بے اثر ہو جانے کی بھی علامات ظاہر ہوسکتی ہیں۔ تاحال کئی ملکوں کی طبی تجربہ گاہوں میں اس بخار کی خلاف مؤثر دوا تیار کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔

رپورٹ: عابد حسین

ادارت: کشور مصطفیٰ

DW.COM

ویب لنکس