1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

جاپانی وزیر اعظم کا دورہ بھارت، تجارتی حجم بڑھانے پر اتفاق

جاپان کے وزیر اعظم اس وقت بھارت کے ایک روزہ دورے پر ہیں۔ بھارتی وزیر تجارت کے مطابق سن دو ہزار چودہ تک دوطرفہ تجارت کا حجم بڑھ کر 25 ارب ڈالر تک پہنچ جائے گا۔

default

وزیراعظم یوشی ہیکو نوڈا

بھارت اور جاپان کے مابین سفارتی تعلقات تو انتہائی اچھے ہیں لیکن تجارتی حجم صرف پندرہ بلین ڈالر ہے۔ اگر اس کا موازنہ جاپان اور چین کے مابین تجارتی حجم سے کیا جائے تو یہ پانچ فیصد سے بھی کم بنتا ہے۔ جاپانی وزیراعظم یوشی ہیکو نوڈا کا آج بھارتی صنعت کاروں سے گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا کہ بھارت میں مڈل کلاس کے لوگ ترقی کر رہے ہیں، جس سے دو طرفہ تجارتی حجم پر مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ تجارتی حجم کم ہونے کے باوجود جاپانی کمپنیاں بھارت کو طویل المدتی پارٹنر تصور کرتی ہیں۔

Japan Stichwahl Yoshihiko Noda

وزیراعظم نوڈا کا کہنا تھا کہ بھارت کے ساتھ سول جوہری ٹیکنالوجی کی فروخت کے حوالے سے مذاکرات ’صحیح سمت‘ کی جانب گامزن ہیں

گزشتہ سات برسوں میں جاپان کے چھٹے وزیراعظم نوڈا کا کہنا تھا کہ بھارت کے ساتھ سول جوہری ٹیکنالوجی کی فروخت کے حوالے سے مذاکرات ’صحیح سمت‘ کی جانب گامزن ہیں۔ بھارت جاپان سے سول نیوکلیئر ٹیکنالوجی حاصل کرنا چاہتا ہے جبکہ جاپان کی خواہش ہے کہ بھارت پہلے مزید ایٹمی تجربے نہ کرنے کے معاہدے پر دستخط کرے اور یہی وجہ ہے کہ اس معاملے پر دو طرفہ مذاکرات سست روی کے شکار ہیں۔

ایک 1483 کلومیٹر لمبے صنعتی کوریڈور کے قیام کے لیے جاپان پہلے ہی بھارت کے ساتھ مل کر کام کر رہا ہے۔ نئی دہلی سے شروع ہونے والا یہ صنعتی زون مالیاتی مرکز ممبئی تک پہنچے گا۔ امید کی جا رہی ہے کہ اس زون کے قیام سے بھارتی معیشت مزید مستحکم ہو گی۔

اس صنعتی کوریڈور میں چوبیس نئے شہروں کے قیام کی منصوبہ بندی بھی کی گئی ہے۔ بھارتی وزیر تجارت آنند شرما کے مطابق مجموعی طور پر اس منصوبے میں 100 ارب ڈالر سے زائد کی سرمایہ کاری کی جائے گی۔

گزشتہ روز جاپانی وزیر اعظم کی بھارت روانگی سے پہلے جاپان میں گزشتہ دس برسوں سے جاری ہتھیاروں کی برآمدات پر عائد پابندی میں بھی نرمی کی گئی ہے اور امید کی جا رہی ہے کہ دونوں ملکوں کے مابین ہتھیاروں کی خرید و فروخت کا کوئی معاہدہ طے پا سکتا ہے۔گزشتہ برس ہتھیار خریدنے والے ملکوں میں بھارت پہلے نمبر پر تھا۔

رپورٹ: امتیاز احمد

ادارت: حماد کیانی

DW.COM