1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

جاپانی نظام جنوبی کوریا کی گلیوں سے رخصت

کئی دہائیوں کی الجھن کے بعد جنوبی کوریا نے اپنے روایتی نظام کو ختم کرتے ہوئے ایڈریسز یا پتوں کے حوالے سے گلیوں اور گھروں کے نمبروں پر مشتمل نیا نظام اپنانے کا فیصلہ کیا ہے۔

default

بہت سے شہری اس نئے نظام سے خوش نہیں ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ثقافتی میراث کو ختم کر تے ہوئے نئے نظام کو اپنانا ٹھیک نہیں ہے۔

انتیس جولائی سے 5.68 ملین گھروں، اپارٹمنٹس اور دیگر عمارتوں کو نئے قانونی پتے یا ایڈریسز دے دیے گئے تھے، جس کا مطلب یہ ہے کہ شہریوں کو اپنے شناختی کارڈز، سرکاری دستاویزات اورجائیداد وغیرہ میں پرانے پتوں کی جگہ نئے ایڈریسز کا اندراج کروانا پڑےگا۔

جنوبی کوریا میں پتوں کے روایتی نظام کا آغاز سن 1910 کے بعد سے شروع ہوا تھا۔ پرانے نظام کے تحت سیول شہر کے روایتی گھروں کے پتوں کا اندراج گلیوں کی بجائے گھروں کی لائنوں اور رہنے والے ہمسایوں کے حساب سے کیا جاتا تھا۔ یہ نظام جاپانیوں کے دور سے چلا آ رہا تھا، جب انہوں نے کوریا پر قبضہ کرتے ہوئےاسے اپنی کالونی بنا لیا تھا۔ یہ سسٹم آج کی دنیا سے مطابقت نہیں رکھتا اور نئی نسل کے لیے مشکل کا باعث تھا۔

اس الجھن کو ختم کرنے کے لیے اُس نئے نظام کو متعارف کروایا گیا ہے، جو ترقی یافتہ ممالک میں رائج ہے اور بین الاقومی معیار کے عین مطابق بھی ہے۔ نئے نظام کے قیام کا ایک مقصد جاپانی قبضے اور اس کی روایات کو ختم کرنا بھی ہے اور اس مقصد کے لیے جنوبی کوریا کی حکومت سن 1996 سے کام جاری رکھے ہوئے ہے۔ اب تک ملک بھر میں ایک لاکھ اٹھاون ہزار کے قریب سڑکوں کو نئے نمبرز اور نام دیے جا چکے ہیں۔

پبلک ایڈ منسٹریشن اور سلامتی کی وزارت کے مطابق اگلے دو سالوں تک پرانے اور نئے ایڈریسز کو ایک ساتھ استعمال کیا جا سکتا ہے لیکن 2014ء کے آغاز سے صرف نئے پتے یا ایڈریسز ہی کارآمد ہوں گے۔

کوریا ’ینگ بدھ مت‘ کی پیروکار ایسوسی ایشن کے صدر جُنگ وو سِک کا کہنا ہے کہ روایتی پتے محض نام اور نمبرز ہی نہیں ہیں بلکہ ان کے اندر ان کی اپنی ایک منفرد کہانی اور تاریخ چھپی ہوئی ہے۔ جُنگ کا کہنا ہے کہ وہ اس حکومتی فیصلے کے خلاف قانونی طور پر درخواست دائر کرنے پر غور کریں گے۔ ان کے مطابق نئے نظام کے تحت بدھ مت کی مناسبت سے رکھے گئے 200 کے قریب ناموں کو ختم کر دیا جائے گا۔

رپورٹ: سائرہ ذوالفقار

ادارت: امتیاز احمد

DW.COM