1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

صحت

جاپانی بچوں کے جسموں میں تابکار آئیوڈین کے ذرات

جاپان کے زلزلہ زدہ جوہری بجلی گھر فوکوشیما کے اطراف میں قریب پینتالیس فیصد بچوں کے گلے کے غدود میں تابکاری کے اثرات والے اجزاء دیکھے گئے ہیں۔

default

یہ انکشاف ایک نئی طبی تحقیق کے نتیجے میں ہوا ہے۔ خبر رساں ادارے اے ایف پی نے ایک حکومتی عہدیدار کے حوالے سے بتایا کہ یہ نمونے پانچ ماہ قبل حاصل کیے گئے تھے۔ جاپانی حکومت کی جوہری حادثے سے نمٹنے کی ٹاسک فورس نے 11 مارچ کے اس حادثے کے دو ہفتے بعد ان بچوں کے غدود کے نمونے حاصل کیے تھے۔ ان میں 15 سال کی عمر تک کے 1149 بچے شامل ہیں۔

حکومتی ذرائع کے مطابق مکمل طور پر متاثرہ بچوں کے غدود کے نمونوں میں تابکار آئیوڈین کی مقدار باعث تشویش نہیں۔ ایک حکومتی اہلکار نے بتایا کہ فی الحال سرکاری موقف یہی ہے کہ کسی بھی بچے کے جسم میں تابکاری کی حد خطرناک نہیں ہے۔ ماہرین کے مطابق تھائی روئڈ گلینڈ میں تابکار آئیوڈین کی موجودگی مستقبل میں کینسر کا سبب بن سکتی ہے۔ نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر ایک عہدیدار نے بتایا کہ اب تک 1080 بچوں کے طبی معائنوں کے نتائج سامنے آ چکے ہیں، جن میں سے44.6 فیصد کے جسموں میں تابکار آئیوڈین کی کچھ مقدار کی موجودگی کی تصدیق ہوئی ہے۔

100 Tage Katastrophe Japan NO FLASH

زلزلے کے فوری بعد متاثرہ علاقوں کے باسیوں میں تابکاری کے اثرات معلوم کرنے کی کوششوں کا سلسلہ شروع کر دیا گیا تھا

ان کے بقول کسی بھی بچے کے جسم میں اعشاریہ دو مائیکروسیویرٹس mSv فی گھنٹہ کے برابر تابکاری نہیں پائی گئی، جو جاپان میں جوہری سلامتی کے کمیشن کی جانب سے خطرے کے مقرر کردہ حد ہے۔ اس عہدیدار کے مطابق، ’’محض ایک بچے کے جسم میں اعشاریہ ایک مائیکرو سیویرٹس mSv فی گھنٹہ کی تابکاری دیکھی گئی ہے۔‘‘ انہوں نے اس بچے کی جنس یا عمر نہیں بتائی۔

سلامتی کمیشن میں خطرے کی حد کو اعشاریہ ایک مائیکرو سیویرٹس mSv فی گھنٹہ تک کرنے پر غور ہورہا ہے تاکہ ممکنہ خطرے سے دوچار بچوں کا مکمل معائنہ کر کے ان کا علاج معالجہ شروع کیا جا سکے۔ زلزلے سے متاثرہ فوکوشیما شہر کی حکومت اپنے یہاں 18 سال یا اس سے کم عمر کے قریب 36 ہزار افراد کا عمر بھر تک چیک اپ کرتے رہنا چاہ رہی ہے۔ فوکوشیما کی حکومت نے اب تک کے ٹیسٹوں کے نتائج متعلقہ خاندانوں کو بھیجنے اور انہیں مستقبل کے حوالے سے مشورے دینے کا سلسلہ بھی شروع کر رکھا ہے۔

رپورٹ: شادی خان سیف

ادارت: مقبول ملک

DW.COM