1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

جاپانی ايٹمی بحران: کاروباری اعتماد کو دھچکہ

جاپانی ايٹمی بجلی گھر فوکو شيما کے بحران سے جاپان کے صنعتی تجارتی شعبے پر اعتماد ميں زبردست کمی ہوگئی ہے اور اپريل ميں اب تک اس اعتماد ميں ريکارڈ حد تک کمی ہوئی ہے۔

Tokyo Electric Power Co.(TEPCO) President Masataka Shimizu, center, holding a document folder, leaves after a press conference at the TEPCO headquarters in Tokyo Wednesday, April 13, 2011. Shimizu and other company executives bowed in apology on Wednesday as Shimizu pledged to do more to help compensate residents unable to return home or work due to the accident at the tsunami-crippled Fukushima Dai-ichi nuclear power plant, northeastern Japan. (AP Photo/Koji Sasahara)

ٹوکيو اليکٹرک پاور کمپنی کے رفقائے کار ايک پريس کانفرنس کے بعد

بين الاقوامی مالياتی فنڈ IMF نے خبردار کيا ہے کہ جاپان کے ايٹمی حا دثے پر قابو پانے کے کوئی آثار نظر نہيں آتے اور دنيا کی يہ تيسری بڑی معيشت يقينی طور پر زوال پذير ہے۔ جاپانی اقتصاديت ميں خرابی کے اثرات پوری عالمی معيشت پر پڑ سکتے ہيں۔

400 بڑی فرموں کے سروے سے يہ ظاہر ہوا ہے کہ فوکوشيما بجلی گھر کی تباہی سے بجلی کی جو قلت پيدا ہوئی ہے اس سے تقريباً 20 فيصد مقامی کمپنيوں ميں پيداوار اور فراہمی متاثر ہوئی اس کے عالمی اثرات يہ ہيں کہ Sony کارپوريشن نے پيداوارجزوی طور پر روک دی ہے اور دنيا کی سب سے بڑی آٹو موبائل کمپنی ٹويوٹا نے ملک کے اندر اور امريکہ ميں اپنے کئی کارخانوں ميں کام روک ديا ہے۔

IMF نے خبردار کيا ہے کہ اگر جاپان نے اپنے ايٹمی بحران پر جلد قابو نہيں پايا اور دو تين مہينوں کے اندر بجلی کی فراہمی پورے طور پر بحال نہيں کی اور اُسے اپنی پيداوار کو معمول پر لانے ميں کاميابی حاصل نہيں ہو سکی تو اس کی معيشت کو مزيد نقصان پہنچے گا۔

In this photo released by Tokyo Electric Power Co. (TEPCO), a small fire breaks out from facilities sampling seawater located a few dozen meters from Unit 4 inside the tsunami-crippled Fukushima Dai-ichi nuclear power plant in Okumamachi, Fukushima Prefecture, northeastern Japan, Tuesday morning, April 12, 2011. The fire was put out soon and the ongoing cooling operations at the main units were not affected according to TEPCO. (Foto:Tokyo Electric Power Co./AP/dapd) EDITORIAL USE ONLY

فوکوشيما ايٹمی بجلی گھر ميں آگ

11 مارچ کو جاپان ميں زلزلے اور اس کے ساتھ ہی 15 ميٹر اونچی سونامی لہروں نے جو تباہی پھيلائی اُس کے نتيجے ميں اس ملک کو دوسری عالمی جنگ کے بعد سے سب سے بڑے بحران کا سامنا ہے۔ رلزلے،سونامی اور ايٹمی بجلی گھر کی تباہی کے اخراجات کا اندازہ 300 ارب ڈالر لگايا جاتا ہے۔ اس طرح يہ دنيا کی سب سے مہنگی قدرتی آفت ہے۔

فوکوشيما بجلی گھر چلانے والی ٹوکيو اليکٹرک پاور کمپنی کے انجينئر، جو بجلی گھر کے ری ايکٹروں کی صورتحال پر کنٹرول کی کوششوں ميں مصروف ہيں، اب اس بارے ميں فکر مند ہيں کہ 11 مارچ کے زلزلے سے کہيں استعمال شدہ جوہری تابکار سلاخوں کو تو نقصان نہيں پہنچا ہے اور کہيں ان سے تو بہت زيادہ تابکاری خارج نہيں ہورہی ہے؟

In this Thursday April 7, 2011 photo, Japanese police wearing protective radiation suits search for the bodies of victims of the tsunami in the Odaka area of Minamisoma, inside the deserted evacuation zone established for the 20 kilometer radius around the Fukushima Dai-ichi nuclear reactors. (AP Photo/David Guttenfelder)

فوکو شيما کے کارکن تابکاری سے بچنے کے لئے حفاظتی لباس پہنے ہوئے ہيں

جاپان کی نيو کلئر اور انڈسٹريل سيفٹی ايجينسی NISA نے فوکو شيما ايٹمی پلانٹ چلانے والی کمپنی سے کہا ہے کہ وہ پلانٹ کی تباہ شدہ عمارت کی، زلزلہ برداشت کرنے کی صلاحيت کی جانچ پڑتال کرے اور يہ اندازہ لگائے کہ کيا يہ عمارت زلزلے کےبعد طاقتور ضمنی جھٹکوں کو سہار سکتی ہے؟

پلانٹ کو ٹھنڈا رکھنے کے اندرونی نظام کی تباہی کے بعد انجينئر اور دوسرا عملہ ری ايکٹروں کے اندر اور باہرتالابوں ميں ذخيرہ کی جانے والی بہت زيادہ گرم جوہری سلاخوں کو ٹھنڈا کرنے کے لئے ان پر مسلسل پانی ڈال رہے ہيں۔ اس طرح پلانٹ ميں 60 ہزار ٹن تابکار پانی جمع ہوگيا ہے۔ اس پانی کو سمندر ميں خارج کرنا پڑا۔ اس اخراج کو پير کے دن سے روک ديا گيا ہے ليکن اس سے ہمسايہ ممالک چين اور جنوبی کوريا کے ساتھ جاپان کے تعلقات متاثر ہوئے ہيں۔

استعمال شدہ گرم اور تابکارنيوکلئرفيول راڈز کو ٹھنڈا ہونے ميں کئی سال لگتے ہيں جس دوران ان سلاخوں کو پانی ميں ڈبوئے رکھنا لازمی ہوتا ہے۔

رپورٹ: شہاب احمد صديقی

ادارت: مقبول ملک

DW.COM