1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

جاپانی الیکشن: سیاسی جماعتوں نے انتخابی مہم کا آغاز کردیا

جاپان میں آج منگل کے روز 30 اگست کو منعقد ہونے والے ملکی پارلیمانی انتخابات کے لئے سیاسی مہم کا آغاز ہو گیا ہے۔ ان انتخابات میں جاپانی پارلیمان کے ایوان زیریں کی 480 نشستوں کے لئے ووٹنگ ہوگی۔

default

اپوزیشن رہنما یوکیو ھاتویاما کامیابی کے لئے پر امید

جاپان میں ان انتخابات کی تیاری کے لئے ملک کی دونوں بڑی سیاسی جماعتیں بشمول چھوٹی پارٹیوں کے کافی سرگرم دکھائی دے رہی ہیں۔

وزیر اعظم تارو آسو کی حکمران جماعت لبرل ڈیموکریٹک پارٹی LDP کو ان انتخابات میں اپوزیشن رہنما یوکیو ھاتویاما کی ڈیموکریٹک پارٹی آف جاپان DPJ سے سب سے زیادہ خطرہ ہے۔ ڈیموکریٹک پارٹی کو ایوان بالا میں پہلے ہی سے اکثریت حاصل ہے، جس کی وجہ سے وہ آسو کی موجودہ حکومت کے لئے قانون سازی کے معاملات سے لے کر عالمی مالیاتی بحران اور پھر ملکی اقتصادی مسائل کے حوالے سے مشکلات کھڑی کرتی رہی ہے۔

Der Japanische Ministerpräsident Taro Aso

جاپانی وزیر اعظم طارو آسو کا اقتدار خطرے میں ہے

ان انتخابات میں DJP کی جیت سے جاپانی پالیسی اور قانون ساز اداروں میں ڈیڈلاک ختم ہونے کا امکان ہے۔ ڈیموکریٹک پارٹی آف جاپان نے الیکشن میں کامیابی کی صورت میں جاپانی صارفین کے ہاتھ میں زیادہ سرمایہ دینے، اگلے چار سال تک سیلز ٹیکس کو پانچ فیصد تک رکھنے اور پالیسی ساز اداروں پر بیوروکریسی کے کنٹرول میں کمی کے وعدے کئے ہیں۔

اس پارٹی نے یہ اعلان بھی کیا ہے کہ جاپان کے اتحادی ملک امریکہ کے ساتھ سیاسی اور معاشی تعلقات میں برابری کو ترجیح دی جائے گی اور اس کے لئے کوششیں بھی کی جائیں گی۔ ڈیموکریٹک پارٹی کے مطابق اگر یہ جماعت اقتدار میں آ گئی تو اس کے دور حکومت میں ٹوکیو واشنگٹن کے سامنے عاجزی اور انکساری کی وہ پالیسی برقرار نہیں رکھے گا، جو گزشتہ عشروں سے جاپانی حکومتوں کی پہچان رہی ہے۔

ماہرین کے مطابق 30 اگست کے انتخابات میں ڈیموکریٹک پارٹی کی کامیابی کے آثار دکھائی دیتے ہیں۔ اگر ایسا ہو جاتا ہے تو جاپان کی گزشتہ 54 سال کی پارلیمانی جمہوری تاریخ میں اپوزیشن کے ہاتھوں LDP کی یہ دوسری بڑی شکست ہوگی۔

رپورٹ: انعام حسن

ادارت: مقبول ملک

DW.COM