1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

جاوید ہاشمی بھی تحریک انصاف میں شامل ہو گئے

پاکستان میں جنوبی پنجاب کی بہت اہم سیاسی شخصیت مخدوم جاوید ہاشمی نے آج ہفتے کے روز کراچی میں مسلم لیگ نواز چھوڑ کر عمران خان کی پاکستان تحریک انصاف میں شمولیت کا اعلان کر دیا۔

default

کراچی میں ایک پرہجوم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے جاوید ہاشمی نے کہا کہ ان کو کرکٹ میں ہمیشہ عمران خان پسند رہے ہیں اور اب تو سیاست میں بھی وہی ان کے چیمپئن ہیں۔ ہاشمی کے بقول ان کی گزشتہ پارٹی مسلم لیگ نون کے لوگ ہفتے کی صبح تک ان کو منانے کی کوششیں کرتے رہے اور جب وہ اپنے اس نئے سیاسی سفر پر روانہ ہوئے تو مسلم لیگ نون کے کارکنوں نے ان کو روکنے کی بہت کوششیں کیں۔ پاکستان کی سیاست میں کسی جانے والے کا اتنا احترام کم ہی دیکھنے میں آیا ہے۔
مخدوم جاوید ہاشمی نے بھی اپنے سابق سیاسی ساتھیوں کے بارے میں اچھی باتیں کہیں۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب کے وزیر اعلیٰ شہباز شریف کے ساتھ ان کے کوئی ذاتی اختلافات نہیں ہیں بلکہ شہباز شریف تو ان کو ’سر‘ کہہ کر پکارتے ہیں۔ انہوں نے یاد دلایا کہ جب پچھلے دنوں نواز شریف سندھ کے دورے پر تھے، تو وہ بھی ان کے ساتھ تھے۔ انہوں نے کہا کہ اب سب کو سمجھ لینا چاہیے کہ اس دوڑ میں آگے کون ہے۔

ہاشمی کے بقول سیاست میں جو رفتار عمران خان کی ہے، اس تک کوئی نہیں پہنچ رہا اور ان کا اپنی سابقہ سیاسی جماعت کے ساتھ یہی ایک اختلاف ہے۔

عمران خان کی پارٹی پاکستان تحریک انصاف کل اتوار کو کراچی میں ایک بڑا جلسہ عام کر رہی ہے اور کراچی کی سب سے بڑی جماعت متحدہ قومی موومنٹ نے ابھی کل جمعے کو ہی ملتان میں ایک بڑا جلسہ کیا تھا۔

Verhaftungswelle in Pakistan

جاوید یاشمی کو مسلم لیگ نواز میں انتہائی اہمیت کا حامل رہنما سمجھا جاتا تھا

جاوید ہاشمی سے جب یہ پوچھا گیا کہ آیا یہ درست ہے کہ ملتان کے جلسے کو کامیاب بنانے میں انہوں نے متحدہ قومی موومنٹ کی مدد کی، تو انہوں نے کہا کہ ایسا نہیں ہوتا کہ کوئی کسی کے جلسے میں لوگ بھیج دے۔ ’’متحدہ نے اپنا جلسہ اپنی محنت سے کامیاب کیا ہے اور ہم بھی کل اپنا جلسہ اپنی محنت سے کامیاب بنائیں گے۔‘‘

پریس کانفرنس کے دوران جب ہاشمی کے ساتھ بیٹھے ہوئے تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان سے یہ پوچھا گیاکہ آیا ان کی پارٹی میں یکدم اتنے سیاسی ہیوی ویٹ جمع ہونے کے پیچھے کوئی خفیہ ہاتھ بھی ہوسکتا ہے، تو عمران خان نے کہا، ’خفیہ ہاتھ اللہ کا ہے، جس کا کوئی مقابلہ نہیں کر سکتا‘۔

جاوید ہاشمی نے اس بات پر کہا کہ مسلسل یہ کہا جا رہا ہے کہ ایجنسیوں نے ان کو اس فیصلے پر مجبور کیا ہے جبکہ سب جانتے ہیں کہ ایجنسیوں سے ان کے تعلقات کیسے ہیں۔ ہاشمی کے بقول، ’رات گئے تک میں نواز لیگ کے ساتھیوں کے ساتھ تھا، پھر میڈیا کے لوگوں نے مجھے گھیر رکھا تھا اور اب میں یہاں بیٹھا ہوں۔ تو یہ ایجنسیاں میرے پاس کب آتیں؟‘
جاوید ہاشمی ہی کے علاقے سے ایک اور ہیوی ویٹ سیاسی رہنما اور پیپلز پارٹی حکومت کے سابق وزیرِ خارجہ شاہ محمود قریشی بھی جاوید ہاشمی کے ساتھ موجود تھے، جنہوں نے موجودہ سیاسی بھاگ دوڑ میں سب سے پہلے عمران خان کی تحریک انصاف میں شمولیت حاصل کی تھی۔ عموماﹰ ان دونوں رہنماؤں کو ایک دوسرے کا سیاسی حریف سمجھا جاتا ہے لیکن اب ایک ہی جماعت میں شامل ہو جانے کے بعد یہ سوال اور بھی زیادہ ابھر کر سامنے آ رہا ہے کہ عمران خان ان سب سیاستدانوں کو کیسے سنبھالیں گے۔

جب عمران خان سے پوچھا گیا کہ اتنے کہنہ مشق سیاستدانوں کی موجودگی میں ان کی جماعت وزیر اعظم کا فیصلہ کیسے کرے گی، تو انہوں نے کہا کہ ہم فیصلہ میرٹ کی بنیاد پر کریں گے اور پارٹی جسے بہتر سمجھے گی، وزارت عظمیٰ کا قلمدان بھی اسی کو سونپے گی۔ اس سوال کے جواب میں کہ پارٹی میں نئے چہروں کی شمولیت سے پرانے کارکنوں میں کوئی بددلی تو نہیں پھیل رہی، عمران خان نے کہاکہ ان کی جماعت نئے ساتھیوں کی اپنی صفوں میں شمولیت پر بہت خوش ہے۔

رپورٹ: رفعت سعید، کراچی

ادارت: مقبول ملک

DW.COM