1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

جان کا خطرہ، ’سیف الاسلام ICC میں پیش ہونے پر تیار‘

سیف اپنے والد معمر القذافی کی ہلاکت کے بعد سےمفرور ہیں۔ وہ کہاں موجود ہیں، اس بارے میں تفصیلات مبہم ہیں لیکن شک ہے کہ وہ لیبیا کی سرحد پار کر کے نائجر کی حدود میں صحارا کے صحرا میں پناہ لیے ہوئے ہیں۔

default

سیف الاسلام، فائل فوٹو

لیبیا کے سابق رہنما معمر القذافی کے فرزند سیف الاسلام دی ہیگ میں عالمی فوجداری عدالت میں پیش ہونے کے لیے تیار ہیں کیونکہ سیف الاسلام کو خوف ہے کہ اگر انہیں لیبیا میں پکڑ لیا گیا تو ان کی جان کو خطرہ لاحق ہو جائے گا۔ 39 سالہ سیف الاسلام نے نامعلوم جگہ سے پیغام دیا ہے کہ انہیں ایک خصوصی طیارہ فراہم کیا جائے تاکہ وہ محفوظ طریقے سے لیبیا سے باہر نکل سکیں۔

لیبیا کی قومی عبوری کونسل NTC کے مطابق سیف الاسلام شاید نائجر کی حدود میں ہیں۔ قومی عبوری کونسل کے ایک اعلیٰ اہلکار نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر خبر ایجنسی روئٹرز کو بتایا ہے کہ سیف الاسلام مالی اور جنوبی افریقہ کی حکومتوں سے رابطے میں ہیں تاکہ انہیں دی ہیگ میں واقع بین الاقوامی فوجداری عدالت ICC کے حوالے کرنے کا انتظام کیا جا سکے، ’تاہم سیف کو ابھی تک کوئی جواب نہیں ملا ہے اور وہ انتظار میں ہے‘۔ آزاد ذرائع سے اس اعلیٰ اہلکار کے بیان کی تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔

Libyen Gaddafi Sohn Saif al-Islam in Tripolis

سیف الاسلام کہاں روپوش ہیں، اس بارے میں مصدقہ اطلاع نہیں ہے

NTC کے بقول سیف الاسلام’ اپنی حفاظت کے لیے خود کو ICC کے حوالے کرنے پر رضا مند ہواہے، بتایا جا رہا ہے کہ سیف الاسلام سولہ ملین ڈالر کی رقوم کے ساتھ لاپتہ ہیں اور اس بات کے خدشات ہیں کہ اس خطیر رقم سے وہ لیبیا میں دہشت گردی کی کارروائیوں کو بھڑکا سکتا ہے۔ غیر مصدقہ اطلاعات کے مطابق سیف الاسلام نے کہا ہے کہ وہ لیبیا میں ہی موجود ہے اور اپنے والد کی ہلاکت کا بدلہ ضرور لے گا۔

دوسری طرف انٹرنیشنل فوجداری عدالت نے کہا ہے کہ وہ سیف الاسلام اور لیبیا کی انٹیلی جنس کے سابق سربراہ عبداللہ السنوسی کے ارادے جاننے کے لیے کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔ لیبیا میں ہونے والی خانہ جنگی کے دوران جنگی جرائم کے مرتکب ہونے کے شبے میں یہ دونوں ہی ICC کو مطلوب ہیں۔

کئی قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر سیف الاسلام کوگرفتار کر لیا جاتا ہے تو وہ ICC میں اپنا مضبوط دفاع کر سکتا ہے۔ سیف پر الزام ہے کہ اس نے خانہ جنگی کے دوران رواں برس فروری اور مارچ کے دوران عام شہریوں پر مظالم ڈھانے کی ہدایات جاری کی تھیں۔ دیں اثناء لیبیا کی عبوری کونسل نے واضح کیا ہے کہ اگر سیف اور السنوسی لیبیا کی حدود سے گرفتار کیے جاتے ہیں تو وہ لیبیا کی عدالتوں میں ملکی قانون کے تحت مقدموں کا سامنا کریں گے۔ تاہم کونسل نے اعتراف کیا ہے کہ اس کے پاس اتنے وسائل نہیں ہیں کہ وہ ان دونوں مطلوب افراد کا کھوج لگانے کے لیے مؤثر کارروائی کر سکے۔

رپورٹ: عاطف بلوچ

ادارت: عصمت جبیں

DW.COM

ویب لنکس