1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

جان مکین کی بطور صدارتی امیدوار نامزدگی

ابھی ایک سال قبل تک یوں لگ رہا تھا جیسے جان مککین کی انتخابی مہم ختم ہو چکی ہو۔ رقم کی قلت اور انتخابی ٹیم میں کھینچاتانی کی وجہ سے 72 سالہ سینیٹر صدارتی دوڑ سے دستبردار ہونے ہی والے تھے کہ پھر کچھ سوچ کر رہ گئے۔

default

انہوں نے اپنی توانائیوں کو دوبارہ جمع کیا، انتخابی مہم جاری رکھی اور پارٹی کے اندر ہونے والی صدارتی امیدوارکی دوڑمیں آگے نکل گئے۔ اب ریپبلیکن پارٹی نے انہیں اپنا باضابطہ امیدوار نامزد کر دیا ہے۔ ان کی نامزدگی پر خود پرو ٹسٹنٹ کلیسا نے بھی خوشی کا اظہار کیا۔

جس کی وجہ Sarah Palin کی نائب صدارتی امیدوار کی حیثیت سے نامزدگی تھی۔44 سالہ خاتون کا، جو الاسکا کی گورنر ہیں، ریپبلیکن پارٹی کے اجلاس میں بے پناہ خیر مقدم کیا گیا۔

جان مککین کا ایک خواب تو پورا ہوا۔ وہ نائب صدارت کے لئے کسی ایسے ہی چہرے کی تلاش میں تھے جو ووٹروں کے دل جیت سکے۔ ان کی شخصیت کا مقابلہ اب سابق خاتون اول ہلیری کلنٹن سے کیا جانے لگا ہے۔ تاہم Sarah Palin ایک سخت مذہبی خاتون ہیں جو بہت سی باتوں میں ہلیری کلنٹن کے بالکل الٹ موقف رکھتی ہیں۔

پارٹی اجلاس میں ان کا انداز بیان خاصا جارحانہ رہا۔ انہوں نے اپنے خطاب میں ڈیموکریٹس امیدوار اوباما پر تابڑ توڑ حملے کئے۔ یہ الگ بات ہے کہ یہ تقریر ان کی اپنی نہ تھی بلکہ صدر بش کے ایک قریبی مشیر کی لکھی ہوئی تھی۔

ان کے برعکس جان مککین کی تقریر مصالحت آمیز تھی۔ جس کے دوران انہوں نے اوباما کی تعریف بھی کی۔ انہوں نے ایک بات واضح کردی واشنگٹن کی سیاست نے پارٹی پر منفی اثرات مرتب کئے ہیں۔ انہیں بش کی پالیسیوں سے ہر صورت دوری اختیار کرنی ہو گی۔ کس طرح کی دوری یہ بات انہوں نے واضح نہیں کی۔ کیونکہ بش عوام میں جس قدر نامقبول ہو چکے ہیں اتنا کوئی امریکی صدرعوام میں نامقبول نہیں رہا۔ بہرحال یہ ریپبلیکن ہی تھے جو گذشتہ 8 برسوں سے وائٹ ہاوس میں برسراقتدار ہیں۔ اگر اب وہ بش حکومت کی نااہلیوں پر غصہ دکھا رہے ہیں تو یہ سب اس میں برابر کے شریک رہے ہیں۔ جہاں تک صدارتی انتخاب جیتنے کا تعلق ہے، عوامی جائزوں کے مطابق اوباما اور جان مککین کی انتخابی پوزیشن میں کوئی زیادہ فرق نہیں ہے۔