1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

جان مکین کا دورہء پاکستان

سابق ریپبلکن صدارتی امیدوار اور امریکی سینیٹ میں آرمڈ سروسز کمیٹی کے چیئرمین جان مکین کے دورہ پاکستان نے واشنگٹن اور اسلام آباد کے درمیان دوریاں ختم کرنے کے امکانات پیدا کر دیے ہیں۔

default

جان مکین

مکین نے اتوار تین جولائی کو شمالی وزیرستان کا دورہ بھی کیا۔ انہوں نے اپنے دورے کے دوران پاکستان کی عسکری قیادت اور مشیرخارجہ سرتاج عزیز سے بھی ملاقاتیں کیں۔ پاکستان و امریکا کے تعلقات میں حالیہ مہینوں میں آنے والی تلخیوں کے بعد اس دورے کو اہم قرار دیا جا رہا ہے۔ تجزیہ نگاروں کے خیال میں جان مکین نے مثبت تاثرات سے یہ عندیہ دیا ہے کہ دونوں حلیفوں میں تعلقات جلد بہتر ہوسکتے ہیں۔ لیکن سیاسی مبصرین کے خیال میں اس بہتری میں ابھی بہت وقت لگے گا۔

کراچی یونیورسٹی کے شعبہء بین الاقوامی تعلقات کی سابق چیئر پرسن ڈاکٹر طلعت اے وزارت نے اس دورے پر اپنے خیالات کا اظہار ڈی ڈبلیو سے کچھ یوں کیا، ’’جان مکین سینیٹ کی کمیٹی برائے آرمڈ سروسز کے چیئرمین ہیں جو یقینا ًبہت طاقتور کمیٹی ہے، لیکن یہ بات اہم ہے کہ امریکی پالیسی صرف کمیٹی کے گرد نہیں گھومتی بلکہ اور بھی کئی ادارے ہیں جو امریکی پالیسی پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ کئی لابیاں بھی بہت طاقتور ہیں جیسا کہ بھارتی اور اسرائیلی لابیاں، جو پالیسوں پر اثر انداز ہوتیں ہیں۔ تو جب تک آپ تما م سطحوں پر کام نہیں کریں گے امریکی پالیسی تبدیل نہیں ہوگی۔‘‘

ویڈیو دیکھیے 00:31

جان مکین کا دورہ شمالی وزیرستان


ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا، ’’شمالی وزیرستان لے جانے کا یہ مقصد ہو سکتا ہے کہ امریکی خود اپنی آنکھوں سے دیکھیں کہ پاکستان نے عسکریت پسندوں کے خلاف کتنی بھر پور کارروائی کی ہے اور پھر اس کی بنیاد پر واشنگٹن میں اسلام آباد کے لیے کوئی نرم گوشہ پیدا کیا جائے۔ لیکن میرے خیال میں اس سے امریکی پالیسی پر کوئی خاص اثر نہیں پڑے گا۔ ملا منصور کی ہلاکت اس بات کا واضح اشارہ ہے کہ امریکا افغانستان میں امن نہیں چاہتا کیونکہ اگر وہاں امن ہوگیا تو امریکا کو واپس جانا پڑے گا، جس سے اس کے طویل المدتی منصوبے متاثر ہوں گے۔ واشنگٹن افغانستان میں اپنی موجودگی برقرار رکھنا چاہتا ہے تاکہ وہ چین پر نظر رکھ سکے، وسطی ایشیاء کے قریب رہ سکے اور ایران کو بھی باور کراتا رہے کہ امریکی دور نہیں ہیں۔ امریکا سی پیک منصوبے کو بھی کامیاب ہوتا دیکھنا نہیں چاہتا کیونکہ اس سے چین کا اثر ورسوخ بڑھے گا ۔ امریکہ کی یہ حکمتِ عملی ہے کہ وہ بھارت کو خطے میں طاقتور کرے ۔ یہ سارے مقاصد صرف اس صورت ہی میں حاصل کیے جا سکتے ہیں، جب خطے میں امریکی موجودگی رہے۔ اس لیے میں اس دورے سے کچھ زیادہ پر امید نہیں ہوں۔‘‘

’’تعلقات کی بحالی میں وقت لگے گا‘‘


قائد اعظم یونیورسٹی کے شعبہ ء بین الاقوامی تعلقات سے منسلک ڈاکڑ فرحان حنیف صدیقی نے ڈی ڈبلیو کو بتایا، ’’کیپٹل ہل میں پاکستان کا امیج منفی انداز میں پیش کیا جارہا ہے، جس کی وجہ سے امریکا پاکستان کے خلاف سخت مؤقف اپنا رہا ہے۔ میرے خیال میں یہ دورہ اس امیج کو بہتر کرے گا اور اس کا حتمی مقصد پاکستان کی طرف امریکی پالیسی کو نرم کرنا ہے۔ کانگریس میں یہ اعتراض ہے کہ پاکستان دہشت گردی کے خلاف مؤثر طور پر نہیں لڑ رہا اور پاکستان نے امریکی سینیٹرز کے وفدکویہ دکھایا ہے کہ دہشت گردوں کے خلاف اس مشکل جنگ میں کس طرح پاکستان نے دہشت گردوں کے انفرا اسٹرکچر کو تباہ کیا ہے۔‘‘

مکین نے اتوار تین جولائی کو شمالی وزیرستان کا دورہ بھی کیا

مکین نے اتوار تین جولائی کو شمالی وزیرستان کا دورہ بھی کیا


ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا، ’’میرے خیال میں پاکستان اور امریکا کے درمیان کئی معاملات ہیں۔ پاکستان، افغانستان میں طالبان کے لیے ایک سیاسی کردار چاہتا ہے۔ امریکا بھی سیاسی کردار چاہتا ہے لیکن کھلے عام وہ اس کا اظہار کرنا نہیں چاہتے کیونکہ اِس سے اُس کو مشکلات ہوسکتی ہیں۔ یہ بھی ممکن ہے کہ اسلام آباد طالبان کے لیے زیادہ سیاسی کردار چاہتا ہو کیونکہ وہ پختونوں کی اکثریت کی نمائندگی کرتے ہیں، جب کہ امریکا طالبان کا افغانستان میں محدود سیاسی کردار چاہتا ہو۔ اس کے علاوہ بھارت کا افغانستان میں کردار، ایف سولہ کا مسئلہ اور این ایس جی بھی ان مسائل میں سے ہیں جو دونوں ممالک کے درمیان دوریاں پیدا کرنے کا باعث ہیں۔ لہذا ایک ملاقات یا دورے میں یہ مسائل حل نہیں ہوں گے، اس میں وقت لگے گا۔‘‘

Audios and videos on the topic